تازہ ترینعلاقائی

داؤدخیل:سیدعدیل عباس شاہ کی اپنے معذوربچوں کے علاج کے لیے حکومتی اداروں سے اپیل

داؤدخیل (رپورٹ ضیا نیازی )رورل داؤدخیل یونین کونسل کامرکزی شہرپکی شاہمردان جہاں دریائے سندھ کے کنارے آباد ہونے کی وجہ سے شہرت رکھتاہے تو وہاں اس کی وجہ شہرت ایک اوربات بھی بنتی جارہی ہے کہ یہاں کچھ پیدائشی اورکچھ بعدازاں حالات کے ہاتھوں کئی افراد ذہنی طورپراورکئی جسمانی طورپرمفلوج ہوچکے ہیں۔ان میں سے ایک گھرانہ سیدعدیل عباس شاہ کابھی ہے، جس کے دوبیٹے اورایک بیٹی ہے۔بڑابیٹا 27 سالہ حسن عباس اور 20سالہ اسد عباس پیدائشی طورپر ذہنی مریض ہیں۔حسن عباس تواکثرگھرپرہی رہتاہے، بس خاموش خاموش رہتاہے لیکن اسد عباس گھرٹک کرنہیں بیٹھ سکتا بلکہ گھروالوں سے لڑتاجھگڑتاہے، گھرکی چیزیں توڑ دیتاہے، کئی دفعہ دیوارکوگرچکاہے حتیٰ کہ اپنی چھ سالہ بہن انعام زہرہ سے پیارکرتے کرتے اُسے مارنے لگتاہے۔اسدعباس جب باہرنکلتاہے تو پانچ کلومیٹردُورپکی چوک پرآجاتاہے اورہاتھ میں جوچیزآئے گاڑیوں وغیرہ کومارنے لگ جاتاہے اورموٹرسائیکل وغیرہ کودھکے دے کرگرادیتاہے۔اب کئی ماہ سے اس کے والدین نے اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگادی ہیں تاکہ وہ کسی کونقصان نہ پہنچاسکے۔ان کے والد سیدعدیل عباس شاہ اوربچوں کی ماں گزشتہ بائیس سال سے اپنے معذوربیٹوں کی دیکھ بھال میں لگے ہوئے ہیں، علاج کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کرخرچ کرچکے ہیں اورآخرحالات اورعلاج سے مایوس ہوکر گھربیٹھ گئے ہیں، گھرکااکثرسامان فروخت ہوچکاہے، اب عدیل عباس گھرکے گزراوقات کے لیے چنگچی چلارہاہے۔عدیل شاہ نے میڈیا کوبتایاکہ حکومت کے پاس اگرمیرے بیٹوں کاعلاج کابندوبست نہیں ہے توکم ازکم ضلع میانوالی میں ایک ایساسنٹرہی بنادیاجائے جہاں ایسے ابنارمل بچے تعلیم حاصل کرسکیں اوران کی دیکھ بھال کے لیے محکمہ ہیلتھ کی طرف سے کچھ تربیت یافتہ سٹاف بھی مقررہوتاکہ ایسے افراد کی زندگی کی مشکلات میں بھی کمی ہواوروالدین کے لیے کچھ سہولت میسرآسکے۔انہوں نے کہاکہ میری بیٹی انعام زہرہ بالکل ٹھیک ہے ۔جبکہ میرے ماموں زاد کے دوبیٹے فرحت عباس اورراحت عباس شاہ بھی پیدائشی طورپرایسے تھے۔فرحت عباس شاہ کافی عرصہ سے غائب ہوچکاہے جبکہ راحت عباس پکی شاہمردان کی گلیوں میں ساراسارادن ماراماراپھرتاہے۔لیکن ان کی بہن بھی نارمل ہے بلکہ شادی کے بعدخوش وخرم زندگی گزاررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایسے افرادکے لیے مقامی طورپریونین کونسل اورضلع انتظامیہ کو ریکارڈ مرتب کرناچاہیے اوران کے بہتر حالات کے لیے موثراقدامات کرنے چاہیے۔تاکہ کوئی غریب اورپریشان آدمی خودکشی جیسے غلط اورحرام فعل سے بچ سکے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button