تازہ ترینکالممیرافسر امان

الیکشن ۲۰۱۳ء اور سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کاتقابلی جائزہ

mir afsarملکِ پاکستان پر جن جماعتوں نے حکمرانی کی ہے اگر ان کی حکمرانی کا جائزہ لیا جائے تومایوسی کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیںآتاآج ہم سیاسی جماعتوں کامورثی ہونا،کارنامے،قومی خزانے سے اسراف اور عوام کی حالت کے تحت گفتگو کریں گے تاکہ چند دنوں بعد عوام کو ووٹ کاسٹ کرنے میں آسانی ہو۔ مسلم لیگ شروع میں ملک کو متفقہ آئین نہ دے سکی جس سے ملک میں اتحاد واتفاق کا فقدان رہااور ملک کے اندر اتنی وزاتیں بدلیں کہ ہمارے دشمن نہرو کو یہ کہنے کا موقع ملاکہ پاکستان میں اتنی وزارتیں بدلتیں ہیں جتنی میں شیروانیاں بھی تبدیل نہیں کرتا قائد ؒ نے بھی کہا تھا میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں اس کے بعد پاکستان کی بانی جماعت ٹکڑوں میں بٹتی رہی ۔یہاں تک کے الف، ب، ت. . . . سے ہوتی ہوئی ن لیگ تک پہنچی۔مسلم لیگ مورثی جماعت نہیں تھی مختلف لوگوں نے مسلم لیگ کے گھوڑے پر سواری کی مگرن لیگ سے پہلے تک یہ مورثی نہیں بنی تھی مگر اب اس کے نام کے ساتھ نواز مسلم لیگ کا ٹیگ لگ گیا ہے اور اپنی اولاد کو ٹکٹ دے کر اسے مورثی بنا دیا گیا ہے۔ن مسلم لیگ کا کارنامہ ہے کہ اس نے ایٹمی دھماکہ کیا اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کی مقبولیت کا گراف سب سے زیادہ ہے مگر شکا ئتیں بھی ہیں۔ مجموعی کارکردگی مناسب نہیں رہی کالا باغ ڈیم نہ بنا سکی، عوام کی حالت نہ بدلی، پاکستان ایشیا کاٹا ئیگر نہ بن سکا، امریکی خواہش پر تعلیمی نصاب میں تبدیلی کی، روشن پاکستان کی باتیں، اس سے قبل آئینی طور پرغیر مسلم قادیانیوں کو بھائی کہنا ،امریکی سفیرمنٹر سے امریکا مخالف ماحول نہ بننے دینے کا وعدہ اور بھارت سے کشمیر کے حل کے بغیر دوستی کی باتیں ایسی ہیں جو عوام کو منظور نہیں ا سی وجہ سے مسلم لیگ کے سپورٹر اور د ائمی حماہتی نوائے وقت کے ایڈیٹر مجید نظامی کی برہمی مثال شامل ہے۔ قائد اعظم ؒ اور لیاقت علی خان کے وقت مسلم لیگ ملک کے خزانے سے اسراف کے جرم میں مبتلا نہیں ہوئی تھی مگر عوام اعتراض کرتی ہے کہ نواز شریف صاحب نے اپنے دور اقتدار میں ناجائزپیسہ کما کر فیکٹریوں میں اضافہ کیا،رائے ونڈ محل بنایا، پارلیمنٹ، وزیروں، مشیروں اور بیرونی دوروں پر قومی خزانے پر بوجھ اور لندن کے پوش علاقے میں خریداری کے وقت ایک بزرگ پاکستانی کے اعتراض پر نامناسب جواب یعنی یہ کہنا کہ اگر اللہ نے مجھے دیا اور پاکستان کو نہ دیا تو میں کیا کروں یہ باتیں عوام کے لیے قابل اعتراض ہیں۔نواز شریف ۱۹۸۰ سے ۱۹۸۵ تک وزیر خزانہ رہے۱۹۸۵ سے ۱۹۹۰ تک وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۱۹۹۰ سے۱۹۹۳ وزیر اعظم رہے۱۹۹۷ سے ۱۹۹۹ پھر وزیر اعظم رہے اسی طرح ان کے بھائی بھی اقتدارمیں رہے مگر عوام کی حالت نہ بدلی اب اگر اقتدار ملا تو کیا کریں گے۔ پیپلز پارٹی مسلم لیگ کے جسد سے پیدا ہوئی مورثی جماعت بن چکی ہے ہمیشہ بھٹو کے نام سے عوام میں جاتی اور اقتدار میں آتی رہی ہے اب بھی اسی نام سے ووٹ مانگ رہی ہے اقتدار کی لالچ میں زرداری خاندان کو بھٹو خاندان میں مصنوی طور پر تبدیل کر دیا گیااس نے پاکستان کو۱۹۷۳ء کا متفقہ آئین دیا ،قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، پہلی اسلام کانفرنس، جمعہ کی چھٹی اورشراب پر پابندی اس کے کارنامے ہیں اس کے بانی ذولفقار علی بھٹو صاحب نے عوام کے جذبات اُبھارے ، مزدرو ں کو فیکٹری مالکان سے، ہاریوں کو زمیداروں اور عام عوام کو سبز باغ دکھائے، پورے نہ کر سکنے والے وعدے کئے عوام کو بے وقوف بنانے میں کامیاب ہو گئے اس دور میں دانشور حضرات کہتے ہوئے سنے گئے تھے بھٹو صاحب یا تو پاکستان کو بنا دے گا یا تباہ کر دے گے ان کا تجزیہ صحیح ثا بت ہوا اورپاکستان دو لخت ہو گیا پاکستان کی تاریخ مرتب کرنے والوں نے لکھا ہے اور بجا لکھا ہے اگر پولینڈ کی قرارداد نہ پھاڑی جاتی، ادھر ہم اورادھر تم کا نعرہ نہ لگایا جاتا اور ڈھاکہ جانے والوں کی ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں نہ دی جاتیں تو پاکستان دو لخت ہونے سے بچ سکتا تھا۔اس پارٹی نے قومی خزانے سے اسراف کی تو حد کر دی ہے گھوڑوں کو مرابہ کھلانے ،پر آسائش زندگی گزرانے، مسٹر ٹین پرسنٹ مشہور ہونے، کچن کی تزین و آرائش پر ۱۷ کروڑ کے خرچے کے چرچے اخبارات میں آ چکے ہیں مرکزی قیادت سے لیکر کارکنان تک کرپشن کی انتہا کر دی اسی وجہ سے غیر ممالک نے حکومت کو امداد دینے کے بجائے سول اداروں کو مدد دی۔عوام کی حالت نہ بدلی کرپشن،امن وامان، گیس بجلی کی لوڈ شیڈنگ،دھماکے،بیرونی دشمن ایجنٹوں کی ملک میں مداخلت، بیروزگاری کیا کیا بیان کیا جائے ان کے وزیر خارجہ پر امریکی ایجنٹ ہونے کا الزام لگا اب بھی مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے عوام کی زندگی اجیرن کر دی اب پھر بھٹو صاحب کے نام اور نہ پورے ہو سکنے والے وعدوں پر ووٹ مانگے جارہے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی سرحدی گا ندی کی بنائی ہوئی پارٹی ہے اس پارٹی کے سربراہ نے پاکستان میں دفن ہونا بھی پسند نہ کیااس نے پاکستان کی مخالفت کی تھی ا ب بھی اپنے پرانے پاکستان مخالف نظریات سے نہیں ہٹی اور بھارت کے ساتھ کنفیڈریشن بنانے کی باتیں کرتی ہے، یہ بھی مورثی پارٹی ہے غفار خان ،ولی خان اور اب اسفند ولی خان اس کے سربراہ ہیں ملکی ۲معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کالا باغ نہ بننے دینا بلکہ بم سے اُڑا دینے کی دھمکی دینا ۔ اس کا کار نامہ خیبر پختونخواہ کا نام ہے چاہے وہ ہزارہ،ڈیرا ، کوہستان کی آبادی کو نامنظور ہو۔قائد اعظم ؒ کی قیادت میں اسے شکست ہوئی تھی گو کہ اس کوپہلے خیبرپختواہ اور بلوچستان میں مٖفتی محمود صاحب کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے اور ۲۰۰۸ میں جماعت اسلامی اور دوسری پارٹیوں کے بائیکاٹ اور نواز شریف کی بے وفائی کی وجہ سے خیبرپختونخواہ میں حکومت بنانے کا موقع ملامگر اس کے دور میں خیبرپختونخواہ کے لوگوں کو تاریخی دکھوں کا سامناکرنا پڑا اس کے دور میں ۲۵ لاکھ شہریوں کو اپنی ہی ملک میں مہاجر بننا پڑا اور لاتعداد اب بھی کیمپوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں امریکی جنگ میں شریک بن کر مقامی لیڈر شپ سے معاہدے کر کے امریکی شہ پر دھوکا کیا اور سوات جنوبی وزیرستان پر فوجی آپریش کی وجہ سے اب مشکلات میں مبتلا ہے۔ایم کیو ایم حقوق کے نام پر وجود میں آئی اوّل روز سے ہی ٹی وی اور وی سی آر فروخت کرو اور اسلحہ خریدو کے فلسفے کے تحت قتل و غارت پر عمل پیرا ہے مثال کے طور کسی نے مچھیرے سے دریافت کیا آپ کے پردادا کیسے فوت ہوئے اس نے کہا ڈوب کر آپ کے دادا کیسے فوت ہوئے اس نے کہا ڈوب کر آپ کے والد کیسے فوت ہوئے اس نے کہا ڈوب کر ۔ عجیب لوگ ہو سب ڈوب کر فوت ہو رہے ہیں اور آپ مچھیروں والا کام کیوں نہیں چھوڑتے ہواس نے کہا بھائی اس میں ہی ہماری روزی لکھی ہے ایم کیو ایم کی الطاف حسین اور فاروق ستار صاحب کے علاوہ پہلی مرکزی قیادت قتل غارت سے اللہ کو پیارے ہو ئی ۲۵سال سے اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی قاتل نہیں پکڑے گئے اب تک انہوں نے اپنی روش نہیں بدلی اور کہا جو قائد کا غدار ہو وہ موت کا حق دار ہے کارنامہ یہ ہے کہ کراچی کے عوام ان کو ۲۵ سال سے منتخب کر رہے ہیں چائے وہ ٹھپہ مافیا سے ہویا جھرلوانتخا بات کے ذریعے ہو ۔ ۷۰ فی صد ریوینو دینے والا منی پاکستان اس وقت سے قتل و غارت میں نہا رہا ہے معیشت تباہ ہو گئی ہے عوام کے حالت بدتر سے بدتر ہو گئے ہیں کوئی حقوق نہیں مل سکے نہ آئندہ ملنے کی امید ہے اب نعرہ لگ رہا ہے ہمیں منزل نہیں رہنما چاہیے ۔پہلے ۱۰۰ سے زیادہ ہڑتالیں کیں اوراب پھر ہر روز ہڑتالیوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے ملک کی معیشت تباہ ہو گئی ہے جمعیت علمائے اسلام جو جمعیت علمائے ہند کے وجود میں سے نکلی ہے تحریک پاکستان کے وقت جمعیت علمائے ہند نے کہا تھا قومیں اوطان سے بنتی ہیں لہٰذا ہندوستانی ایک قوم ہیں یعنی دو قومی نظریے کی مخالفت اور کانگریس کی حمایت کی تھی مسلم لیگ نے قائد اعظم ؒ کی قیادت اور مولانا مودودی ؒ کے قومیت پر مضامین کہ مسلمان قوم نظریے سے بنتی ہے کانگرس کو شکست دی تھی اور پاکستان وجود میں آیا تھا گو کہ مفتی محمود صاحب نے پاکستان بننے کے بعد کہا تھا کی مسجد بنتے وقت کہ کس طرح بننی چاہیے اختلاف ہو سکتا ہے مگر مسجد بن جانے کے بعد اپنی رائے سے رجوع کرلینا چاہیے اور ہم نے رجوع کر لیا انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی سے مل کر حکومت بھی بنائی ۔ وکی لیک کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے امریکی سے درخواست کی تھی کہ انہیں پاکستان کا وزیر اعظم بنا دیں ۔کیا مدد کرنے والی قوت اپنی مرضی کے کام کرنے کے لیے نہیں کہے گی؟ کیا کسی اسلامی پارٹی سے امریکا سے ایسی درخواست کی تواقع کی جا سکتی ہے؟ جب انہیں متحدہ مجلس عمل کے تحت دوصوبوں میں حکومت کرنے کا موقع ملا تو مشرف کی طرف جھکاؤ کی خبریں میڈیا میں آتی رہیں ہیں اس وجہ سے جماعت اسلامی ان سے ناراض ہوئی ایک عرصہ تک وہ این آر او زدہ حکومت میں رہے حتی کہ زرداری صاحب کا کہنا کہ مولانا صاحب کو میں منوا لوں گا ۔مسلم لیگ ق کی کیا بات ہے پاکستانی فوج کو امریکی کرایے کی فوج بنانے والے قوم کے مجرم ڈ کٹیٹر مشرف کادفاع کرنے،ڈکٹیٹر کو ۱۰۰ بار وردی میں منتخب کرنے والے، لال مسجداور حفصہ مدرسہ کے واقعات ابھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں یہ پارٹی ڈکٹیٹرمشرف کے ان جرائم میں پوری کی پوری شریک ہے قاتل لیگ کہنے والوں سے اس نے اتحاد کر لیا ہے تاکہ مل کر عوام کو مذید دھوکہ دیں یہ لوگ کس منہ سے عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔اب ایک نئی پارٹی تحریک انصاف میدان میں اُتری ہے ان کا رنگ ڈھنگ بھٹو مرحوم سے ملتا جلتا ہے وہ سونامی سونامی کرتے ملک بھر میں اپنے ہیلی کاپٹر سے سفر کر کے جلسے کر رہے ہیں عوام سے نہ پورے ہونے والے وعدے کر کے نوجوانوں میں ہلچل پیدا کر رہے ہیں اخبارات میں قادیانیوں سے ووٹ مانگنے والی تحریک انصاف کی عہدہ دار خاتون کی فوٹو شائع ہوئی ہے اس سلسلے میں وڈیو بھی سوشل میڈیا پر دیکھی جا سکتی ہے عمران خان کے حوالے سے امریکی سفیر منٹر کہہ چکے ہیں کہ عمران امریکا خلاف مہم عوام میں نہیں چلائیں گے سارے بھگوڑے ان کی جماعت میں داخل ہو چکے ہیں ۔جماعت اسلامی جو ۱۹۷۰ء کے بعد پہلی دفعہ اپنے منشور،جھنڈے اور نشان کے ساتھ الیکشن میں اتری ہے مورثی جماعت نہیں ہے۔ اصلاح معاشرہ کے مضبوط نٹ ورک پر کام کر رہی ہے پاکستان کی سب سے بڑی این جی او الخدمت فاؤنڈیشن کے ذریعے دکھی انسانیت کی خدمت کر رہی ہے پاکستان میں اسلامی نظام کی داعی ہے قول و فعل میں سچی ہے عوام میں دین اسلام کی تربیت کر رہی ہے اس کے نمائندے کرپشن میں ملوث نہیں رہے پاکستان کو مدینے کی فلاحی اسلامی ریاست بنانے کا منشور رکھتی ہے خیبرپختونخواہ میں ۵ سال حکومت میں شامل رہی اس کے حکومتی اہلکار قومی خزانے پر بوجھ نہیں بنے اس کا سینئر وزیر پشاور سے لاہور تک پبلک ٹرنسپورٹ پر سفر کرتا ہے اور خزانے سے صرف ۶۲۵ روپے کا بل و صول کیا،گڈگورنرز کا بیرونی اداروں نے سر ٹیفکیٹ بھی جاری کیا،بیرونی دوروں میں اسراف سے بچنے کے لیے مہنگے ہوٹلوں میں قیام کے بجائے مسجد میں قیام کیا دورے حکمرانی میں عوام سے روزانہ کی ملاقاتوں کا پروگرام مسجد میں رکھا۔ملک میں الیکشن لڑنے والی جماعتوں میں جماعت اسلامی کا دامن پاک صاف ہے اگر عوام اس پارٹی کو کامیاب کریں تو پاکستان میں اصلاح کی توقع کی جا سکتی ہے ۔ الیکشن کمیشن نے جعلی ڈگری، کرپشن اور نااہل
۳امیدواروں کی جولسٹ جاری کی ہے اس میں پیپلز پارٹی کے ۲۹،عوامی نیشنل پارٹی کے ۱۴،ایم کیو ایم کے ۷،ق لیگ کے ۵ ، ن لیگ کے۴، جمعیت علمائے اسلام کے۴،پی ٹی آئی کے ۲ کارکن شامل ہیں جبکہ جماعت اسلامی کا ایک بھی کارکن شامل نہیں ہے۔ ساری جماعتوں کے تجزیے سے کھل کر جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کرپشن، مہنگائی،گیس بجلی کی لوڈ شیڈنگ،بدامنی،قتل و غارت،بے روزگاری،بم دھماکے،خود کش حملے ، بیرونی مداخلت ،عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ٹال مٹو ل ،کارکنوں اوررشتہ داروں کو قومی خزانے سے نوازنے، عدالتوں سے سزا یافتہ اپنے کارکنوں کو حکومتی عہدوں پر تعینات کرنے،جن لوگوں کے جرم عدالتوں میں ثابت ہوئے اور لوٹی ہوئی رقم واپس بھی کی وہ دوبارہ ا س لیے نمائندے بنائے گئے تاکہ جیت کر آئندہ پھر کرپشن کریں۔
قارئین ہم نے ملک کی تمام جماعتوں کی کارکردگی کا نقشہ آپ کے سامنے رکھ دیا ہے ۱۱ مئی کا دن قریب ہے تبدیل جیسی آپ اپنی ووٹ کے ذریعے چاہتے وہ آپ کے صحیح فیصلے سے آسکتی ہے ملک کامقدر آپ کے ہاتھ میں ہے اللہ ہمیں صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین note

یہ بھی پڑھیں  پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری احمد مختار انتقال کر گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker