تازہ ترینعلاقائی

ٹیکسلا:شادی شدہ خاتون کے ساتھ گیارہ افراد کی اجتماعی زیادتی کا کیس نیا رخ اختیارکرگیا

ٹیکسلا (ڈاکٹر سید صابر علی / نا مہ نگار)تھانہ واہ کینٹ صدر کی حدود میں بیس سالہ شادی شدہ خاتون کے ساتھ گیارہ افراد کی اجتماعی زیادتی کا کیس نیا رخ اختیار کرگیا،انسانی حقوق کی تنظیمیں متحرک ، عدالت میں خاتون کی جانب سے پولیس کی جانبداری اور انصاف میں حائل رکاوٹوں کے خلاف 22 اے کی درخواست دائر،پولیس نے محض کاروائی کرتے ہوئے چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ، ایف آئی آر میں حقائق مسخ کردیئے گئے، متاثرہ خاتون کی انصاف کے حصول کے لئے عدالت میں دھائی ،سائلہ کی جانب سے ایڈشنل سیشن جج ٹیکسلا کی عدالت میں22 اے کے تحت درخواست ، وکلاء کا متاثرہ خاتون سے اظہار یکجہتی طاہر محمود راجہ ایڈووکیٹ اور مرادشاہ ایڈووکیٹ نے مفت قانونی معاونت فراہم کردی،عدالت نے بدھ کے روز پولیس کو جواب طلبی کے لئے عدالت طلب کرلیا،گیارہ افراد نے مسلسل تین روز تک زیادتی کی،تشدد کیا،ویڈیو اور تصاویر بنائیں، منہ کھولنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں ، پولیس نے بھی زیادتی کرنے کی کوشش کی لیڈی پولیس کانسٹیبل کے زریعے رات بھر تشدد کیا گیا،ایف آئی آر میں ملزمان کی جان خلاصی کے لئے کیس سے مطابقت رکھنے والی اہم دفعات ختم کردی گئیں، بااثر افراد سے جان خطرہ ہے پولیس تحفظ فراہم نہیں کر رہی ، میڈیکل بھی صحیح سمت میں نہیں کیا گیا ، جسم پر تشدد کے نشانات کو مانیٹر نہیں کیا گیا انصاف نہ ملا تو خود سوزی کرونگی ،مجھے انصاف دلایا جائے متاثرہ خاتون کا عدالت میں موقف میڈیا سے گفتگو،تفصیلات کے مطابق ٹیکسلا کی رہائشی اقراء بی بی خاتون کو گن پوائنٹ پر اغواء کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر رکھ کر درندہ صفت افرا تین روزتک عزت لوٹتے رہے جنسی حوس کا نشانہ بنانے کے بعد نیم بے ہوش خاتون کو ہاتھ پاؤں باندھ کر برہنہ حالت میں جی ٹی روڈ واہ کینٹ کے قریب پھینک کر فرار ہوگئے، خاتون کو مسلسل نشہ آور اشیاء دی گئیں جس سے اسکی حالت غیر ہوگئی ،پولیس واقعہ سے لا علمی کا اظہار کیا اور خاتون کو رات بھرتھانہ میں رکھ کر گھر چھوڑ دیا ، پولیس اہلکاروں کی جانب سے بھی اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور زیادتی کی کوشش کی گئی جبکہ معاملہ کو رفع دفع کرنے کے لئے سخت دباؤ ڈالا گیا، خاتون کی میڈیا سے گفتگو پولیس نے معاملہ پوشیدہ رکھنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا میڈیا کو بھی مسلسل بیوقوف بنایا گیا ،ایف آئی آر میں مین دفعات شامل نہیں کی گئیں وکلاء کی مقدمہ کے اندراج پر ماہرانہ رائے ، میڈیکل میں تاخیری حربے اختیار کرنے کا بنیادی مقصد بھی شواہد کوثبوتاژ کرنا تھا ، متاثرہ خاتون داد رسی کے لئے وکیل کے پاس پہنچ گئی ، میڈیا حق کی آو از بلند کرتے ہوئے حقائق منظر عام پر لے آئی ، پولیس کی ملزمان کے ساتھ ملی بھگت آشکار ہوگئی ، پولیس حراست میں لینے کے باوجود پولیس نے نیم بے ہوش خاتون کا میڈیکل کرانا بھی گوارہ نہ کیا اور نہ ہی کوئی قانونی کاروائی کی، میڈیا کے پولیس افسران سے بار بار استفسار اور دباؤ پر پولیس نے ایک روز بعدخاتون کی درخواست پر ایف آئی آر کا اندراج کر لیا ،چار ملزمان ایف آئی آر میں نامزد ،واقعہ 27 دسمبر کی رات ساڑھے سات بجے کے قریب پیش آیا آیف آئی آر دوسرے روز 24 گھنٹے گذرنے کے بعد درج کی گئی،معاملہ کی مکمل انکوائری ہونی چاہئے ، اور اثرو رسوخ کے حامل ملزمان کے ساتھ ساز باز ملی بھگت میں ملوث پولیس افسران و اہلکاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے دانستہ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا،عوامی حلقوں کا سنگین واقعہ پر ردعمل ،انصاف کے حصول میں دشواری متاثرہ خاتون نے عدالت کا دروازہ کھڑکھڑا دیا، وکیل مرادشاہ ، طاہر محمود راجہ ایڈووکیٹ کی جانب سے مفت قانونی معاونت 22A تحت درخواست جمع کردای،عدالت پولیس کو آج طلب کرلیا ،سائلہ نے درخواست میں میں موقف اختیار کیا کہ اسکے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا گیا،زنا بالجبر کیا گیا، تین روز تک حبس بے جا میں رکھاگیا،تشدد روا رکھا گیا،پولیس نے ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی بجائے لیڈی کانسٹیبل کے زریعے اس پر رات بھر تشدد روا رکھا،جبکہ پولیس اہلکاروں نے بھی زیادتی کرنے کی کوشش کی،جبکہ پولیس نے چوبیس گھنٹوں بعد مقدمہ درج کیا جس میں اہم دفعات ختم کردی گئیں،جسم پر تشدد کے حوالے سے میڈیکل نہ کیا گیا،سائلہ کے بیان کے مطابق ایف آئی آر کا اندراج نہ کیا گیا،پولیس نے میڈیکل میں تاخیری حربے اختیار کئے اور میڈیکل درست سمت میں نہ کیا گیا، ایڈیشنل سیشن جج ٹیکسلا کی عدالت نے 22 اے کی درخواست پر آج 31 دسمبر کو پولیس کو عدالت میں طلب کرلیا،تفصیلات کے مطابق ٹیکسلا کے علاقہ جیون روڈ کی رہائشی بیس سالہ شادہ شدہ خاتون اقراء بی بی زوجہ یاسر محمود کو چار روز قبل ٹیکسلا کے علاقہ سے چار افراد نے گن پوائنٹ پر کیری ڈبہ میں بٹھایا اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر نامعلوم مقام پر لے گئے جبکہ خاتون کے مطابق وہاں نو افراد نے اسکے ساتھ مبینہ زیادتی کی یہ سلسلہ تین روز تک جاری رہا بعدازاں اسے دیگر دو ساتھیوں کے حوالے کیا جنہوں نے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اسے27 دسمبر کی رات ساڑھے سات بجے کے قریب باہتر موڑ جی ٹی روڈ کے قریب ہاتھ پاؤں باندھ کر اور مکمل طور پر برہنہ کر کے پھینک دیا جس کء بعد وہاں لوگوں کا جم غفیر اکٹھا ہوگیا جنہوں نے برہنہ خاتون کے جسم کو ڈھانپا اس دوران پولیس کو واقعہ کی طلاع دی گئی جس پر ڈیوٹی افسر ایس آئی محمد خان موقع پر پہنچ گیا اور خاتون کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر تھانے لے گیا ،رات بھر اسے تھانہ میں رکھنے کے بعد اسکے گھر چھوڑ دیا گیا جبکہ اس بابت جب میڈیا نے تفصیلات معلوم کرناچاہئیں تو ایس آئی محمد خان جو موقع سے لڑکی کو لیکر آیا واقعہ سے مکمل طور پر منحرف ہوگیا اور کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا جبکہ یاس ایچ او ثنا اللہ خان کا کہنا تھا کہ اسے واقعہ کا علم نہیں ڈی ایس پی سلم خٹک سے تفصیلات جاننے کے لئے بار ہا رابطہ کیا گیا مگرچ موصوف نے فون اٹینڈ نہیں کیا ،ایس آئی کبھی کہتا تھا کہ شوہر اور بیوی کا معاملہ تھا کبھی واقعہ ہوا ہی نہیں کی گردان کرتا تھا ، ادہر پولیس کی جانب سے انصاف نہ ملنے پر خاتون مقامی وکیل کے پاس دادرسی کے لئے پہنچ گئی جہاں اس نے میڈیا کو تمام واقعات سے آگاہ کیا ،خاتون نے بتایا کہ وہ شادی شدہ ہے اسکا خاوند فوج میں ملازم ہے اسکے ساتھ زیادتی ہوئی اسکی برہنہ ویڈو بنائی گئیں فوٹو بنائی گئی اور دھکمی دی گئی کہ اگر منہ کھولا تو تمھیں جان سے مار دیں گے ، خاتون کے مطابق وہ باقی لوگوں کو نہیں جانتی تاہم گاڑی میں موجود چار افراد جنہوں نے گن پوائنٹ پر اغواء کیا تھا دوران سفر وہ ایک دوسرے کا نام لیتے رہئے جس کے مطابق ایک قیوم ،دوسرا ملک جھلا، تیسرا یاسر اور چوتھا شخص اسحاق تھا ، جبکہ باقی لوگوں کووہ سامنے آنے بپر پہچان سکتی ہے خاتون نے بتایا کہ اسے نشہ آور اشیاء دیکرڈیرہ پر موجود نو افراد مسلسل زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ، دو دن دو راتیں مجھے حبس بے جا میں رکھا گیا ، باہر جاتے تھے تو میرے ہاتھ پاؤں باندھ دیتے تھے ،اسکا کہنا تھا کہ اسکی حالت غیر ہوچکی تھی مگر درندہ صفت لوگوں کو زرا بھر ترس نہ آیا ، ادہر جب میڈیانے اس معاملہ کو حق اور سچ کی آوز بن کر اٹھانا چاہا تو انھیں پولیس کی جانب سے مسلسل گمراہ کیا گیا ،خبروں کی اشاعت کا ڈر پولیس نے اگلے روز 24 گھنٹوں کے بعد خاتون کی درخواست پر واقعہ میں ملوث ملزمان کے خلاف زیر دفعہ 496 A اور376(2)کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ، قانونی ماہرین کے مطابق پولیس نے مقدمہ کے اندراج میں بھی مقدمہ سے مطابقت رکھنے والی دفعات کو نظر انداز کیا ، ادہر 28 دسبر کو رات سات بجے کے قریب جبکہ متاثرہ خاتون تھانہ میں موجود تھی اور ڈی ایس پی ایس ایچ او اسکے بیانات لے رہے تھے تو میڈیا کی تھانہ آمد پر ایس ایچ او تھانہ صدرواہ کینٹ ثنا اللہ خان نیازی دفتر سے باہر آئے اور کہا کہ ابھی خاتون سے پوچھ گچھ ہورہی ہے آپ تھوڑا انتظار کرو ان سے پوچھا گیا کہ کل کی تاریخ میں میڈیکل اور دیگر قانونی معاملات حل کیوں نہ کیے گئے تو موصوف نے جواب دیا کہ کل خاتون ہوش میں نہ تھی ، جس سے خود انکے بیانکی تردید ہوگئی جس میں انھوں نے اگلے روز میڈیا کے فون کرنے پر بتایا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ سر ے سے پیش ہی نہیںآیا،جبکہ ایس آئی محمد خان بھی فوری راہے راست پر آگیا اور کہا کہ اصل میں معاملہ کچھ اور تھا اس لئے میڈیا کو نہیں بتایا،جبکہ موصوف نے بھی واقعہ کے روز سنگین واقعہ رونما ہونے سے صاف انکار کیا تھا،جس سے طاہر ہوتا ہے کہ کچھ دال میں کالا ضرور ہے ،جبکہ ایف آئی آر کے اندراج کے باجود تاحال پولیس نے نامزد ملزمان کو گرفتار نہ کیا ،خاتون کا کہنا ہے کہ اسے جان کا خطرہ ہے اسے بااثر ملزمان سے تحفظ فراہم کیا جائے ، خاتون نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ،چیف جسٹس سپریم کورٹ ، پولیس کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے،ادہر عوامی حلقوں کی جانب سے بھی پولیس کی مجرمانہ غفلت اور بے حسی اور تاخیری حربوں پر انکے خلاف بھی محکمانہ کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے ،

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button