تازہ ترینعلاقائی

عوامی تحریک کے کارکنوں سے اسلحہ برآمد ہوا : سی سی پی او لاہور

لاہور(نامہ نگار)منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر اور اندر پولیس اور مظاہرین میں تصادم کے نتیجے میں خواتین سمیت 8افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ پولیس اہل کاروں سمیت 80سےزائد افراد زخمی ہوگئے۔سی سی پی او لاہور کا کہنا کہ پولیس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی، سیکریٹریٹ سے ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔لاہورپولیس کاتحریک ِ منہاج القرآن سیکریٹریٹ کےگرد رکاوٹیں ہٹانے کاآپریشن خونی شکل اختیارکرگیا، رکاوٹیں تو ہٹا دی گئیں مگر اس دوران ہونےوالےخوفناک تصادم میں 2خواتین سمیت8افراد جان سےگئے۔75سےزائدزخمی بھی اسپتال لائےگئےہیں۔ منہاج القرآن سیکریٹریٹ اور ڈاکٹرطاہر القادری کی رہائش گاہ کےباہر رکاوٹیں ہٹانےکاآپریشن مکمل ہوگیا۔ رات ڈھائی بجےسے ایک بجےدوپہرتک ماڈل ٹاؤن کا علاقہ میدانِ جنگ بنا رہا۔ پولیس اہلکاروں کو بلڈوزرز،کرینوں اور ہیوی مشینری کی مدد حاصل تھی۔منہاج القرآن کے کارکنوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے۔ پولیس نے منتشر کرنےکیلئے بار بار شیلنگ کی، ڈنڈا بردار کارکن مشتعل ہوکر پتھراؤ کرتے رہے۔ پولیس رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کرتی تو جھڑپ شروع ہو جاتی۔ اس دوران فائرنگ بھی کی جاتی رہی۔ ڈی سی او محمد عثمان اور ڈی آئی جی آپریشن رانا جبار کے مذاکرات بھی ناکام رہے۔ آپریشن رُکا، نہ کارکن پیچھے ہٹے۔ سر پھٹول شروع ہوا تو دونوں اطراف سے خون گِرنے لگا۔ کارکن مشتعل ہوئے تو پولیس والے بھی جذباتی ہو گئے۔ پھر حالات قابو میں آگئے، آپریشن مکمل ہوا، رکاوٹیں بھی دور ہو گئیں، مگر جناح اسپتال لاشوں اور زخمیوں سےبھر گیا، ہر طرف خوف ہی خوف، اسپتال انتظامیہ نےڈاکٹروں اور نرسوں کو طلب کر لیا، گڑبڑسے بچنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری بھی اسپتال میں موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں  سعودیہ ایران کی کشیدگی اور پاکستان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker