پاکستانتازہ ترین

روہنگیا مسلمانوں کا وفد پانچ روزہ دورہ پاکستان کے بعد سعودی عرب روانہ

اسلام آباد (16جون2015ء): میانمار کے مسلمان اکثریتی صوبے اراکان میں جون 2013 ؁ء کے خونی فسادات سے تاحال گزشتہ تین برسوں میں گیارہ ہزار دوسو سات (11,207)روہنگیامسلمانوں کو شہید کیا گیا، چھ ہزار تین سو سترہ (6,317) سمندر میں مچھلیوں کی خواراک بنے، ایک ہزارپانچ سو چودہ (1,514)وبائی امراض سے جاں بحق ہوئے، ایک لاکھ نوے ہزار (190,000)اپنے ہی وطن میں آئی ڈی پیز بننے پر مجبور ہوئے،روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کی ایک سو ترانوے (193) اجتماعی قبریں تھائی لینڈ اور ملائشیا کے ساحلوں پر دریافت ہوئیں جبکہ آٹھ ہزار سے زائد ابھی بھی کھلے سمندر میں پناہ کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔ان دل دہلادینے والے اعدادو شمار کا انکشاف سعودی عرب میں قائم روہنگیا مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم گلوبل روہنگیا سینٹر (جی آر سی)کے وفد نے پاکستان میں چارہ روزہ دورے کے اختتام پر صحافیوں کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کیا، وفد کی قیادت مکہ مکرمہ میں مقیم روہنگیا مسلمان راہنماء شیخ عبداللہ معروف نے اپنے ترجمان نعیم اللہ کے ساتھ کی۔روہنگیا مسلمانوں کے وفد نے پاکستان میں قیام کے دوران پارلیمنٹ کا دورہ کیا جہاں انکا خیرمقدم کرنے کیلئے ڈیسک بجائے گئے اورچیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے معمول کی کاروائی رکواکر اظہارِ یکجہتی کیا گیا، پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر مشترکہ پریس کانفرنس میں صدرچوہدری شجاعت اورسیکرٹری جنرل سینیٹر مشاہد حسین سید نے برمی مسلمانوں کو عملی تعاون کی یقین دہانی کروائی جبکہ جماعتِ اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کے زیرمنعقدہ برمی مسلمانوں سے اظہارِیکجہتی کیلئے احتجاجی ریلی میں خصوصی طورپر شرکت کی۔شیخ عبداللہ معروف کا گفتگو میں کہنا تھاکہ روہنگیا مسلمان اراکان کے قدیمی و اصلی باشندے ہیں، اسلام 14سوسال پہلے عرب تاجروں اور جہاز رانوں نے متعارف کروایا، آج میانمار کی حکومت نے مسلمانوں کے اراکان صوبے سے بدترین نسل کشی کرکے صوبے کو راکھین قوم کے حوالے کرکے راکھین کا نام دے دیا ہے، اراکان میں مسلمانوں کی خودمختار حکومت 1430 ؁ء سے 1784 ؁ء تک رہی، انگریز راج کے تحت برما کی پہلی مردم شماری 1872 ؁ء کے مطابق مسلمانوں کی تعداد 60ہزار تھی جو دوسری مرم شماری 1911 ؁ء میں بڑھ کر دولاکھ تک پہنچ گئی جس سے بدھ اکثریت کو تشویش لاحق ہوئی، برما1938 ؁ء تک برطانوی ہندوستان کا حصہ رہا ۔
گلوبل روہنگیا سینٹر کے صدر شیخ عبداللہ معروف برما کی 1948 ؁ء میں انگریزوں سے آزادی کے بعد کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے، انہوں نے بتایا کہ 1938 ؁ء میں انگریزوں نے برصغیر سے برما کو جداکرکے مسلمانوں کیلئے ناسازگار حالات کی بنیاد رکھی، 1948 ؁ء میں آزادی برما کے بعد 1962 ؁ء میں فوجی انقلاب آیا جس نے تنگ نظر قوم پرست بدھوں کو مسلم دشمنی پر اکسایا، 1982 ؁ء میں حکومتی سطع پر رونگیا مسلمانوں کی شہریت منسوخ کرکے مسلمانوں کی دنیا اندھیرکردی گئی، آزادی برما کے بعد سے اب تک اراکانی مسلمانوں کے خلاف بیس بڑے فوجی آپریشن ہوچکے ہیں، جون 2012 ؁ء کے خونی آپریشن کے بعد مسلمانوں کے 73گاؤں نذرآتش کیے گئے، ایک ہزار چار سو اکاون(10,451)گھر تباہ کیے گئے، چوہتر مساجد (74) شہید کی گئیں، تہتر (73)سکول جلائے گئے، ایک ہزار ایک سو تیس (1,130) مساجد پر قبضہ کیا گیا۔
روہنگیا مسلمانوں نے صحافیوں کو آگاہ کیا کہ پانچ روزہ دورہ پاکستان کے دوران وزیرداخلہ چوہدری نثار، مشیربرائے خارجہ امور سرتاج عزیز،راجا ظفرالحق، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، مولانا عطاء الرحمان،مسلم لیگ (ق)پنجاب کے صدر چوہدری پرویز الہی، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، مسلم لیگ (ق)سندھ کے جنرل سیکرٹری بابو سرور سیال ، انصار برنی ٹرسٹ کے چیئرمین سماجی راہنماء انسار برنی سمیت دیگر نمایاں سیاسی و سماجی شخصیات سے ملاقاتوں میں برمی مسلمانوں کا موقف پیش کیا گیا، حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کا خصوصی طور پر شکریہ اداکرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کے وفد نے مسلم دنیا کے اہم ترین ملک پاکستان کو اپنا قائدانہ کردار ادا کرنے کیلئے او آئی سی کانٹکٹ گروپ برائے روہنگیا میں شمولیت اختیار کرنے کی تلقین کی،روہنگیا وفد کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ مسلم کاز کو سپورٹ کرکے عالمِ اسلام میں بسنے والوں کے جذبات کی ترجمانی کی، انہوں نے پارلیمنٹ میں روہنگیا مسلمانوں کے حق میں قرارداد کی منظوری کے حوالے سے پاکستانی عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور حکومتِ پاکستان سے اپیل کی کہ پاکستان سلامتی کونسل کی قرارداد 238/64کا نفاذ یقینی بنانے کیلئے عالمی برادری کو متحرک کرکے برمی حکومت پر سفارتی دباؤ ڈالے تاکہ اراکانی مسلمانوں کی نسل کشی بند کی جائے اور متاثرہ صوبے اراکان میں اقوام متحدہ کے امن دستے متعین کیے جائیں،وفد نے پاکستانی حکومت کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کیلئے مالی امداد کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ پاکستان میں یوم یکجہتی برائے روہنگیامسلمان منایا جائے اورروہنگیا مسلمانوں کو پاکستانی تعلیمی اداروں میں اسکالرشپ فراہم کیے جائیں، دیگر ہمسایہ ممالک میں پناہ گزینوں کے حوالے سے شیخ عبداللہ معروف نے کہا کہ جو روہنگیا مسلمان ملائشیا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے ساحلوں پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں انہیں مکمل ریفیوجی حقوق اور انسانیت کے نام پر پناہ دی جائے ۔وفد نے تھائی لینڈ اور ملائشیا میں اجتماعی قبروں کی دریافت کے حوالے سے تحقیقات کرکے ذمہ داران کا تعین کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کا کیس عالمی عدالت میں پیش کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ انہیں دورہ پاکستان کے دوران حکومتی و عوامی سطع پر تمام مکاتبِ فکر کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے، میڈیا نمائندوں نے بھی مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے مسائل اجاگر کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں  چیئرمین پی ٹی اے کا تمام موبائل کمپنیوں کو اپنے نائٹ پیکجز ختم کرنے کا حکم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker