تازہ ترینعلاقائی

چنیوٹ:محبت اورناجائز تعلقات سے انکارمہنگا ،سرکے بال مونڈھ ڈالے

چنیوٹ (بیورورپورٹ)محبت اور ناجائز تعلقات سے انکار مہنگا پڑا تگڑے اور بااثر عاشق نے محبوبہ اور اس کی سہیلی کو اغوا کے بعد عبرت کا نشان بناتے ہوئے پندرہ روز تک اپنے ڈیرہ میں قید رکھنے کے ساتھ ساتھ اجتماعی زیادتی اور سر کے بال مونڈھ دیے بااثر ملزم کے خلاف فوری طو پر مجھے انصاف فراہم کیا جائے چار بچوں کی ماں متاثرہ شہناز بی بی کی آہوں اور سسکیوں میں میڈیا سے گفتگو علاقہ زمیندار سے ناجائز تعلقات نہ بنانے کی پاداش میں دربار پر جاتیں خواتین اغواء تشدد کا بوتل میں نشہ آور اشیاء ملا کر زیادتی کرتے رہے اور سر کے بال مونڈ نے اور منہ کالا کرنے کے بعدبرہنہ حالت میں بھاگا دیا پولیس پندرہ دن سے تھانہ تعین کرنے میں مصروف مقدمہ درج نہ ہوسکابتایا گیا ہے کہ نواحی علاقہ کلری کے بااثر زمیندارنواز بھٹی کودریا کے دوسرے کنارے موضع مینگنی کی رہائشی کوثر بی بی پسند آئی اور اس نے کوثر سے ناجائز تعلقات بنانا چاہے جس کی کوثر نے مخالفت کی اور اسے گالیاں دے دیں پندرہ دن قبل جب کوثر اپنی ہی علاقہ کی رہائشی شہناز کے ہمراہ دربار پر جانے کے لیے دریاکراس کرکے کشتی سے اُتری تو عمران بھٹی نے اپنے ساتھیوں سمیت اسے اغواء کرلیا اور کلری کے علاقہ میں موجود اپنے ڈیرے پر لے گیا جہاں دونوں کو بوتل میں نشہ آور چیز پلا کر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے اور بعدازاں ان کے سر کے بال مشین سے مونڈ ڈالے اور ان کے جسم پر شراب پھینک کر انہیں برہنہ حالت میں منہ کالا کرکے ڈیرے سے بھاگا دیا تاہم سٹرک کنارے آکر کوثر اور شہناز نے کپڑے پہنے اور روتی دھوتی واپس اپنے گاؤں پہنچیں نواز بھٹی اور اس کے ساتھیوں نے انہیں تھانے میں مقدمہ درج کرانے یا تھانہ رابطہ کرنے پر ٹکڑے کرکے قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دیں واقعہ کی اطلاعات ڈی ایس پی بھوآنہ ، ایس ایچ او محمد والا ، ایس ایچ او بھوآنہ ، اور ڈی پی او کو بھی علاقائی لوگوں نے دی لیکن پولیس تھانہ محمد والا اور تھانہ بھوآنہ نے دریائی علاقہ کی وجہ سے ایک دوسرے تھانے کے علاقے کا عذر کرتے ہوئے تاحال مقدمہ درج نہیں کیا جس پر متاثرہ خواتین اور ان کے اہل خانہ کو ملزمان کے بااثر ہونے کا یقین ہوگیا اور دونوں اپنے گھروں سے بھاگ کر دریائی علاقوں میں ڈھاڑیوں میں چھی ہوئی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں  آزاد عدلیہ کی وجہ سے عہدے پر بحال ہوا ذکا ء اشرف

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker