تازہ ترینعلاقائی

خانیوال: ناجائز اسلحہ رکھنے والوں اورمنشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے،ڈی پی او

خانیوال (نامہ نگار)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خانیوال رانا محمد ایاز سلیم نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کیلئے جملہ ایس ایچ اوز اور سب ڈویژنل پولیس افسران اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے گار لائیں اور کوئی دقیقہ فرد گزاشت نہ چھوڑیں ۔ یہ بات انہو ں نے گزشتہ شب کانفرنس روم میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ عادی مجرم ،عدالتی مفروران اور اشتہاری مجرمان کی گرفتاری کیلئے ریڈنگ پلان کو پولیس اہلکاران سے مخفی رکھا جائے اورخبری کی اطلاع اورخبر کا نام بھی صیغہ راز میں رکھا جائے بصورت دیگر کوائی محب وطن شہری آئندہ آپکو جرائم پیشہ عناصر کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے گریز کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ناجائز اسلحہ رکھنے والوں اور منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے اور اس ضمن میں جو جملہ ایس ایچ اوزکو ٹاسک دیا گیا ہے اسے مقررہ دورانیے میں پورا کیا جائے اور اے کیٹگری کے بیس فیصد مجرمان اشتہاریوں کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے اور گینگز کی گرفتاری کیلئے جو ٹارگٹ دیا گیا ہے اس بھی پورا کیا جائے بصورت دیگر انہیں نہ صرف تبدیل کر دیا جائے گا بلکہ محکمانہ کاروائی بھی عمل میں لائی جائے گی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خانیوال رانا محمد ایاز سلیم نے اجلاس کے دوران شاپ اینڈ سیکیورٹی آرڈیننس کے حوالے سے مارکیٹ اور صرافہ بازار میں سی سی ٹی وی کیمرے اور سیکیورٹی گارڈز کی تعیناتی کے بارے میں بھی ہدایات جاری کیں ۔ اجلاس میں بلا نمبری اورغیر نمونہ نمبر پلیٹ کے خلاف مہم کا بھی جائزہ لیا گیا اور شرکائے میٹنگ پر واضح کیاگیا کہ اس مہم کو مزید موثربنایاجائے۔ انہوں نے پتنگ بازی کے خلاف بھی سخت کاروائی کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے ایس ڈی پی اوز اور جملہ ایس ایچ او ز کو جوڈیشل ڈیوٹی ،گارد ڈیوٹی کچہری گارد ڈیوٹی اور نائب کورٹس کی چیکنگ کے حوالہ سے بھی بریفنگ دی ۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خانیوال نے حوالات چیکنگ کے بارہ میں خصوصی ہدایات دیتے ہوئے ایس پی انوسٹی گیشن خانیوال کو ذمہ داری سونپی کہ وہ ضلع بھر کے تھانوں کی حوالاتوں کو خاص طور پر چیک کیا کریں تاکہ کوئی غیر قانونی طور پر حوالات میں بند نہ ہو جبکہ پولیس کے جوانوں اور قومی رضاکاروں کی فزیکل فٹنس یقینی بنانے کیلئے پولیس لائن میں جنرل پریڈ کا اہتمام کیا کریں اور مقدمات کے چالان کے عمل کو بھی باقاعدگی سے مانیٹر کیا کریں اور رپورٹ پیش کیا کریں انہوں نے کہا کہ جس ایس ایچ او کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہو گی اس کا ذمہ دار متعلقہ ایس ڈی پی او ہوگا اور ایس ڈی پی او کے خلاف بھی کاروائی ہوگی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button