بین الاقوامیتازہ ترین

برمنگھم میں ایک شام سا نحہ پشاورکے شہداء اور غازیان بچوں کے نام

unnamed (1)بر منگھم ( ایس ایم عرفان طا ہر سے ) لو یش میڈیا ، دی مسرت شمیم اکیڈمی اور اے کے نیو ز ٹی وی بر طانیہ کے اشتراک سے ایک خو بصورت شام سا نحہ پشاور آرمی پبلک سکو ل کے شہداء اور غازیان بچوں کے نام سجا ئی گئی جس میں عیسائی ، مسلمان ، ہند و ، سکھ اور دیگر کمیو نٹیز کے عمائدین ،معززین نے شہداء آرمی پبلک سکول اور انکے ورثاء سے بھرپور اظہا ر یکجہتی کرتے ہو ئے زبردست خراج عقیدت پیش کیا ۔ اس دلفریب شام کے منتظمین میں شامل تھے اکرام مرزا ، مسز رفعت علی ، افتخار چو ہدری اورجرنلسٹ حید ر عباس ، جبکہ مہمان خصوصی سانحہ پشاور آرمی پبلک سکول میں شہید ہو نے وا لے بچے حارس نواز اور شدید زخمی ہو نے وا لے احمد نواز کے والد محمد نواز خان تھے ،اس موقع پر ایم پی جون ہیمنگ ، کونسلر ذا کر اللہ چو ہدری ، جسٹس آف پیس اینڈ مئیر آف رغبی کونسلر رمیشن سری واستو ، پنڈت ری بوشان ، آنر آف ایس اینڈ کیش کیری ، سٹیون ، بلبیر سنگھ ، وکی گل ، کونسلر عنصر علی ، کونسلر مریم خان ، سمیرا فرخ ، شمس الر حمن خان، رشید اللہ خان، فضل ربی خان ،جا وید اقبال ،دویندر پرشاد، نجمہ سعید ، محمود لاہوری،ملیحہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔تقریب کے شرکاء کو محظوظ کرنے کے لیے یا د مد ینہ گروپ ، آرٹسٹ سیف علی خان اور دیگر نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔ ایم پی جون ہیمنگ نے کہا کہ تمام دنیا دہشتگردی ، انتہا پسندی اور بد امنی کے خلا ف ایک منفرد اکائی کی حیثیت اختیا ر کر چکی ہے ۔ دہشتگردی کی جتنی بھی مذمت کی جا ئے وہ کم ہے جو سانحہ پشاور میں رو نما ہوا اس نے پو ری دنیا میں بسنے والوں کو متحد کردیا ہے ،ہر آنکھ نم اور دل آبدیدہ دکھائی دیتا ہے ۔ محمد نواز خان نے تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطا ب کرتے ہو ئے اپنے ساتھ بیتی ہوئی ظلم کی داستان کا آنکھوں دیکھا حال تفصیلی بیان کیا جس پر پو رے حال میں سکتا طا ری ہوگیا اور ہر کوئی اپنے آپ کو اس غمناک منظر اور درد ناک کیفیا ت میں بہتا ہوا محسوس کرنے لگا ۔ انہو ں نے کہاکہ برطانیہ امن کی سر زمین ہے اور امن پسند لوگوں کی توجہ اس طرف مرکوز کروانا چا ہتا ہوں پاکستان میں انسانیت سوز واقعہ رونما ہو نے کے بعد دہشتگردی اور انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی صورتحال کو روکنے کے لیے تمام دنیا اپنا مثبت اور مو ئثر کردار ادا کرے اسلامی جمہو ریہ پاکستان وسائل نہ ہو نے اور مسائل کے گرداب میں مبتلا ء ہو نے کے باعث دہشتگردی کے خلا ف تنہا کچھ نہیں کرسکتا ہے اس کے لیے ترقی یافتہ ممالک اور انسانی حقوق کی علمبرداد قوتوں کو اس کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا تبھی جا کر ہم اپنی منزل کی طرف درست سمت میں گامزن ہوسکتے ہیں اور پاکستانی سرزمین میں جو دہشتگردی کے جراثیم پھیلے ہو ئے ہیں ان کے خاتمہ اور دہشتگرد درندوں کو نیست و نابوت کرنے کے لیے ہر فرد کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ انہو ں نے کہاکہ حارس نواز شہید کی قربانی نے ہمیں اس با ت پر عمادہ کیا ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں وحشت اور دہشت کو فروغ دینے والوں کے خلا ف ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھائی جا ئے اور پو ری قوم کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی دنیا بھی دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے ہما رے ساتھ تعاون کرے ، انہو ں نے مزید کہا کہ پاکستان میں امن کے لیے سب سے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھا رت کے ساتھ ساتھ تمام ہمسائیہ ممالک کے ساتھ تعلقا ت بہتر بنا ئے جائیں جو جنگ اور افرا تفری پاکستان میں پھیلی ہوئی ہے اس کے خا تمہ کے لیے پاکستانی حکومت اور افواج کا بھرپور ساتھ دیا جا ئے ۔ انہو ں نے کہاکہ حکومت خیبر پختونخواہ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہو ں نے میرے بیٹے احمد نواز کے علاج معالجہ کے لیے کافی تعاون کیا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ مجھے دہشتگردوں کی طرف سے کئی دفعہ دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن میں اپنے ارادوں سے کبھی دغا نہیں کروں گا میرے بیٹے کی شہادت نے میرے عزم اور ارادوں کو مزید پختہ اور مستحکم کردیا ہے دہشتگردوں کی دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں ہوں جب تک پاکستان میں آخری دہشتگرد کا خاتمہ نہ ہو جا ئے اپنے اس مشن سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔ انہو ں نے کہاکہ جن دہشتگردوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا ان کا اسلام سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے جن لوگوں نے معصوم بچوں کو درندگی کا نشانہ بنا تے ہو ئے موت کی وادی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سلا دیا ان کو کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا ہے وہ اس دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں ہی ذلیل و رسوا ہو نے وا لے ہیں ۔ میری برطانوی حکومت اور اس کے ذمہ داران سے دلی درخواست ہے کہ پارلیمینٹ کے اندر پاکستان میں ہو نے والی دہشتگردی کی بھرپور مذمت کرتے ہو ئے حکومت پاکستان اور مسلح افواج پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں ۔
ہندو مذہبی رہنما روی بوشان نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہر کوئی خو فزدہ ہے اور دہشتگردوں کا کوئی مذہب اور ملک نہیں ہوتا ان کے خلا ف ہمیں متحد و منظم ہونا پڑے گا ۔ بلبیر سنگھ نے کہا کہ سانحہ پشاور میں شہید ہو نے والے بچوں کے گھرانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور امن کے لیے کوششوں کو ہر مذہب اور ہر فرد کو سراہنا چا ہیے ۔ شمس الرحمن خان اور رشید اللہ خان نے کہاکہ جو ظلم پشاور اور پاکستان میں معصوم بچوں پر ڈھایا گیا اس کے خلا ف سب بوڑھے ، بچے اور جوان متحد اور متفق ہیں ۔ فضل ربی نے کہاکہ دہشتگردی کی اس جنگ میں فتح ہمیشہ امن اور ایثا ر کی ہوگی ۔ جسٹس آف پیس اینڈ مئیر آف رغبی کونسلر رمیش سری واستو نے کہا کہ دنیا کا کوئی دھرم اور مذہب معصوم جا نو ں کے ضیا ع کی اجا زت نہیں دیتا ہے سانحہ پشاور میں شہید ہو نے والے بچوں کے والدین کے غم میں برابر کے شریک ہیں دہشتگردی پاکستان میں ہو یا بھا رت میں ہر کسی کو اس کی مذمت میں آواز اٹھا نی چا ہیے اس موقع پر دیگر معزز مہمانان گرامی نے بھی دہشتگردی کی بھرپور مذمت کرتے ہو ئے امن ، محبت اور ایثا ر کو فراغ دینے پر زور دیا ۔ تقریب کے اختتام میں لویش میڈیا ، پیغام ریڈیو برطانیہ اور منتظمین کی طرف سے شہید حارس نواز خان کے والد محمد نواز خان کودہشتگردوں کے خلا ف آواز اٹھا نے اور انکے جذبے کو سراہتے ہو ئے اعزازی شلیڈ بھی پیش کی۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button