تازہ ترینعلاقائی

ٹیکسلا:جی ٹی رود نواب آباد سٹاپ کے قریب نامعلوم ڈکیت گروہ کی اندھا دھند فائرنگ

ٹیکسلا( ڈاکٹر سید صابر علی / نا مہ نگار)جی ٹی رود نواب آباد سٹاپ کے قریب نامعلوم ڈکیت گروہ کی اندھا دھند فائرنگ ، فائرنگ کی زد میں آکر غریب سبزی فروش جانبحق ہوگیا، نعش پوسٹارٹم کے لئے سول ہسپتال ٹیکسلا منتقل،اطلاع پر ایس ایچ او تھانہ صدر پولیس نفری کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔واقعہ کے بعد علاقہ میں خوف ہراس پھیل گیا،تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز صبح دس بجے کے قریب دو افراد موٹرسائیکل ون ٹو فائیو پر جارہے تھے کہ اچانک انھیں چند افراد نے روکنے کی کوشش کی بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ موٹر سائیکل جس پر ڈاکو سوار تھے واہ کینٹ کے علاقہ سے چند روز قبل گن پوائنٹ پر چھیننا گیا تھا جنہیں اتفاق سے اصل مالک نے پہچان لیا اور موٹر سائیکل سواروں کا پیچھا کرتے ہوئے انھیں روکنے کی کوشش کی جس پر موٹر سائیکل سواروں نے نواب آباد چوک پر فائرنگ شروع کردی اور چھینا گیا موٹر سائیکل چھوڑ کر موقع سے فرار ہوگئے ، ڈاکووں کی فائرنگ کے نتیجے میں ملک آباد کا رہائشی محمد صفدر ولد فقیر موقع پر دم توڑ گیا،محمد صفدر سبزی فرو ش کا کام کرتا تھا امروز بھی سزبی منڈی میں فروخت کرنے کی غرض سے ایک رکشہ میں جارہا تھا کہ نامعلوم ڈاکووں کی فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا،چھیننے گئے موٹر سائیکل کی بابت معلوم ہوا ہے کہ ان ڈاکووں نے اسے واردات کے لئے رکھا ہوا تھا ، جبکہ موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ اتار دی تھی ،اسکے باوجود اصل مالک نے نہ صرف ان ڈاکووں کو پہچان لیا بلکہ موٹر سائیکل کی بھی شناخت کردی،ڈاکو فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل پھینک کر پیدل بھاگ گئے،پولیس نے موٹر سائیکل قبضہ میں لیکر تفتیش کا آغا زکردیا،دن دھاڑے اس قسم کی واردات کا رونما ہونا پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے جبکہ مذکورہ ڈاکو چھینے گئے موٹر سائیکل پر بدستور واردتوں میں مصروف تھے جنہیں پولیس کا رتی بھر خوف نہیں ادہر یہ بات قابل زکر ہے کہ ٹی ٹی آئی بتیوں کے پاس قبل ازیں موٹر سائیکل ، موبائل چھیننے اور شہریوں کو لوٹنے کی متعدد وارداتیں رونما ہوچکی ہیں مگر پولیس شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے،گلبرگ کالونی کے رہائشی راجہ سرور کہنا تھا کہ شہریوں کے دن دھاڑے لٹنے کی ورداتوں نے تاجروں اور شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے رپورٹ کے باوجود پولیس ان جرائم پیشہ افراد کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتی یا پھر یہ سب انکی آشیر باد سے ہورہا ہے جس پر پولیس پردہ پوشی کا کام سرانجام دے رہی ہے،ادہر غریب سبزی فورش کی ناگہانی ہلاکت کی خبر سے گھر میں صف ماتم بچھ گیا مذکورہ شخص کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو سبزی فروش کر کے گھر والوں کا پیٹ پالتا تھا مذکورہ شخص کی بابت بتایا جاتا ہے کہ وہ گھر کا واحد کفیل تھا ،ادہر اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ وارداتی گروہ ملک آباد حسین آباد ، نواب آباد کے علاقوں میں ہی رہائش پذیر ہیں ، جو روز مرہ کی بنیادوں پر ڈکیتی ، چوری راہزنی کی ورداتیں کرتے ہیں جمعہ کے رو زبھی موٹر سائیکل پر سوار یہ افراد مسلح تھے جو کسی واردات کے لئے جارہے تھے،شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس محض دکھاوے کے لئے کاغذی کاروائی کرتی ہے جبکہ اس نیٹ ورک کو توڑنے میں تاحال ناکام ہے، قبل ازیں ماڈل ٹاون میں آئل ایجنسی پر ڈکیتی کی وردات میں ڈکیت گروہ کے پانچ رکنی گورہ نے وردات ڈالی جسکی سی سی ٹی وی فوٹجز پولیس کو فراہم کی گئیں مگر اس کے باوجودپولیس ڈیڑھ ماہ گذرنے کے بعدبھی ان ڈکیت گروہ تک رسائی حاصل نہ کرسکی ،ادہر ڈکیتی ، چوری اور راہزنی کی اکثر واردتوں میں پولیس ملازمین کے ملوث ہونے کے قوی خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں قبل ازیں موٹروے ہکلہ کے قریب غیر قانونی ناکہ لگا کر لوٹنے والے پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی بابت سننی خیز انکشافات میڈیا منظر عام پر لائی جو جعلی نمبر پلیٹ گاڑی میں لگا کر ناکہ لگا کے چیکنگ کے بہانے شہریوں کو عرصہ دراز سے لوٹ رہے تھے جس پر موٹر وے پولیس نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے نہ صرف اس ناکہ کو غیر قانونی قرار دیا بلکہ اس سے مکمل طور پر لا علمی کا اظہار کیا سی پی او نے معاملہ آشکار ہونے پر ڈی ایس پی ٹیکسلا کو مذکورہ پولیس ملازمین کے خلاف فوری قانونی کاروائی کا حکم دیا مگر اسکے باوجود تاحال ان افراد کے خلاف کوئی بھی قانونی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ دال میں کالا نہیں بلکہ پوری دال کالی ہے،ناکہ پر شہریوں کو لوٹ کر پیسے جمع کرنے میں اعلیٰ افسران کے ملوث ہونے کا شبہ محض قیاص نہیں رہابلکہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ ایک حقیقت کا روپ دھار چکا ہے جبکہ ہمارے حکمران سمیت پولیس کے اعلیٰ افسران نے چپ سادھ رکھی ہے ، ناکہ پر موجود پرویز اور راجہ سمیع نامی پولیس ملازمین کاتعلق تھانہ ٹیکسلا سے ہے جو ایس ایچ او کے خار خاص کے طور پر کام کرتے ہیں، انھوں نے عقوبت خانے بھی بنائے ہوئے ہیں جہاں شہریوں کو بھاری بھتہ نہ دینے پر عتاب کا نشانہ بنایا جاتا ہے قبل ازیں بھی ایس ایچ او ٹیکسلا ملک محمد خان نے اول خان اور اسکے ساتھی کوکافی عرصہ اپنی غیر قانونی جیل میں رکھا جبکہ ان پر مسلسل تشدد رو ارکھا گیا اور بعد ازاں اول خان سے بھاری روشت لیکر اسے چھوڑ دیا جس نے پولیس کی غیر قانونی تحویل کے بعد رہائی پر پولیس کا سارا کچھا چھٹا کھول دیا جبکہ اسکے ساتھی کا تاحال کچھ معلوم نہ ہوسکا ، ایس ایچ او نے اپنی جان خلاصی کے لئے اپنے ہی چند پولیس ملازمین کو غیر قانونی فعل اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے پر ان کے خلوف مقدمہ کا اندارج کیا جس کا مدعی خود ایس ایچ او بن گیا تاکہ بعد ازاں انھیں بھی قانونی رستہ اختیار کر کے چھڑا یا جاسکے مدعیوں کی بار بار اپیل کے باوجود ایس ایچ او کو مقدمہ میں شامل نہ کیا گیا جسے مدعی قاتل قرار دیتے رہے اور مقدمہ کا مدعی بننے کی درخواست کرتے رہے ،مذکورہ حلقہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا انتخابی حلقہ ہے بار ہا انھیں بھی انصاف کی دھائی کی گئی مگر کچھ حاصل وصول نہ ہوا ، مذکورہ ایس ایچ او جو ایک نوجوان شخص کے قتل میں ملوث رہا تاحال اسی مقام پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے ،

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!