پاکستانتازہ ترین

آرمی ایکٹ 1952 اور اکیس ویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش

اسلام آباد ( بیوروچیف) قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ 1952 اور 21 ویں ترمیم کا بل پیش کر دیا گیا ہے جسے پیر کے روز منظور کر لیا جائے گا۔اس بل کے مطابق فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت 2 سال ہو گی تاہم دو سال بعد بل کے تحت کیے گئے تمام اقدامات ختم ہو جائیں گے۔جبکہ دو سال بعد یہ عدالتیں بھی ختم ہو جائیں گی۔وزیر قانون پرویز رشید کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ بل میں واضح کیا گیا ہے کہ مذہب کے نام پر فوج سے جنگ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے جبکہ پاکستان کے خلاف جنگ لڑنے والوں کو بھی انہی عدالتوں میں سزا دی جائے گی۔بل میں واضح کیا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہلکاروں پر حملہ کرنے والوں کو بھی سزا دی جائے گی تاہم فوج اپنی مرضی سے مقدمات نہیں چلا سکے گی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button