تازہ ترینعلاقائی

ایکسین بی اینڈ آر پشین کی جانب سے صحافیوں کودھمکیوں کی شدید مذمت

پشین(بیوروچیف/پاک نیوز)صوبائی چیئرمین کونسل آف آل بلوچستان پریس کلبز ملک سعد اللہ جان ترین نے ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران ایکسین بی اینڈ آر پشین کی جانب سے صحافیوں کو آئے روز دھمکیاں دینے اور گزشتہ دنوں صحافیوں کے گھروں پر لشکر کشی کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پشین کے صحافی اتنے بھی کمزور نہیں کہ وہ ان کے دھمکیوں اور انکے آتشی اسلحے سے ڈر کرحق کی آواز بلند کرنے اور صحافت چھوڑ دیں مزکورہ ایکسین کا ایک قبیلے کیساتھ دشمنی ہے جنھیں وہاں سے دشمنی کے بناء پر یہاں پشین میں ایس ڈی او سے ڈائریکٹ ایکسین بیٹھایا گیاہے اور صحافیوں پر لشکر کشی کی کوشش اور دھمکیوں کے بعد انہیں دوسرا چارج بھی دیدیا گیا چارج دینے والا کون ہوسکتا ہے۔۔؟ مزکورہ حق دشمن آفیسر نے ایک ٹیچر اور میونسپل کمیٹی کے محرر کیساتھ ملکرصحافیوں پر لشکر کشی کی کوشش کی۔ واقعے کے حوالے سے صدر مملکت وزیراعظم پاکستان وفاقی وزیرداخلہ وفاقی وزیر اطلاعات کو درخواستیں بھیجوادی گئی ہے ایکسین کو یہ بتانا چاہتے ہے کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں صحافیوں پر حملہ کرنے کی غرض سے آئے تھے تو پھر حملہ کیوں نہیں کیا؟ ہمیں کمزور نہ سمجھا جائے ورنہ اینٹ سے اینٹ بجادینگے ایکسین یہ اچھی طرح سن لیں کہ ہم محب وطن پاکستانی ہے جو آپکے ڈرانے دھمکانے پر پاکستان چھوڑکر افغانستان جاکر چپ نہیں سکتے حق لکھنے اور بولنے پر ایکسین کی طرح ہزاروں حق دشمن قوتوں کیساتھ لڑسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ پچھلے کسی دور میں بھی اتنی زیادتی اور صحافیوں کیساتھ ظلم و بربریت نہیں ہوا جتنی موجودہ دور میں ہوئی ہے ایکسین کا یہ سوچ غلط ہے کہ صحافی ارشاد مستوئی اور ظفر جتک کوشہید کئے گئے لیکن صحافیوں نے کچھ نہیں کیا تو میراکیا بھگاڑے گا ایکسین یہ بھی جان لیں کہ چند زرد صحافت کے پٹو جو آپکے کہنے اور آپکے بنڈل دینے پر لبیک کرتے رہتے ہیں صوبے میں ایسے بھی صحافی موجود ہے جو آپکی دھمکیوں اور لشکرکشی کی کوشش کے باوجود بھی اپنے سروں کو ہاتھوں میں لئے حق کی آواز اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر پشین زمان بازئی ان تمام تر صورتحال سے بخوبی آگاہ اور چشم دید گواہ ہے جو صدر ووزیراعظم پاکستان کو بھی اس حوالے سے تحریری درخواستیں روانہ کئے جاچکے ہیں ڈپٹی کمشنر زمان بازئی کا تبادلہ بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے مزکورہ ڈی سی کا تبادلہ نہیں چاہتے کیونکہ وہ صحافیوں کیساتھ پیش آنیوالے واقعے کا گواہ ہے اگر انہیں ٹرانسفر کیا گیا تو تنظیم کے پلیٹ فارم سے سخت احتجاجی تحریک چلائینگے جسکی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا گیا کہ بطور پاکستانی اور پشین کے شہری ہونے کے ناطے نیب اور دیگر ادارے زیرمرمت سڑکوں اور بلڈنگوں کے ٹھیکداروں کو ایڈوانس پے منٹ ایشو کرنے کیخلاف ایکشن لیں اورمرمت شدہ وزیرمرمت سڑکوں کے لیبارٹری ٹیسٹ کرائیں تاکہ حقائق خودبخودسامنے آسکیں ایکسین بی اینڈ آر کیخلاف تنظیم کا مشاورت جاری ہے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان صدرٹرائبل یونین آف جرنلسٹ (رجسٹرڈ)خیبر پختونخواہ کریگا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker