تازہ ترینفن فنکار

احمد ندیم قاسمی کو ہم سے بچھڑے 9 برس بیت گئے

کراچی(بیوروچیف) پاک وہند کے ممتاز شاعر، ادیب، دانشور، ڈرامہ نگار اور نقاد احمد ندیم قاسمی کی آج نویں برسی منائی جارہی ہے۔ احمد ندیم قاسمی کا اصل نام احمد شاہ اعوان تھا اور وہ 20 نومبر1916 کو ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے۔ اردو ادب کے ممتاز نقاد کی حیثیت سے انہوں نے ادبی رسالے ’فنون‘ کا اجرا بھی کیا جو کئی دہائیوں تک کامیابی سے شائع ہوتا رہا۔ ان کا شمار ترقی پسند ادیبوں کے صفِ اول کے ادیبوں میں ہوتا ہے لیکن انہوں نے اپنی کہانیاں دیہی پس منظر میں تحریر کی ہیں۔ احمد ندیم قاسمی نے 50 سے زائد کتابیں تحریر کی ہیں جو اب بھی ناقدین اور قارئین دونوں میں یکساں مقبول ہیں۔ دشتِ وفا، محیط، شعلہ گل، لوحِ خاک، رم جھم اور جلال وجمال ان کی شاعری کے مجموعے ہیں جب کہ بازارِحیات، گھرسے گھرتک، کپاس کے پھول، برگِ حنا اور آبلے ان کی کہانیوں اور افسانوں کے مجموعے ہیں۔ ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ چوپال 1939 میں منظرِعام پرآیا تھا۔ احمد ندیم قاسمی کی تحریروں کے ترجمے انگریزی سمیت کئی زبانوں میں ہوئے اور ان کا کام عالمی افق تک پہنچا۔احمد ندیم قاسمی کو پرائڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا اور وہ ملک کی تقریباً تمام بڑی ادبی تنظیموں کی سرگرمیوں کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔ احمد ندیم قاسمی کا اسلوب جدا، کردار نگاری مضبوط اور خیالات بہت ارفع تھے جنہیں قاری اپنے دل کے قریب محسوس کرتا ہے۔ بھارت کے مشہور شاعر، ادیب اور فلم نگار گلزار احمد ندیم قاسمی کو اب تک اپنا روحانی سرپرست قراردیتے ہوئے ان سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں۔ اردو ادب کا یہ چمکتا ستارہ 10 جولائی 2006 کو اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker