تازہ ترینعلاقائی

وزیر اعلیٰ نے گلگت بلتستان کے عوام کی حقیقی معنوں میں ترجمانی کی ہے۔،گلگت بلتستان قومی موومنٹ

گلگت (اطہروانی) گلگت  بلتستان قومی موومنٹ نے حکومت آزاد کشمیر کی گلگت  بلتستان پر دعویداری کو یکسر مسترد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کے موقف کی مکمل تائید اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ایک اخباری بیان میں گلگت  بلتستان قومی موئومنٹ کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہارون خالد نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ محض چار ہزار مربع میل پر قائم ایک خود ساختہ ریاست اپنی مدد آپ کے تحت معرض وجود میں آنے اور اپنی مرضی سے پاکستان کا حصہ بننے والی انتیس ہزار مربع میل کے خطہ پر تسلط چاہتی ہے جسکی کسی بھی حالت میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہارون خالد نے صدر آزاد کشمیر کی جانب سے گلگت  بلتستان کو کشمیر کا حصہ قرار دیے جانے کے اعلان کو انکی سیاسی ناپختگی اور ذہنی دیوالیہ پن سے تعبیر کیا اور اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ انہیں معاہدہ کراچی کے چوون سال گزر جانے کے بعد اس خطے کا خیال آیا اور اس عرصہ میں وہ اور انکے ساتھی اکیلے ہی اقتدار کے مزے لوٹتے رہے جبکہ گلگت  بلتستان کے عوام سرزمین بے آئین میں دوسرے درجے کے شہری کے طور پر تمام بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق سے محروم رہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان کی جانب سے صدر آزاد کشمیر کے شر انگیز بیان کے خلاف جراتمندانہ مئوقف اختیار کرنے پر انکی تعریف کی اور کہا کہ کشمیری نسل سے ہونے کے باوجود وزیر اعلیٰ نے گلگت  بلتستان کے عوام کی حقیقی معنوں میں ترجمانی کی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ وزیر اعلیٰ ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے اس خطہ کے عوام کو مکمل آیئنی حقوق دلوانے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے اور خود کو یہاں کے عوام کا سچا، کھرا اور حقیقی رہنما ثابت کریں گے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اپنی جماعت کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلوایا۔
ہارون خالد نے یاد دلایا کہ گلگت  بلتستان کا یہ خطہ کسی بھی طرح کشمیر کا حصہ نہیں رہا اور دونوں خطوں کے عوام سیاسی، معاشرتی ، لسانی اورتمدنی لحاظ سے ایک دوسرے سے قطعی محتلف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک کوئی بھی کشمیری سیاسی جماعت گلگت  بلتستان میں داخل نہیں ہو سکی اور نہ ہی کشمیری قیادت اس خطہ میں آسکی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ چار ہزار مربع میل کی ریاست  میں اور گلگت  بلتستان کی انتیس ہزار مربع میل کی سرزمین میں بنیادی فرق یہ ہے کہ وہ تقسیم ہند کے دوران سرینگر پر ناکام چڑھائی او ر پاکستان میں تعینات انگریز چیف آف جنرل سٹاف اور ڈپٹی کمانڈر ان چیف جنرل ڈگلس گریسی کی قائد اعظم کی حکم عدولی کرتے ہوئے سرینگر جانے والے مجاہدین کی مدد سے انکارکے بعد میرپور اور مظفر آباد پر مشتمل ایک خود ساختہ ریاست قائم کی گئی جبکہ گلگت  بلتستان کے عوام نے اپنے زور بازو پر ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کی اور اپنی رضا سے پاکستان کا حصہ بنے اور اس وقت بھی اس خطہ کو کشمیر کا حصہ قرار نہیں دیا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ گلگت  بلتستان علیحدہٰ تشخص رکھنے والا خطہ ہے۔ گلگت  بلتستان قومی موئومنٹ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ تریسٹھ سالوں سے بنیادی انسانی، بنیادی جمہوری حقوق سے محروم رکھے جانے کے باوجود اس خطہ کے عوام کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ خود کو پاکستانی کہلوانا باعث فخر سمجھتے ہیں۔ ہارون خالد نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت نے تریسٹھ سال کی آزادی اور خطے کے عوام کی جدوجہد کے بعد یہاں کے عوام کو اپنی حکومت بنانے کا حق تو دے دیا مگر مکمل آئینی حقوق اب بھی حاصل نہیں اور یہاں کے عوام کو ملک کے ایوان ہائے بالا اور زیریں میں کوئی نمایندگی حاصل نہیں جسکی وجہ سے نہ صرف یہاں کے عوام مرکز سے دوری کی وجہ سے ترقی کی دوڑ میں دوسرے علاقوں سے بہت پیچھے ہیںبلکہ اس خطہ کے عوام میں احساس محرومی بھی بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن سے اپیل کی کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مکمل آئینی حقوق کی فراہمی کے سلسلہ میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ تاریخ میں انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس حوالے سے نہ صرف انکی جماعت بلکہ اس سرزمین کا بچہ بچہ انکی حمایت کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں  سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز: پاکستان آج زمبابوے سےمقابلہ کرےگا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker