تازہ ترینعلاقائی

بہاولنگر:گنے کے کاشتکاروں کا استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا،ڈی سی او

بہاول نگر( رانا فیصل رحمن)ڈی سی او محمد جہانزیب اعوان نے کہا ہے کہ گنے کے کاشتکاروں کا استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور شوگر ملز کو مقررہ قیمت پر گنے کی خرید کا پابند بنانے کے ساتھ ساتھ پاس بکس اور موقع پر ہی اصل CPRs کے اجراء کو یقینی بنانے سمیت مقررہ معیار اور وزن کے مطابق ناپ طول کے لیے کنڈوں کا معائنہ اور ٹرالیوں پر گنے کی لوڈنگ کے لیے وزن اور حجم کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔ یہ بات انہوں نے کرشنگ سیزن کے حوالے سے کیے جانے والے انتظامات اور اقدامات کے جائزے سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ جس میں اے ڈی سی منظر جاوید علی، چشتیاں اور منچن آباد کے اسسٹنٹ کمشنرز ، ای ڈی او زراعت ، محکمہ لیبر ،ٹریفک پولیس، ڈی ایس پی صدر اور دیگر متعلقہ افسران کے علاوہ اتفاق شوگرمل پاکپتن کے جی ایم، اشرف شوگرمل بہاولپور کے نمائندہ، آدم شوگر مل چشتیاں کے جی ایم اور ڈی جی ایم کے علاوہ کسان اتحاد کے ڈویژنل صدر، ساؤتھ پنجاب کسان اتحاد کے صدر اور کسان اتحاد کے ضلعی صدر کے علاوہ دیگر عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گنے کے کاشتکاروں کو حکومت پنجاب کے نوٹیفیکیشن کے مطابق 180 روپے کے حساب سے سات سے پندرہ یوم کے اندر ادائیگی کو لازمی بنایا جائے گا۔ ڈی سی او نے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کو اس فیصلے پر عمل در آمد یقینی بنانے اور کوئی عذر برداشت نہ کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام شوگر ملزگنے کی خریداری کے آغاز سے قبل اپنے پرچیز سنٹرز کی لسٹ تین یوم میں ڈی سی او آفس میں جمع کریں گے اور کسی بھی غیر قانونی خریداری مرکز کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔تاکہ مڈل مین کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور ان کے کردار کو مکمل ختم کر دیا جائے جو کہ کسانوں کے استحصال کا باعث بنتے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مختلف شوگر ملز 20 سے 25 نومبر تک کرشنگ سیزن کاآغاز کر دیں گی۔ڈی سی او نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ تمام شوگر ملز مقررہ تاریخوں پر کرشنگ سیزن کا آغاز لازمی کر دیں تاکہ کاشتکار اپنی آئندہ فصلوں کی کاشت میں تاخیر سے بچ سکیں۔ اجلا س میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام خریداری مرکز سڑکوں سے دور بنائے جائیں گے اور گنے کی ٹرالیاں بھی مین سڑکوں سے دور پارک کی جائیں گی تاکہ حادثات کی روک تھام ہو سکے۔ اور ان احکامات پر عمل نہ کرنے والے خریداری مراکز کے خلاف ٹریفک پولیس سخت ایکشن لے گی۔ اجلاس میں ڈی سی او نے کہا کہ آدم شوگر مل نے گذشتہ کرشنگ سیزن کی 66 لاکھ روپے کی ادائیگیاں کاشتکاروں کو ابھی کرنی ہیں اور گنے کی خریداری کے ساتھ گذشتہ ادائیگیوں کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے۔ جی ایم آدم شوگر مل نے یقین دلایا کہ کاشتکاروں کو گذشتہ سیزن کی ادائیگیاں ایک ہفتے کے اندر کر دی جائیں گی۔بصورت دیگر ڈسٹرکٹ کلکٹر مل انتظامیہ کے خلاف کاروائی کریں گے۔ ڈی سی او جہانزیب اعوان نے کاشتکاروں کی شکایات کے لیے ڈی سی او آفس اور متعلقہ تحصیلوں میں کمپلینٹ سینٹر قائم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ اور اسسٹنٹ کمشنرز کو خریداری مراکز کی چیکنگ اور انتظامات کے جائزے کے لیے انسپکشنز کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں آدم شوگر مل کے گیٹ پر کنٹرول روم قائم کریں گے اور کاشتکاروں کے مسائل کو موقع پر ہی حل کرنے کے لیے ایک نائب تحصیلدار کی ڈیوٹی لگائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:سی پیک منصوبہ پاکستان اور چین کے لوگوں کے باہمی مفاد کا ایک معاشی منصوبہ ہے،چئیرمین سینٹ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker