پاکستانتازہ ترین

مسلم لیگ (ن) کا الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

ایکسپریس اردو

اسلام آباد(بیوروچیف)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ خواجہ سعد رفیق کے حلقے میں ٹریبونل نے منظم دھاندلی کا کوئی ذکر نہیں کیا جب کہ خواجہ سعد رفیق عوامی عدالت میں جانا چاہتے تھے تاہم حکومت نے قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد فیصلے کو ٹریبونل میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اور (ن) لیگ کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کے حلقے میں فیصلہ آنے کے بعد عمران خان نے اسے جشن کے طور پر منایا اب عمران خان جہاں فیصلوں پر جشن منارہے ہیں وہیں قوم کو جواب دیں کہ انہوں نے دھرنوں میں قوم کے 6 ماہ کیوں ضائع کیے کیونکہ پاکستان کوئی بنانا اسٹیٹ نہیں جہاں ڈنڈوں اور دھونس کے ذریعے اپنی شکایات کا ازالہ کیا جائے۔احسن اقبال نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل نے سعد رفیق کے حلقےمیں کہیں منظم دھاندلی کا  ذکر نہیں کیا، خواجہ سعد رفیق کی شدید خواہش تھی کہ وہ ٹریبونل کے فیصلے کے بعد ری الیکشن کے لیے عوامی عدالت میں جائیں تاہم حکومت نے اپنے قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد ٹریبونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر فیصلے کو چیلنج نہ کیا تو غلط روایت پڑجائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان آج جس فیصلے پر سمجھ رہے ہیں کہ انہیں بڑی کامیابی ملی تو یہ ٹریبونل تو 2013 اور 2014 میں بھی تھا لیکن کیا وجہ تھی کہ انہوں نے لاؤ لشکر کے ساتھ اسلام آباد میں ڈیرہ ڈالا اور پوری دنیا میں پاکستان کے حوالے سے غلط تاثر قائم کیا۔وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دھرنے کے وقت عمران خان کی تمام چیزوں کے درپردہ مقاصد کارفرما تھا، وہ بخوبی جانتے تھے کہ حکومت کی اقتصادی پالیسیاں ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کررہی ہیں اور اگر چینی سرمایہ کاری پاکستان میں آئی تو ان کے لیے اگلا الیکشن جیتنا اور بھی مشکل ہوجائے گا اس لیے عمران خان نے ملک میں بے یقین اور ہیجان کی کیفیت پیدا کی اور ان کے دھرنے کی وجہ سے ہی چینی صدر کا دورہ ملتوی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب عمران خان فاتحانہ طور پر قوم کو الیکشن کی نئی نئی خبریں دے رہے ہیں ان کا ایجنڈا ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کو روک کر ملک میں بے یقینی پھیلانا اور یہاں بیرونی سرمایہ کاری کو روکنا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ عمران خان ایک بار پھر میڈیا پر آکر دھاندلی کا ڈرامہ رچا کر شک وشبہات پیدا کررہے ہیں اب انہیں پاک چائنہ رہداری سے خطرہ ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر حکومت اس مقصد میں کامیاب ہوئی تو ان کا اگلے الیکشن میں کامیابی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ احسن اقبال نے کہا کہ اگر 2013 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو اس کے بعد کئی حلقوں میں ضمنی الیکشن  بھی ہوئے جس میں تحریک انصاف جہاں سے جیتی وہاں سے اسے شکست ہوئی، عمران خان کے بقول سب سے متنازع الیکشن کراچی کا تھا لیکن حلقہ 246 میں ووٹوں کا تناسب عام انتخابات جیسا آیا جب کہ انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ملک میں کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں عوام نے اپنا مینڈیٹ واضح طور پر پیش کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button