پاکستانتازہ ترین

طالبان کی مذاکرات کی پیشکش کو سنجیدگی سے لینا چاہئے، نواز شریف

nawazکراچی (ڈیسک رپورٹر)  مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں جہاں جہاں جس بھی جماعت کو عوامی مینڈیٹ ملا ہے، وہ اسے خوش دلی سے قبول کرتے ہیں، خیبر پختونخوا میں حکومت بناسکتے تھے مگر ہم نے اس کی کوشش نہیں کی بلکہ پی ٹی آئی کو موقع دیا، سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم حکومت بنائیں، ہم ہر ممکن تعاون کریں گے، لیکن پھر لاشیں نہیں گرنی چاہئیں، طالبان کی مذاکرات کی پیشکش کو سنجیدگی سے لینا چاہئے، جانے والی حکومت نے 16 ہزار ارب روپے کے قرضے لئے ، عوام کو پہلے 100 دنوں میں پتاچل جائیگا کہ حکومت صحیح جانب جارہی ہے، مسلم لیگ(ن)کی حکومت اپنے اخراجات کو 30 فیصد کم کرے گی، تمام ممبران اسمبلی کو وقت کی پابندی کی ہدایت کرتا ہوں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور میں نو منتخب ارکان اسمبلی اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہسڑکوں پر آکر حکومت کا تختہ الٹنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے، 11مئی حساب کا دن ثابت ہوا،مہذب قومیں اس طرح کا احتساب کرتی ہیں، جسے مینڈیٹ ملے اس حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کاحق ہے، انتخابی مہم کے دوران کوئی منفی پروپیگنڈا نہیں کیا، اپنی پوری انتخابی مہم کے دوران کسی کوگالیاں نہیں دیں، اپنے اشتہارات میں کسی پر الزام تراشی نہیں کی،آئندہ بھی ایسے مواقع آئیں گے، ہمیں اخلاق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو سب سے بڑا جمہوری ملک کہتے ہیں تو پاکستان کا نمبر بھی دور نہیں، انتخابات کے نتائج آنے کے بعد سے ہی اپنی ذمہ داریاں سمجھنا شروع کردیں،خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کا مینڈیٹ قبول کیا، دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کرخیبرپختونخوا میں حکومت بناسکتے تھے، دوسرے دن ہی ہم نے اعلان کردیاکہ خیبرپختونخوامیں تحریک انصاف کوحکومت بنانی چاہئے۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ ملک شاد و آباد رہے گا تو سیاست بھی ہوتی رہے گی، بلوچستان میں بھی ہمارا مینڈیٹ ہے لیکن وہاں دیگر لوگوں سے بھی بات کی، سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو مینڈیٹ ملا، خوشدلی سے قبول کیا، سندھ میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کو حق ہے کہ حکومت بنائیں، پیپلزپارٹی اورایم کیو ایم کو وفاق سے مکمل تعاون فراہم کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قیام امن کیلئے پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم اقدامات کریں، ہرممکن مدد فراہم کریں گے، ملک بھرمیں قانون اورآئین کی پاسداری ہونی چاہئے، کیوں نہ مذاکرات کے ذریعے پاکستان میں امن قائم کیا جائے، طالبان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ نواز شریف نے کہا کہ راول پنڈی مسلم لیگ (ن) کی توقعات سے دور رہا ہے، پنڈی کے عوام کو بہت کچھ دیا، یہ ہمارا فرض تھا کسی پر احسان نہیں کیا، کوئی حکومت میں شامل نہیں ہوتا تو ن لیگ بحرانوں سے نکالنے کیلئے جدوجہد کرے گی، انتخابی نتائج سے متعلق تمام سروے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرگودھا سے نواز شریف کو ایک لاکھ 40 ہزار ووٹ ملے، لاہور میں بڑے بڑے مارجن سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کامیاب ہوئے، لاہور سے ایک نشست ہارے ہیں، تحقیقات کریں گے کہ ایساکیوں ہوا ، 18 کروڑ عوام کی خدمت کرنی ہے، جنہوں نے ہمیں ووٹ نہیں دیئے ان کی بھی خدمت کریں گے، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والے بھی ہمارے اپنے ہیں اس ملک کے قابل قدر شہری ہیں، جو ہم سے ناراض ہیں ان کے دلوں کو جیتنا ہے۔ مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا ہے کہ خزانے میں بالکل پیسا نہیں ہے، جانے والی حکومت نے 16 ہزار ارب روپے کے قرضے لئے ، یہ قرضے کیسے اتریں گے، کون اتارے گا، جو مسئلہ ہمارے لئے چھوڑا گیا ہے وہ کسی اور کیلئے نہیں چھوڑنا چاہتے، عوام کو پہلے 100 دنوں میں پتاچل جائیگا کہ حکومت صحیح جانب جارہی ہے، مسلم لیگ(ن)کی حکومت اپنے اخراجات کو 30 فیصد کم کرے گی، موجودہ حالات پر قابو پانے کیلئے لینا ہو توقرض لیا جائے گا عیش و عشرت کیلئے نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف توانائی کے بحران کیلئے 500 ارب روپے چاہئیں، میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی کوئی مدت نہیں دوں گا، شہباز شریف نے جوش خطابت میں کئی مرتبہ لوڈ شیڈنگ کے بارے میں کہا، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ میں تیسری مرتبہ پاکستان کاوزیراعظم بنوں، دن رات یہ فکرلگی رہتی ہے کہ ملک کو مسائل سے کیسے نکالیں، چند دنوں میں اسمبلیاں وجودمیں آئیں گی، وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ بنیں گے، تمام ممبران اسمبلی کو وقت کی پابندی کی ہدایت کرتا ہوں، سب وقت پر آئیں، نہ مجھے کسی کا انتظار کرنا پڑے اور نہ میرا کسی کو، ہمیں وقت کی پابندی کرنی چاہئے، ایک ایک لمحہ قیمتی ہے، مسائل بڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : مولانا خلیل احمد رشید ی کے انتقال پر سٹی پریس کلب (رجسٹرڈ ) کے وفد کی انکے صاحبزادے سے تعزیت

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker