تازہ ترینعلاقائی

ڈیرہ غازیخان:ایم سی پرائمری سکول نمبر3 میں یونائیٹڈ ٹیچرزفرنٹ کا ہنگامی اجلاس

dgkhanڈیرہ غازیخان (جنید ملک سے) ایم سی پرائمری سکول نمبر3 ڈیرہ غازیخان میں یونائیٹڈ ٹیچرز فرنٹ کا ہنگامی اجلاس بلا یا گیا ۔ جسمیں ریاض حسین خا ن ملغانی محمد یعقوب خان سکھانی رحمت اﷲ قریشی، حافظ حضور بخش ، حاجی فیض محمد کھوسہ ، اعجاز اختر قیصرانی، حافظ ہاشم بزدار، قاضی نعمت اﷲ ، عبدالعزیز تونسوی، ملک بشیر احمد، ندیم اقبال ڈھانڈلہ ، نذیر حسین لنڈ، عاشق حسین بزدار ، خالد مصطفی کھوسہ ملک شوکت حسین امتیاز حسین کلاچی عبدالجبار انصاری فیاض حسین جتوئی، فیاض احمد بزدار ، محمد اسحاق ساقی سمیت دیگر اساتذہ کرام نے شرکت کی ، اجلاس میں چودہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا۔ جسے متفقہ طور پر کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ا جلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر یو ٹی ایف ریاض حسین خان ملغانی نے کہا کہ بد قسمتی سے محکمہ تعلیم کو تجربات ساز فیکٹری بنادیا گیا ہے ہر روز کے نئے نئے تجربات کی وجہ سے معیار تعلیم برباد ہو تا جا رہا ہے۔ ٹیچرز برادری حیران و پریشان ہے۔ ایجوکیشن کے پالیسی ساز لوگ حد درجہ نا اہل ہیں۔ کبھی ٹیچرز پر آرمی کے ریٹائرڈ لوگ مسلط کیے جاتے ہیں تو کبھی اے ای اوز کبھی ڈی ٹیز کبھی ڈی سی اوز کبھی وزیر اعلیٰ مانیٹرنگ کبھی خانہ شماری کبھی مردم شماری کبھی پولیو ڈیوٹی کبھی امتحانی ڈیوٹی آخر کیوں ٹیچرز کو مذاق بنا دیا گیا ہے ہم اعلان کرتے ہین کہ ہماری ٹیچرز برادری کوئی بھی طرح کی غیر تدریسی ڈیوٹی انجام نہ دے گی۔ ہم صرف اور صرف شعبہ تدریسی پر محدود رہیں گے۔ غیر محدود اختیارات کا اعلان کرنے والے اقتدار کے نشہ میں بد مست لوگ سن لیں کہ ٹیچرز برادری کرپٹ نہیں بلکہ ملکی سرحدوں کی محافظ و امین ہے سیاستدان ہوں وزرأ ہوں یا مشیران کی فوج ظفر موج ہمارے ایک سوال کا جواب دیں کہ سب کا غصہ محکمہ تعلیم پر کیوں نکلتا ہے سب کو ٹیچرز ہی کیوں کرپٹ نظر آتے ہیں ۔ آرمی عدلیہ مقننہ محکمہ مال پولیس صحت محکمہ آبپاشی سب محکموں میں فرشتے کام کرتے ہیں ان تمام اداروں میں کرپشن کیوں نظر نہیں آتی ان پر سختی کیوں نہیں ہوتی کیونکہ اقتدار والوں کو ان محکموں سے کمیشن ملتا ہے ، اجلاس میں شریک تمام عہدیداران و ٹیچرز نے کہا کہ سیکرٹری ایجوکیشن ، پنجاب ۔ ڈی سی او ڈیرہ غازیخان سکول کھلنے سے پہلے ہمارے چودہ نکات منظور کریں، ورنہ ہم تعلیمی ادارے بند کرکے سڑکوں پر اس وقت تک دھرنا دیں گے۔ جب ہمارے مطالبات منظور نہ ہونگے۔
(1) اتفاقیہ چھٹی پر ناجائز پابندی ختم (2) اے ای اوز کے ٹی اے بل کی فور ادائیگی (3) کرپٹ ایم ایز کے کہنے پر اے ای او مرکز کھرکی معطلی فوری واپس لیجائے۔ (4) بلدیہ کے سکولوں کی خالی پوسٹوں پر فوری اساتذہ کی تعیناتی۔ (5)ایم سی سکول نمبر8 کی عمارت سے فوری بک ڈپو ہٹا کر کہیں اور شفٹ کیا جائے۔(6) ایم سی سکول نمبر8 سے این جی او کا دفتر ختم کرایا جائے۔(7) ایم سی سکول نمبر2 کو مکمل طور پر بک ڈپو بنا دیا گیا۔ جس سے بچے زیر تعلیم سے محروم ہیں ، ڈپو ختم کیا جائے۔(8)اتفاقیہ چھٹی کی منظوری کا حق مقامی ہیڈز کو دیا جائے۔ (9) 75اساتذہ کرام کی ضبط کردہ سالانہ ترقیاں بحال کی جائیں۔ (10)امتحانی ڈیوٹیاں ادا کرنے والے اساتذہ کی معطلیاں ختم کی جائیں۔ (11)زنانہ /مردانہ اداروں کا ادغام قابل مذمت ہے ختم کیا جائے۔ (12) ان سروس پروموشنز اور ٹیچر پیکج التوا کا شکار ہیں فوری عملدرآمد کیا جائے۔ (13)سٹی بوائز پرائمری سکول کے ٹیچر ملک شہزاد پر لگائے گئے الزامات اور معطلی ختم کیے جائیں۔ (14) U/Pسروے ٹیچر ز کی بجائے محکمہ مال یا کسی این جی او ز کے ذریعے کروایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  الطاف بھائی ۔۔۔۔ہِک منٹ نبھا پتہ لگ ویندے !

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker