تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:روہی نالے پرقائم گنداوزہریلا پانی چھوڑنے والی درجنوں فیکٹریوں کےخلاف تاحال کوئی کارروائی نہ ہوسکی

بھائی پھیرو(نامہ نگار) روہی نالے پرقائم گندا و زہریلا پانی چھوڑنے والی درجنوں فیکٹریوں کے خلاف اخبارات کی خبر پر فیکٹری مالکان سمیت حکومتی اداروں کا ری ایکشن، تاحال کوئی کارروائی نہ ہوسکی بلکہ اُلٹا گورنمنٹ مسجد مکتب سکول عملہ و اساتذہ زیر عتاب آگئے،محکمہ ماحولیات نوٹوں کی چمک سے خاموش،عوامی و سماجی تنظیموں کا ذمہ داران کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرنے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق۔بھائی پھیروکے قریب سے گزرنے والے روہی نالہ پر واقع درجنوں فیکٹریاں جن میں کیمیکل کی فیکٹری فارس لمیٹڈ، مردہ جانوروں سے چربی نکالنے و فیڈ بنانے والی مہر برادرز و دیگر فیکٹریاں اپنا کیمیکل زدہ اور زہریلا پانی اس میں ڈال رہی ہیں جس کے متعلق گزشتہ روزاخبارات میں نمایاں طور پر خبر شائع ہوئی تو فیکٹری مالکا ن سمیت حکومتی ادارے حرکت میں آ گئے اور مسجد مکتب سکول کے اساتذہ و موضع دیوکی کے رہائشیوں پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا کہ آپ لوگ ہمیں لکھ کر دیں کہ ہمیں ان فیکٹریوں سے کوئی پریشانی نہیں ہے جبکہ اس سلسلہ میں اساتذہ کرام و موضع دیوکی کے رہائشیوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم عرصہ دراز سے عذاب کی زندگی گزار رہے ہیں اور کوئی بھی ہمارا پرسان حال نہیں ہے کیونکہ ہم غریب لوگ ہیں اور ہماری کوئی سنتا ہی نہیں ہے جبکہ ہم نے بڑوں بڑوں کے دروازے کھٹکھٹائے مگر کوئی محکمہ بھی ہماری بات سننے کو تیار نہیں ) یادرہے کہ اس روہی نالے کا زہریلا پانی پنجاب کے 13اضلاع کو سیراب کرنے والی بڑی نہربی ایس لنک کینال میں گرا یا جارہاہے جس سے پنجاب کے13اضلاع قصور،اوکاڑہ،وہاڑی،پاکپتن،بہاولنگر،بہاولپور،رحیم یارخاں سمیت دیگراضلاع کی لاکھوں ایکڑ اراضی سیراب ہورہی ہے اور کئی اضلاع کے لوگ اسی نہر کا پانی پینے کیلیے استعمال کررہے ہیں اور اس زہریلے پانی سے جہاں پرہزاروں ایکڑ اراضی بنجر بن رہی ہے وہیں پرہزاروں انسان او رحیوان گندا پانی پینے سے طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوکر زندہ لاشیں بن چکے ہیں جبکہ محکمہ انہار اور محکمہ ماحولیات کے قانون کے مطابق دریاؤں اور نہروں میں گندہ پانی گرانا جرم ہے مگر یہاں پر قابل افسوس بات یہ ہے کہ13اضلاع کے انسانوں،حیوانوں اور زمینوں کیلیے خطرہ بننے والی فیکٹریوں کے خلاف تاحال کوئی کاروائی عمل میں نہ آسکی بلکہ اُلٹا مسجد مکتب سکول کا عملہ و اساتذہ فیکٹری مالکان و حکومتی اداروں کے زیر عتاب آگئے جبکہ محکمہ ماحولیات و دیگر محکمے صرف پیسے بنانے کے چکر میں عوام کی زندگیوں سے کھیلنے والی فیکٹریوں سے صرف اور صرف نذرانے وصول کرتے ہیں جبکہ مقامی فیکٹریوں کی طرف سے گندا اور زہریلا پانی زیر زمین ڈالنے کی وجہ سے پھولنگر سمیت گردونواح اور خصوصن موضع: دیو کی :کا زیر زمین پانی اس قدر زہریلاہو چکا ہے کہ جس کی وجہ سے بچوں، بوڑھوں،جوانوں اور عورتوں کے دانت ،پیٹ خراب اور ہڈیاں ٹیڑھی ہو چکی ہیں اور اکثر افراد نوجوانی میں ہی بوڑھے لگنے لگے ہیں آخر میں مسجد مکتب سکول دیوکی کے ٹیچروں طالب حسین اور محمد شفیع بھٹہ نے بتایا کہ مردہ جانوروں سے چربی و فیڈ بنانے والی اور تیزاب فیکٹری کی بد بو سے گاؤں والوں اور سکول کے بچوں کی زندگیاں عذاب بن چکی ہیں اور طرح طرح کی بیماریاں لوگوں اور بچوں کو لگ چکی ہیں جبکہ بد بو کی وجہ سے اکثر بچے بیمار رہتے ہیں اور سکوں کی حا ضری بہت کم رہتی ہے ۔کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات حاجی محمد رمضان اور عوامی و سماجی تنظیموں نے اعلیٰ حکام اور چیف جسٹس آف پاکستان سے شہر وگردونواح کے دیہاتوں کا زیر زمین پانی گندا کرنے والی فیکٹری مالکان اور متعلقہ محکموں کے نا اہل افسران کے خلاف فوری طور پر کارروائی کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان فیکٹریوں کو فوری طور پر بند کروایا جائے

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ:دوران ڈلیوری خاتون کوغلط خون اورانجکشن لگاکراُس کےجڑواں بچوں کوہلاک کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker