بین الاقوامیتازہ ترین

عمران اور قادری کو فوج کے اندر سے حمایت حاصل ہے؛ برطانوی اخبار

کراچی(ڈیسک نیوز)برطانوی اخبار’’ٹیلی گراف‘‘لکھتا ہے کہ 2013میں نواز شریف کی عام انتخابات میں کامیابی مشرف کے لئے بری خبر لائی،کچھ حد تک فوج میں بھی ان کی کامیابی کو اچھا خیال نہیں کیا گیا ۔یورپی یونین کے مبصرین کی طرف سے انتخابات کابڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا انہوں نے کہا کہ کچھ حلقوں میں گنتی کے طریقہ کار میں شفافیت کے فقدان کے باوجودنتائج مجموعی طور پر قابل قبول ہیں۔بھارت کے ساتھ نواز شریف کی مفاہمت کی کوششوں اور مشرف کے ساتھ توہین آمیز رویے نے فوج میں تشویش پیدا کی۔ جنرلوں کو خدشہ ہے کہ ان کے سابق سربراہ اور آمرپر غداری کی سزا پوری فوج کے لئے توہین کاسبب ہو گی اور وہ ان الزامات کو ختم کرانا چاہتی ہے۔فوج کے اندر سرگوشیاں ہیں کہ نواز شریف بھارتی وزیر اعظم نریندر مود ی کے ساتھ بات چیت کے آغاز کے لئے اعلیٰ عسکری حکام کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہے۔ اس سے یہ احساس تقویت پکڑ گیا کہ خارجہ پالیسی پر ان کے روایتی کنٹرول کو چیلنج کیا گیا۔ عمران خان اور طاہر القادری کو فوج کے اندر سے حمایت حاصل ہے۔نواز شریف کو اچانک فوج کی ضرورت ہے۔ حکومت اور مظاہرین دونوں پر طاقت کے استعمال سے گریز پر زور دینے سے فوج نے نواز شریف کو پسینے سے شرابور کیا۔ اگر نواز شریف پیراملٹری فورسز کو قومی اسمبلی کے تحفظ کے لئے گولی چلانے کا حکم دیں گے تو یہ خطرہ ہے کہ قومی مفاد کا سہارا لے کر امن بحالی کے لئے فوج مداخلت کرسکتی ہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ مئی 2013میں نواز شریف کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد ایک قابل ذکر انداز میں اقتدار میں واپسی ہوئی۔ 1999میں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ایک بغاوت میں انہیںمعزول کرکے جیل بھیجا گیااس کے بعد سعودی عرب جلاوطن کیا گیا جہاں وہ سعودی بادشاہ کے مہمان بن کر رہے۔ لیکن سفارت کار انہیں استعمال شدہ قوت شمار کرتے تھے۔ایک سویلین اور جمہوری حکومت کے بھاری مینڈیٹ سے فوج سیاست سے مزید پیچھے ہٹنے کے طور پر دیکھاگیا۔ خیبر پختونخواہ میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات جیتنے کے باوجود عمران خان نے قومی سطح پر بیلٹ دھاندلی کی شکایت کی اور 35 نشستیں جو اس نے جیتی اس کی عکاسی نہیں کرتی کہ لوگوں نے کس طرح ووٹ دیا۔رواں برس میں عمران خان کی پارٹی نے اس ایشو پراحتجاج میں اضافہ کردیا۔  

یہ بھی پڑھیں  حالیہ بارشیں فصلوں کے لیے بہت مفید ہیں: وزیراعظم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker