تازہ ترینعلاقائی

سنجھورو:گندم کے باردانے کی عدم فراہمی کے خلاف کاشتکاروں کا احتجاجی مظاہرہ

سنجھورو(نامہ نگار) گندم کے باردانے کی عدم فراہمی کے خلاف کاشتکاروں کا احتجاجی مظاہرہ۔ محکمہ خوراک کے عملے نے باردانا کمیشن کے عوض بیوپاریوں کو دے دیا۔ کاشتکاروں کی گندم کھلے آسمان تلے مارکیٹ میں جانے کی منتظر، بہت سے کاشتکاروں نے اپنی چھ ماہی فصل اونے پونے مڈل مڈل مین کو فروخت کردی۔ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر اور فوڈ انسپیکٹرز غائب، کاشتکار ٹھوکریں کھانے پر مجبور مقامی سیاست دانوں نے اپنے پیٹ بھر کر عوام سے آنکھیں چرالیں۔
تفصیلات کے مطابق ۔سنجھورو سمیت ضلع سانگھڑ میں گندم کا باردانا کاشتکاروں کو فراہم نہیں ہوا۔ ضلع بھر کے 44 سینٹرز میں سے چند ایک کے علاوہ باقی تمام سینٹرز پر فوڈ انسپیکٹرز نے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر سے ملی بھگت کر کے سرکاری باردانا کاشتکاروں کی بجائے کمیشن کے عوض مڈل مین کو فراہم کردیا ہے۔ ضلع سانگھڑ میں با اثر سیاسی شخصیات نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لئے۔ بااثر سیاسی شخصیات کو ان کے اوطاقوں پر باردانا پہچادیا گیا ہے۔ محکمہ فوڈ کے فوڈ انسپیکٹرز نے پچاس کلو کٹہ (بیگ) ایک سو سے ڈیڑھ سو روپئے کمیشن کے عوض گندم کے بیو پاریوں کو فراہم کردیا ہے۔ اس سلسلے میں ضلع بھر میں بیو پاری کاشتکاروں سے 1100 روپئے فی من گندم خرید کر سرعام اپنی دوکانوں پر سرکاری باردانے میں بھر کر سرکاری گوداموں میں بھیج رہے ہیں جبکہ محکمہ فوڈ کی جانب سے مڈل مین کو ادائیگی بھی ترجیحی بنیادوں پر کی جارہی ہے۔ سنجھورو سمیت ضلع بھر میں کاشتکار باردانے کے حصول کے لئے ٹھوکریں کھارہے ہیں۔کاشتکاروں نے نیشنل پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں محکمہ فوڈ کاشتکاروں کی شکایت کا نوٹس نہیں لے رہا یہاں تک کہ ڈپٹی کمشنر سانگھڑ سکندر علی خشک نے بھی آبادگاروں کے لئے اپنے دروازے بند کردئیے ہیں۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی جانب سے ہیومن رائیٹس پیٹیشن نہ لئے جانے کے باعث کاشتکاروں کے لئے انصاف کے دروازے بھی بند ہوگئے ہیں۔ ضلع سانگھڑ میں گندم کی خریداری یکم اپریل سے شروع کی جانی تھی لیکن سابق ڈی ایف سی محمد علی چنڑ اور فوڈ انسپیکٹرز کے درمیان کمیشن کے معاملے پر اختلافات کے باعث گندم کی خریداری شروع نہیں کی جاسکی تھی جس کے بعد محمد علی چنڑ کو شکایات پر سیکریٹری خوراک نے معطل کرکے رفیق شاہانی کو ڈی ایف سی تعینات کیا تھا لیکن رفیق شاہانی نے بھی کاشتکاروں کی شکایات کا ازالہ نہیں کیا ۔ رفیق شاہانی نے اپنی تعیناتی کے فورا بعد باردانا جاری تو کردیا لیکن کمیشن کے عوض مڈل مین کو دیا گیا۔ صحافیوں کی جانب سے ڈی ایف سی رفیق شاہانی اور دیگر سے ان کا موقف جانے کی کوشش کی گئی لیکن ڈی یف سی سمیت محکمہ کے دیگر کسی بھی آفیشل نے فون اٹینڈ نہیں کیا۔ کاشتکاروں نے چیف جسٹس آف پاکستان ، چیف جسٹس ہائی کورٹ، وزیر اعظم پاکستان ، وزیر اعلیٰ سندھ، پاکستان پیپلز پارٹی کے کو چئیر مین آصف علی زرداری اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ کاشتکاروں کا معاشی قتل عام بند کیا جائے اور زراعت کو تباہی سے بچایا جائے

یہ بھی پڑھیں  پی ٹی آئی کا مشترکہ پارلیمانی اجلاس سے بائیکاٹ افسوسناک ہے : خواجہ سعد رفیق

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker