بین الاقوامیتازہ ترین

پاکستان ایسوی ایشن کے زیرِ اہتمام ’’پاکستان امارات دوستی مشاعرہ ‘‘ کا انعقاد کیا گیا

دبئی (رپورٹ : حسیب اعجاز عاشر)پاکستان ایسوسی ایشن دبئی امارات میں پاکستان اور اہلِ پاکستان کے تشخص کو فروغ دینے، باہمی تعاون سے اپنی کمیونٹی کے جملہ مسائل کا حل فراہم کرنے، بچوں اور نوجوانوں کو اپنی شاندار روایات واعلی اقدارسے روشناس کرانے،معاشرے کی اصلاح و ترقی میں خواتین کو بھرپور کردار ادا کرانے اور باہمی محبت و اخوت کے فروغ کیلئے قومی اور مذہبی تہواروں پے دلچسپ تفریحی و معلوماتی ایونٹس پر کمیونٹی کو ایک پلیٹ فورم پے یک جہ کرنے کے علاوہ اماراتی اور پاکستانی کمیونٹی کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مستحکم کرنے میں بھی اپنا بڑا فعال کردا ر کر رہی ہے، اِسی برادرانہ تعلقات کو پروان چڑھانے کے لئے پاکستان ایسوسی ایشن دبئی نے روایت کو برقرار رکھتے ہوئے امارات کے ۲ دسمبر کے نیشنل ڈے کے حوالے سے مہینہ بھر رہنے والی اپنی رنگ برنگی پُروقار تقاریب کا آغاز’’پاک امارات دوستی مشاعرہ‘‘ کے انعقاد سے کردیا ہے۔ظہورالاسلام جاوید کے زیرِ صدارت ’’پاک امارات دوستی مشاعرہ‘‘ میں اسٹریلیا سے معروف ادیب و شاعر اشرف شاد کو خصوصی طور پر مدوح کیا گیا،اشرف شاد کا خاندانی نام مرزا اشرف علی بیگ ہے،گریجویشن کراچی یونیورسٹی سے جبکہ اعلی تعلیم اسٹریلیا اور ہنگری سے حاصل کی ،انہیں پاکستان اور اسٹریلیا کی دوہری شہریت حاصل ہے،انکی تصانیف میں صدرِ محترم، وزیراعظم، بے وطن، پیلی لکیر، آمرے قریب آ، نصاب، شعرائے آسٹریلیاشامل ہیں جبکہ ’’عظیم ادیبوں کی محبتیں‘‘ اشاعت کے آخری مراحل میں ہے، انکے اعزازات میں بہترین ناول کا وزیرِاعظم ادبی ایوارڈ، نشانِ اردو، آسٹریلوی ملٹی کلچرازم کے فروغ کے لئے خدمات انجام دینے پر ایوراڈ سمیت کئی شامل ہیں بے شمار ملکی ،غیرملکی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ رہے ہیں،متحدہ عرب امارات میں تقریباً نو سال ایڈیٹر ریسرچ افئیرز اور ریسرچ نیوزکی حثیت سے یواے ای یونیورسٹی،العین میں اپنی خدمات بھی سرانجام بھی دے چکے ہیں۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے’’ایک عمر کی مہلت‘‘ کے مصنف نامور شاعر افضل خان ،مجموعہ کلام ’’ارادہ‘‘ کے تخلیق کار پاکستان اکیڈمک آف لیٹر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی یاسر اور پیڈ کی متحرک اور قد آور شخصیت طارق رحمان نے مہمانانِ اعزازی کی حثیت سے شرکت کی۔تقریب دو حصہ پر مشتمل تھی، حصہ اول میں اشرف شاد کی چار کتابوں ’’احمدفراز بقلم خود‘‘، ’’اخبارِ عشق‘‘، ’’سیاستیں کیا کیا؟‘‘ اور ’’اشرف شاد ‘‘ کی رونمائی عمل میں لائی گئی اور اِنکی شخصیت اور فن کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا گیا ،تقریب کے حصہ دوئم میں شعرا کرام جن میں ظہورالاسلام جاوید، اشرف شاد، ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی،افضل خان، علی یاسر، ثروت زہرہ، یعقوب عنقاء، مقصود احمد تبسم، حفیظ عامر،سلمان جازب، آصف رشید اسجد، فرہاد جبریل، کنول ملک، ڈاکٹر محی الدین غازی، زینت لکھانی، سید تابش زیدی، نیئر نیناں اور زاہد علی درویش شامل تھے اپنا خوبصورت کلام پیش کیا جسے باذوق سامعین نے بہت پسند کیا اور بھرپور داد دی
تقریب کے حصہ اول میں تعارف و نظامت کے لئے سلیمان جاذب نے اپنی خدمات حسبِ روایت نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیں اور صدر محفل ظہورالاسلام جاوید،مہمانِ خصوصی اشرف شاداور مہمانانِ اعزازی طارق رحمان،علی یاسر،افضل خان اورطاہر زیدی کے ہمراہ ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کوبھی سٹیج پر مدوح کیا۔اظہر عالم نے تلاوتِ قرآنِ پاک کی سعادت حاصل کر کے تقریب کا باضابطہ و بابرکت آغاز کیا جبکہ ڈاکٹر اکرم شہزاد نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ ’’’جو بحرِ سخی ہے کرم ہی کرم ہے۔۔وہ آقا میرا ہے کرم ہی کرم ہے‘‘ پیش کر کے باذوق سماعتوں کو مسحور کرتے ہوئے خوب داد و تحسین کمائی۔پیڈ کے جوائنٹ سیکریٹری طاہر زیدی نے اپنے ابتدائیہ کلمات میں تمام شرکاء کرام کا تہہ دل سے استقبال کیا۔امارت کے نیشنل ڈے کے حوالے سے پیڈ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ہونے والیں تقریبات کی حوالے سے کہا کہ ’’پاک امارت دوستی مشاعرہ‘‘ اِس کا سلسلہِ آغاز ہے جبکہ دیگر تقریبات میں سپوٹس فیسٹیول، سی ڈی اے کے تعاون سے تعلیمی پروگرام، مینا بازار، فوڈ فیسٹول، فری میڈیکل کیمپ، میڈیکل لیکچرز، اظہارِ یک جہتی واک شامل ہیں ،کمیونٹی اور میڈیا کے تعاون سے ہمیں ایسی تقریبات کے انعقاد سے پاکستان کا مثبت پہلو اُجاگر کرتے رہیں گے انشا ء اللہ تعالی۔تالیوں کی گونج میں اشرف شاد کی چار کتابوں کی رونمائی عمل میں لائی گئی ،جسکے لئے ظہورالاسلام جاوید، ڈاکٹر عاصم واسطی،طاہر زیدی، طارق رحمان،ارشد ملک، پرنس اقبال اور مقبول الاسلام اورکزائی نے حصہ لیا،اس موقع پر اشرف شادنے مہمانانِ اعزازی اور منتظمینِ محفل کو ااپنی تخلیقات کے تحائف بھی پیش کئے مہمان اعزازی طارق رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے اشرف شاد کو چار کتابوں کی رونمائی پر مبارکباد پیش کی اور اشرف شاد کی تخلیقات کو نئی نسل کے لئے مشعل راہ بھی قرار دیا۔انہوں نے کہا ہمیں اور ہماری نسلوں کو اشرف شاد جیسے دانشوروں کی ضرورت ہے،انہوں نے بحثیت صحافی، براڈکاسٹر، ادیب، شاعر،سیاسی کارکن اور سماجی معاملات سمیت میں ہر میدان میں اپنی کامیابی کا لوہا منوایا ہے۔انکی کامیابیوں کی طویل سفر میں برکت کا پہلو موجود ہے۔اِ ن کی تحریروں سے نعرہ حق بلند کرنے اور حقوق کے لئے قربانیاں دینے کا درس ملتا ہے۔یہ سچ کہنا سچ لکھنا اور سچ پے ہی ڈٹے رہنا با خوبی جانتے ہیں ہم اِنکی لمبی زندگی اور مزید کامیابیوں کے تہہ دل سے دعاگوہ ہیں۔انہوں نے پیڈ کی ادبی کمیٹی کی کارکردگی پے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادبی محافل کا سلسلہ ۲۹نومبر ۲۰۱۲سے شروع ہے اور اب تک ۳۴ نشستوں کا انعقاد ہو چکا ہے اِس سلسلے کے آغاز اورانہیں آگے کی جانب گامزن میں صغیر احمد جعفری اور صبا جعفری کا اہم کردار رہا ہے جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتاہے۔مقبول افسانہ نگارپیر آغا کیلاش نے اشرف شاد کی شخصیت وفن کے حوالے سے کہا کہ یہ اچھے لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھے خوش مزاج انسان بھی ہیں۔انہوں نے اپنے قلم سے کئی سیاسی رازوں کو فاش کیا ہے کہ بگاڑ کون پیدا کرتا ہے؟کیسی سازشی ہتکنڈوں سے سیاسی کارکن ختم کئے جاتے ہیں؟جسے بعدازاں قومی مفاہمت کا نام دے دیا جاتا ہے،جبکہ حقیت یہی ہے کہ اختلافِ رائے ہی ترقی کی راہیں دیکھاتا ہے،اگر اختلافِ رائے کو دبایا جائے گا تو جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکے گی۔یقیناًاشرف شاد نے تاریخ کو ہمارے حوالے کیا ہے۔ان کے افسانے بھی اپنی مثال آپ ہیں ،اِ ن میں سچائی کا پہلو اتنا نمایاں ہے کہ قاری کو ہر کہانی اپنی ہی لگتی ہے۔معروف ناول نگار ظہیر بدر نے کہا کہ اشرف شاد اپنی ذات میں انجمن ہیں،کثیرالجہت شخصیت ہیں، روایت شکن لکھتے ہیں،ہر افسانہ اچھوتا اور انوکھا ہے،ناول نگاری میں منظر نگاری اور کردار سازی اتنے خوبصورت انداز میں ہے کہ قاری حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔انکی ہر تحریر قاری کو اپنے ساتھ ساتھ لے کر چلتی ہے۔چار کتابوں کی رونمائی پر یہ اخراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے خوبصورت محفل کے انعقاد پر پیڈ کو شکریہ ادا کیا اور اشرف شاد کی کتاب ’’احمد فراز بقلم خود‘‘ کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہا ر کیا۔
مہمان خصوصی اشرف شاد نے پُروقار تقریب کے انعقاد پر طارق رحمان، طاہر زیدی سمیت تمام منتظمین کے علاوہ ظہورالاسلام جاوید اور ڈاکٹر عاصم واسطی سے اظہار تشکر کیااور کہا پاکستان ایسو سی ایشن دبئی کی جانب سے یہ عزت افزائی اور کثیر تعداد میں موجود شرکاء میرے لئے باعثِ اعزاز ہیں۔جن محبتوں کو میں نے اِس محفل میں سمیٹا ہے ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گی۔یواے ای میں اُردو ادب کے فروغ کے لئے ہونے والا کام نہایت مثبت ہے ،امارات میں شعراء کرام کا تخلیقی معیار بہت بلندہے۔صدرمحفل ظہورالاسلام جاوید نے کہا ہمارے لئے باعثِ مسرت ہے کہ اشرف شاد نے اپنی کتابوں کی رونمائی کے لئے امارت کا انتخاب کیا، اشرف شاد کی صحافت،سیاست، افسانہ نگاری،شاعری کے حوالوں سے کامیابیوں کا سفر اتنا طویل ہے کہ چند سطروں میں تذکرہ مشکل ہیں وہ ہررنگ میں ہر پہلو سے ہمارا لئے اثاثہ ہیں ،ہم دعاگوہ ہیں کہ اِن کا قلمی سفر اسی کامیابیوں کے ساتھ جاری رہے اور خواہش مند ہیں کہ وہ امارات آتے رہیں اور ہماری محافل کو رونق بخشتے رہیں،اِس موقع پر انہوں نے اشرف شاد سے وابستہ پُرانی یادوں کو بھی سماعتوں کے نذر کیا۔پیڈ کی ادبی کمیٹی طاہرزیدی، ارشد ملک اور طارق رحمان کو ’’پاک امارات دوستی مشاعرہ‘‘ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد بھی پیش کی۔تقریب میں پرنس اقبال گورایا، امجد اقبال امجد،انعام منصور، ڈاکٹر پروین ثاقب،چاچا ٹی ٹونٹی زمان سمیت مختلف شعبہ ہائے سے تعلق رکھنے والیں پاکستان کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی
تقریب کے حصہ دوئم کی نظامت بھی نوجوان شاعر سلیمان جاذب نے ہی با حسنِ خوبی و انداز سنبھالے رکھی،شعری سلسلہ شروع ہوا تو احمد جہانگیر، شیریں صاحبہ،وجہیہ الحسن نظامی، زاہد علی دوریش کے کلام کو سامعین نے خوب سراہا ،نیئر نیناں، سید تابش زیدی، زینت کوثر لکھانی، ڈاکٹر محی الدین اور کنول ملک نے اپنے اپنے منفرد کلام و انداز سے سامعین کے دلوں پر خوب جادو جگایاجبکہ ڈاکٹر محی الدین کے چند مزاحیہ اشعار نے محفل میں قہقوں کی لہر دوڑا دی۔فرہاد جبریل اور آصف رشید اسجد کے دلفریب کلام نے محفل کے آہنگ کو عروج بخشا، سلمان جاذب اور عامر حفیظ کے دلکش کلام پیش کر کے سامعین سے خوب داد و تحسین کے حقدار بنے،مقصود احمد تبسم نے پُرعقیدت نعتیہ کلام پیش کیا تو حاضرین کیف و سرور میں جھوم اُٹھے،’سبحان اللہ۔سبحان اللہ‘‘ سے خوب پسندیدگی کا اظہار کرتے رہے،یعقوب عنقاء اور ڈاکٹر ثروت زہرہ کے ہر شعر پر سامعین نے دل کھول کر داد دی،محفل کے مہمانان اعزازی شعراء افضل خان اور علی یاسر نے تازہ و شگفتہ کلام سے مشاعرے کے آہنگ کو مزید بلند کیاسامعین کی فرمائش پر کئی اشعار کو دھرایا گیا اور داد پے داد سمیٹتے رہے،ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے اپنے کلام سے باذوق سماعتوں کو اپنا گرویدہ کرلیا،محفل کے مہمانِ خصوصی اشرف شادکو دعوت سخن دی گئی تو انہوں نے کئی غزلیں پیش کر کے سامعین کی توجہ کو اپنی طرف مرکوز کئے رکھے بھرپور فرمائش پر ایک من موہ لینے والے اندازمیں پُرترنم غزل پیش کر کے سامعین کے دل جیت لئے ،محفل کے صدر ظہورالاسلام جاوید نے منفرد لب ولہجہ میں پُراثر کلام پیش کر مشاعرے کے آہنگ کو عروج کی بلندیوں پر پہنچا دیاایک فرمائشی قطعہ بھی پیش کیا۔تقریب کے اختتام پرسامعین کا خیال تھا کہ پاکستان ایسوسی ایشن دبئی نے دلکش مشاعروں کی خوبصورت روایت کو برقرار رکھا ہے اور معیارِکلام کے اعتبارسے یہ مشاعرہ بہت کامیاب رہا ۔شعراء کا حُسن تخیل ملاحظہ فرمائیں
احمد جہانگیر
دکھ میں تحلیل ہو کے دیکھتے ہیں
یہ جو قندیل ہو کے دیکھتے ہیں
شیریں صاحبہ
سڑکیں ہوں عمارات ہوں یا سبزہ زار ہو
ہے اپنی مثال آپ شہر عالمی دبئی
وجہیہ الحسن نظامی
تجھے خود سے جدا رکھا نہیں ہے
محبت کا کوئی فرقہ نہیں ہے
زاہد علی درویش
بہت کہا تھا میں نے دل سے تُو بضد نہ ہو
میں یہاں عشق نہیں کام کرنے آیا ہوں
نیئر نیناں
مجھے چار دن کی جو مہلت ملی
نکل آئے تیرے بھی پَر زندگی
سید تابش زیدی
اپنی حالت کو جو دیکھا انقلاب آنے کے بعد
دل کے ویرانے میں تھیں خوش فہمیاں بکھری ہوئیں
زینت کوثر لکھانی
قدم سے قدم ہم ملا کے چلیں گے
زباں دے کے وہ اب بدلنے لگے ہیں
ڈاکٹر محی الدین غازی
ذرا سی زندگی میں دشمنی کیا بغض و کینہ کیا
محبت کے تقاضے پورے ہو جائیں غنیمت ہے
کنول ملک
اب ہمارے درمیاں یہ فاصلے ہیں اور بس
ایک ہم ہیں خاک ہے یہ راستے ہیں اور بس
فرہاد جبریل
جہاں شب ایڑیاں رگڑے وہاں مجدہ سنا دینا
یہاں تازہ سویرے کی ولادت ہونے والی ہے
آصف رشید اسجد
جمال یار کا آنا تھا صحن گلشن میں
کہ مُنہ کھُلے کے کھُلے رہ گئے گلابوں کے
سلمان جازب
آنکھ میں پانی بھر دیتا ہے
عشق سمندر کر دیتا ہے
مقصود احمد تبسم
جب سرِحشر ثنا خوان پکارے جائیں
کاش ہو مری طرف دار زبانِ اقدس
حفیظ عامر
ماں کہتی تھی تو مقروض ہے مٹی کا
قرض اُتارا مٹی مٹی ہو گیا میں
یعقوب عنقا
نفس نفس جو تیری یاد کا اُجالا ہے
نظر نظر وہ میری ذات کا حوالہ ہے
ڈاکٹر ثروت زہرہ
خاطر حال مدارت نہیں کی جائے گی
ہم سے اس طور محبت نہیں کی جائے گی
افضل خان
پاؤں کے زخم دیکھانے کی اجازت دی جائے
ورنہ راہ گیر کو جانے کی اجازت دی جائے
دوغلے پن کا ہنر سیکھ لیا ہے میں نے
اب مجھے شہر میں آنے کی اجازت دی جائے
علی یاسر
ہر طور فقیر مطمعن ہے
سر شکر ضمیر مطمعن ہے
اے ذلف تو بے قرار مت ہو
تیرا یہ اسیر مطمعن ہے
ڈاکٹر عاصم واسطی
وہ یوں ہوا کہ میرے ہاتھ لگ گیا سورج
سیاہ شب میں ستارہ شکار کرتے ہوئے
اشرف شاد
کیا سانحہ ہوا ہے کوئی بولتا نہیں
ہر شخص چیختا ہے کوئی بولتا نہیں
شاید سماعتوں میں کوئی فرق آگیا
بولیں تو لگ رہا ہے کوئی بولتا نہیں
ظہورالاسلام جاوید
ہمیں جو رزق دیا اس میں وسعتیں لکھ دیں
مگر حصول میں صحرا کی شدتیں لکھ دیں
میرے نصیب کا خانے میں لوٹنا لکھ کر
پھر اُس کے ساتھ کے خانے میں مدتیں لکھ دیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker