بین الاقوامیتازہ ترین

معروف نثرنگار،شاعرہ اورماہرتعلیم فاطمہ رضوی کوشریف اکیڈمی جرمنی کی ڈائریکٹرسوشل ریلیشن لاہورنامزد کردیا گیا

جرمنی(پریس ریلیز)فاطمہ رضوی کا بنیادی طور پر تعلق آزادکشمیر سے ہے اور ضلع میر پور سے ہی آپ نے میٹرک، بی ایس سی آنرز اور ایم اے اردو ادب کی ڈگری حا صل کی اور پھر شادی کے بعد آپ مکمل طور پر لاہور کی ہو کر رہ گئی ہیں جس کے بعد آپ کچھ عرصہ کیلئے اپنی فیملی کے ہمراہ امریکہ روانہ ہو گئیں اور امریکہ سے ایجوکیشن میں ڈگری حاصل کرنے کے بعدکچھ عرصہ آپ امریکہ کے شہرلا س اینجلس میں درس و تدریس کی ذمہ داریا ں ادا کر تی رہیں۔ متعد د مشاعروں میں شرکت کر کے عوامی ، سماجی اور علمی حلقوں سے دادِ تحسین حاصل کرچکی ہیں۔آپ کا کلام ،ناول اور افسانے ملک کے معروف اخبارات اور رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیںآپ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد سے شائع ہونے والے میگزین ’’راوبط‘‘انٹر نیشنل میں بطور بیورو چیف لاہو ر بھی خدمات سر انجام دے رہی ہیں اس کے علاوہ فاطمہ رضوی ٹی وی کے لئے سکرپٹ رائٹر کے طور پر بھی جانی پہچانی شخصیت ہیں جبکہ ریڈیو پاکستان کے لئے بھی آپ نے کئی ڈرامے لکھے اور کوئز پروگرامز میں میزبانی کے فرائض سر انجام دیئے۔فاطمہ رضوی کو ان کی علمی ، ادبی اور سماجی خدما ت کے اعتراف میں مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے متعدد ایوارڈز اور سرٹیفکیٹس مل چکے ہیں۔ریڈیو اور ٹی وی کی جانب سے ایوارڈز کے علاوہ شریف اکیڈمی جرمنی کی جانب سے ’’شیلڈ آف آنر‘‘بی ایم نیوز کی جانب سے ایوارڈکے علاوہ امریکہ سے بھی ایوارڈز اور اسناد مل چکی ہیں۔ فاطمہ رضوی کی ایک شاعری کی کتاب ’’صدائیں‘‘ شریف اکیڈمی جرمنی کے زیر اہتما م جلدشائع ہوکرمنصہء شہود پر آ رہی ہے ۔فروغ علم وادب میں ان کی خدمات اور شریف اکیڈمی جرمنی میں ان کی دلچسپی کے پیش نظر اکیڈمی کے بور ڈ آف ڈائریکٹر کی سفارش پر چیف ایگزیکٹو شفیق مراد نے فاطمہ رضوی کو شریف اکیڈمی جرمنی کی ڈائریکٹرسوشل ریلیشن لاہور نامز دکردیا ہے اور امید ظاہرکی ہے کہ ان کی شمولیت سے لاہور میں علم و ادب کے فروغ کی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔شریف اکیڈمی جرمنی کے ڈائریکٹر پاکستان ولایت احمدفاروقی نے فاطمہ رضوی کو خوش آمدید کہتے ہوئے مبارکباد ی ہے اور کہا کہ ان کے علم اور تجربہ کی روشنی اکیڈمی مزید بہتر خدمات سر انجا م دے گی

یہ بھی پڑھیں  پٹرولیم قیمتوں میں 44 روپے 7 پیسےلٹر تک کمی کی سفارش

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker