پاکستانتازہ ترین

طالبان کو دفتر کھولنے کی پیشکش کون کررہا ہے: سینٹ میں سوال

راو لپنڈی اسلام آباد (نامہ نگار رحیم عباسی): پاکستان کے وزیرمملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمٰن نے کہا ہے کہ نہ تو طالبان کو دفتر کھولنے کی پیشکش زیر غور ہے نہ ہی ایسا کوئی مطالبہ باضاطہ طور پر کیا گیا ہے۔یہ بات انہوں نے منگل کو ایوان بالا میں خیبر پختونخوا کے وزیر شوکت یوسف زئی کے اس بیان کے جواب میں کہی جس میں کہاگیا تھا کہ طالبان جب چاہیں خیبر پختونخوا کی حکومت انھیں دفتر کے لیے جگہ دینے کے لیے تیار ہے۔بلیغ الرحمٰن نے کہا کہ وفاقی حکومت طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت نھیں دے گی۔تاہم عوامی نیشنل پارٹی کا اصرار ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پحتونخوا حکومت سے طالبان کو دفتر کی پیشکش کرنے پر وضاحت طلب کرے۔اے این پی کے رہنما سینٹر زاہد خان نے ایوان بالا میں توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے پوچھا کہ ’بتایا جائے کہ طالبان کو دفتر کھولنے کی پیشکش کون کر رہا ہے اور وفاقی حکومت کا اس پر کیا موقف ہے؟ کیا یہ آئین اور قانون کے مخالف تو نھیں۔‘زاہد خان نے کہا کہ اے این پی وزیر مملکت کی وضاحت سے مطمئن نھیں ہیں۔ ’وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونحوا کو خط لکھیکہ آپ کے وزیر نے یہ بات کی ہے تو کیوں نہ اس کے خلاف ایکشن لیا جائے۔‘
یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پہلی بار یہ تجویز دی تھی کہ طالبان کو پاکستان میں دفتر کھولنے کی اجازت دینی چاہیے اور وہ متعدد بار اس تجویز کو دہرا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  این اے 122، ضمنی انتخاب،ایاز صادق کے کاغذات منظور،درخواستیں مسترد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker