تازہ ترینعلاقائی

داؤدخیل :تعلیم و صحت کے حوالے سے 118 ممالک میں سے 114 واں نمبر ہے

داؤدخیل ( ضیاء نیازی سے ) تعلیم و صحت کے حوالے سے 118 ممالک میں سے 114 واں نمبر ہے۔ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق ابھی ہماری شرح خواندگی 55 فیصد تک پہنچی ہے۔ہم جی ڈی پی کا صرف 2.1 فیصد خرچ کرتے ہیں۔چیف منسٹر سیکرٹریٹ پر خوشامدی افسران کا قبضہ ہے۔بلوچستان کی ابتر صورتحال میڈیا کی پیدا کردہ ہے ۔ڈینئل ، مائیکل باربر اور مسٹر ریمنڈ ہماری تعلیم کا ستیاناس کر رہے ہیں۔مخلوط تعلیم نظریہ پاکستان کی اساس کے خلاف ہے۔بلوچستان میں اساتذہ کو ٹائم سکیل کے مطابق ترقی مل رہی ہے اور پنجاب میں پندرہ بیس بیس سال سے اساتذہ ایک ہی سکیل میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔یہ باتیں تنظیم اساتذہ پاکستان کے صدرڈاکٹر میاں محمد اکرم، سابق کنٹرولر امتحانات پروفیسر غلام اکبر قیصرانی و دیگر نے گزشتہ روز گورنمنٹ کالج میانوالی میں مرد و خواتین اساتذہ کی ایک روزہ تعلیمی کانفرنس کے دوران کہیں۔ میاں اکرم نے کہاکہ کوئی قوم تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ تعلیم انسان کی چھپی صلاحیتوں کو اُجاگر کرتی اور جلا بخشتی ہے۔معاشی زندگی بہتر ہوتی ہے۔تعلیم گورنمنٹ کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ آئے روز نت نئے تجربات تعلیمی نظام کو تباہ و برباد کرنے کے منصوبے ہیں۔آج بھی 65 لاکھ بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔پنجاب کے وزیرتعلیم انگلینڈ کے ماہرین کے بجائے پاکستان کے شہروں اور گاؤں کے ٹیچر سے رائے لے کر پالیسیاں بنائیں۔ اللہ نے پاکستان کو وسائل سے مالامال کر رکھاہے مگر ہم اُس کی ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرسکے اور آج ذلیل و رسوا ہورہے ہیں۔پروفیسر غلام اکبر قیصرانی نے کہاکہ تربیت کا پہلو استاد کی نظروں سے اوجھل ہوچکاہے۔ہماری تنطیم کا مشن تعلیمی اداروں کے اندر نظریہ پاکستان کی اسلامی اساس کا تحفظ ہے۔انہوں نے کہاکہ پنجاب کے وزیرِتعلیم کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔ سی ایم سیکرٹریٹ میں خوشامدی افسران کا ایک ٹولہ بیٹھا ہے جو بے سوچے سمجھے سی ایم کے منہ سے نکلی ہوئی ہر پر لبیک کہہ کر احکامات جاری کررہاہے۔ اس وجہ سے مضاحقہ خیز صورت حال بن رہی ہے۔ بوائز سکولز میں خواتین اساتذہ کی تقرری، خواتین سکولز میں مرد وں کی مانیٹرنگ اور مینٹورنگ وغیرہ جیسے اقدامات اسلامی اقدار کی پامالی کے سوا کچھ نہیں۔انہوں نے کہاکہ امریکہ اور مغرب میں جان بوجھ کر اسلام کی غلط تعبیر پیش کرکے داعش اور حوثی جیسے گروہ پیدا کیے جارہے ہیں۔ بلوچستان کے زیادہ تر علاقہ میں حالات بہت بہتر ہیں مگر میڈیا ایک چھوٹے سے علاقہ کی بدامنی کو پورے بلوچستان پر تھوپ کر منفی رپورٹنگ کر رہاہے۔ بلوچستان میں اساتذہ تنظیمیں پاکستان کی نظریاتی اساس کے لیے بھرپور کام کررہی ہیں۔ہمیں ان آفیسر ز کی نہیں بلکہ ہمارے کندھے میں اللہ کی طرف سے مقرر کردہ آفیسرز کی طرف سے روز لکھی جانے والی اے سی آر کی فکر کرنی چاہیے۔ ڈپٹی ڈی ای او خالد محمود نے کہاکہ تنظیم اساتذہ پاکستان استاد کے حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض کی طرف بھی بلاتی ہے۔سروس سٹرکچر کے ساتھ معیارِ تعلیم پر بھی بات کرتی ہے۔استاد معلمِ معاشرہ ہے۔ یہ تبدیلی لانے والا ایجنٹ ہے۔اے ای او محمد ریاض خان نے کہاکہ پرائیویٹ سکولز کی کامیابی سٹاف کا پور ا ہونا ہے جبکہ ہمارے پرائمری مدارس آج بھی دو دو اساتذہ چلا رہے ہیں۔آٹھ مئی سی ایم ہاؤس لاہور میں ہمارا دو دن کا دھرنا اساتذہ کے حقوق کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔لیکچرر محمد خالد نے کہاکہ آدم کی فضیلت علم کی وجہ سے ہے۔استاد بندوق کی نوک پر نہیں اپنی سوچ سے بات منواتے ہیں۔ٹیچر اور چیٹر میں فرق کرنا ہوگا۔ تعلیمی میدان میں ہمیں اپنی سمت کا تعین کرنا ہوگا۔تعلیمی کانفرنس سے عبدالرزاق خان نیازی، حافظ محمدمشتاق خان اور احمد خان نے بھی خطاب کیا۔ تلاوت کی سعادت محمد شعیب شاہ اور درس حدیث کی غلام اکبر قیصرانی نے حاصل کی۔تعلیمی کانفرنس میں ڈپٹی ڈی ای او اسما حیات، عبدالوہاب نیازی، اے ای او سید ضیاالدین شاہ، لیکچررصفی اللہ ملک، محمد حیات خان،پروفیسر مطیع اللہ خان،ظفراللہ جمالی، شریف عاطف، غلام عباس خان،امین اللہ خان و دیگر درجنوں مرد و خواتین اساتذہ نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر تنظیم کی طرف سے شرکا کوظہرانہ دیا گیا۔کانفرنس کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ۔

یہ بھی پڑھیں  ماروی میمن کوچیئرمین بی آئی ایس پی کےعہدے سےہٹانےکےلیےسمری صدرکوارسال

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker