تازہ ترینعلاقائی

سبی پریس کلب کی جانب سے دوسرے روز بھی احتجاجی علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری

سبی ( نامہ نگار ارشاد خلجی)کوئٹہ کے تین صحافیوں کے قتل کے خلاف سبی پریس کلب کی جانب سے دوسرئے روز بھی احتجاجی علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے،دوسرئے روز پریس کلب کے صدر حاجی میر محمد جان مری و سول سوسائٹی کے نمائندہ ڈاکٹر غلام فاروق بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہے،تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں تین نہتے صحافیوں ارشاد مستوئی،عبدالرسول خجک اور محمد یونس کے قاتلوں کی گرفتاری اور لواحقین کو معاوضہ کی عدم ادائیگی کے خلاف دوسرئے روز بھی سبی پریس کلب میں صحافیوں کا احتجاجی کیمپ جاری رہا،اور اس سلسلے میں سبی پریس کلب کے سرپرست اعلیٰ ملک اکرم بنگلزئی نے پریس کلب کے صدرحاجی میر محمد جان مری اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر غلام فاروق کو ہار پہنا کر احتجاجی علامتی بھوک ہڑتال پر بٹھایا،علامتی بھوک ہڑتال صبح گیارہ بجے سے لیکر دوپہر دو بجے تک جاری رہی ،اس موقع پر علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں صحافیوں سے یکجہتی کرتے ہوئے سبی ڈسٹرکٹ بار کونسل کے سابق صدر عنایت اللہ خان مرغزانی ایڈوکیٹ،جماعت اسلامی کے ضلعی امیر میر مظفرنذر ابڑو،ضلعی صدر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن ملک ساجد بنگلزئی سبی پریس کلب میں لگائے گئے بھوک ہڑتالی کیمپ میں پہنچ گئے جنہوں نے صحافیوں کے قتل کو ریاست اور جمہوری اداروں کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی اور شہید صحافیوں کے قاتلوں کی گرفتاری اور ان کے لواحقین کو معاوضہ کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ صحافیوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کھوکھلے دعوؤں کی بجائے عملی طور پر ٹھوس اقدامات اٹھائے اور شہید صحافیوں کے گھروں میں اس وقت صف ماتم بچھا ہوا ہے جبکہ بھوک اور فاقوں نے شہید صحافیوں کے لواحقین کو اپنی نرغے میں ڈالا ہوا ہے صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ صحافیوں کے لواحقین کی بحالی کے لیے معاوضہ کی ادائیگی کو جلداز جلد یقینی بنائے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button