تازہ ترینعلاقائی

کسان بورڈ پاکستان کاخالی آسامیاں پُرکرنے کا مطالبہ

بھائی پھیرو(نامہ نگار) حکمرانوں کی محکمہ زراعت سے عدم دلچسپی ۔سولہ سال سے زراعت انسپکٹر سے سات آ سامیاں خالی ۔ بیس بیلداروں اور دو کلرکوں کی آ سامیاں بھی پُر نہ ہو سکیں ۔پانچ جگہ پر زراعت آ فیسر تعینات نہ ہونے سے کاشتکار مفید مشوروں سے محروم ۔کسان بورڈ پاکستان کی طرف سے آسامیاں پُرکرنے کا مطالبہ ۔ تفصیلات کے مطابق کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات حاجی محمد رمضان نے اپنے دفتر سے جاری پریس ریلیز میں انکشاف کیا ہے کہ ضلع قصور میں محکمہ زراعت زبوں حالی کا شکار ہے ۔اور حکمرانوں کی عدم دلچسپی اور بے حسی کی وجہ سے ضلع بھر میں سولہ سال سے مصطفی آ باد ، قصور ، گنڈھا سنگھ والا ، کھڈیاں خاص ، کنگن پور ، چونیاں بھائی پھیرو میں زراعت انسپکٹروں کی سات آ سامیاں خالی چلی آ رہیں ہیں ۔ اس کے علاوہ ضلع بھر میں فیلڈ میں کام کرنے والوں بیلداروں کی بیس اور کلرکوں کی دو آسامیاں خالی پڑی ہیں ۔ضلع بھر کے زراعت کے پانچ مقامات مصطفی آ باد ، چونیاں ، کنگن پور ،پتوکی اور کوٹ رادھا کشن میں زراعت آ فیسر ہی موجود نہیں ہیں اور پتوکی میں کاٹن انسپکٹر کی سیٹ بھی خالی پڑی ہے ۔ محکمہ زراعت نے عملہ کی کمی کی وجہ سے ضلع بھر کے لاکھوں کسان زراعت کے بارے مفید مشوروں سے محروم ہو چکے ہیں ۔ اورضلع میں زرعی فصلوں کی پیداوار میں کمی واقع ہو چکی ہے ۔ بیماریوں اور کیڑے مکوڑوں کے فصلوں پر حملے کی صورت میں کسان زرعی ادویات کے ان پڑھ اور نا اہل ڈیلروں کے مشوروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں ۔ جو انہیں منافع کمانے کے چکر میں دو نمبر اور غلط ادویات استعمال کرا کے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں ۔ عملہ کی کمی کی وجہ سے ضلع بھر میں جعلی زرعی ادویات اور جعلی کھادوں کا استعمال روز کا معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے منافع خور کسانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔ حاجی محمد رمضان نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع قصور میں خالی آ سامیوں پر عملہ بھرتی کر کے ضلع بھر کے کسانوں کو جعلی زرعی ادویات اور کھادیں بیچنے والوں کے چنگل سے نجات دلائی جائے اور ضلع بھر میں بے روز گار لاکھوں نوجوانوں کو روزگار مہیا کیا جائے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button