شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / واہ کینٹ تا روالپنڈی ائیر کنڈیشنڈ بس سروس کا آغاز
SANYO DIGITAL CAMERA

واہ کینٹ تا روالپنڈی ائیر کنڈیشنڈ بس سروس کا آغاز

ٹیکسلا(ڈاکٹر سید صابر علی / نا مہ نگار)واہ کینٹ تا روالپنڈی ائیر کنڈیشنڈ بس سروس کا آغاز چودہ بسوں پر مشتمل گاڑیاں واہ کینٹ سے راولپنڈی صدر تک عوام کو ارزاں کرائے پر سفری سہولیات مہیا کریں گی۔مسلم لیگ ن کے مقامی قائدین ، ٹی ایم اے ٹیکسلا کے افسران، اسسٹنٹ کمشنر ٹیکسلا کی افتتاحی تقریب میں شرکت ،واہ کینٹ سے اے سی بس سروس کا آغاز کردیا گیا،افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما سابق ایم پی اے حاجی ملک عمر افاروق نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان کی خصوصی مہربانیوں سے ٹیکسلا واہ کینٹ کے باسیوں کو عوام کی فالح و بہبود پر مشتمل میگا پروجیکتس مل رہے ہیں،قبل ازیں واہ کینٹ میں سو بیڈ پر مشتنمل جدید ہسپتال جو سات ارب روپے کی کثیررقم سے شروع ہوا ،چوہدری نثار علی خان کی حلقہ عوام سے والہانہ محبت کو منہ بولتا ثبوت ہے،چوہدری نثار علی خان نے شکست کے باوجود عاوم کو کروڑوں روپے کے میگا پروجیکٹس دیئے،دوسری طرف یہاں سے منتخب ہونے والے ایم این اے اور ایم پی ایز ہیں جنہوں نے گزشتہ دوسالوں سے عوام کو لولی پاپ کے سوا کچھ نہ دیا،انکا کہنا تھا کہ وہ چوہدری نثار علی خان کے جذبوں اور عوام سے والہانہ محبت کو سلام پیش کرتے ہیں ،جنہوں نے کسی مرحلہ پر عوام کو فراموش نہیں کیا بلکہ پہلے سے بڑھ کر عوامی فلاح و بہبود کے کام کئے،علاقہ کی تعمیر و ترقی میں چوہدری نثار علی خان کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے ،اس موقع پر مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر سردار ممتاز پسوال، سید عمران حیدر نقوی ،ٹی ایم او قمر زیشان،اسسٹنٹ کمشنر ٹیکسلا شاہد عمران مارتھ ،ملک ضرار اعوان،ضلعی چئیرمین زکوۃ و عشر کمیٹی شیخ ساجد،امیدوار برائے کونسلر شیخ ساجد محمود،ملک عمر فاروق کا کہنا تھا کہ جو شخص ہمارے ساتھ اس حلقہ کے عوام کے ساتھ اتنی وفا نبھا رہا ہے صاحب کردار اور صاحب بصیرت لوگ اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتے

یہ بھی پڑھیں  پاکستان کا امریکہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا باضابطہ مطالبہ

ایک تبصرہ

  1. ماہنامہ’’ شعوب‘‘ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر
    محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلے کے ایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے ’’شعوب‘‘ کے نام سے ایک ادبی پرچے کا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر �آیا ہے ۔ زیرِ نظر پرچہ’’ شعوب‘‘ اپنے حسنِ اسلوب اور جامع و اکمل مضامین کے اعتبار سے لائقِ توجہ ہے۔’’ شعوب‘‘ میں مختلف اقوام و ملل کی تاریخ شامل کی گئی ہے جس کہ وجہ سے وطنِ عزیز میں باہمی یگانگت اور عالم گیر محبت و اخوت کے جذبات کو فروغ دینے میں مددد ملے گی ۔تاکہ اندرون و بیرونِ ملک دشمنوں کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لئے امتِ مسلمہ یک قالب اور یک جان ہو سکے ۔ یہ وہ عظیم فکر ہے کہ جس میں سب سے پہلے قومی شاعر حضرت علامہ محمد اقبال ؒ کے بتون میں جنم لیا اور مسلمانوں کو ملی وحدت کی لڑی میں پرو دیا۔ قطب شاہی اعوان ، مسلم کھتری تاریخ کے آئینے میں، سندھ بلوچستان میں عربوں کی حکومتیں اور عباسی تاریخ کے آئینے میں، جیسے رنگارنگ مضامین فکری ترفع اور وسعتِ معلومات کے آئینہ دار ہیں۔یہ مضامین تاریخ کے وہ گم شدہ اوراق ہیں جنہیں اس دستاویزِ محبت میں ورق ورق سجا دیا گیا ہے۔ ویلٹائن ڈے، مغربی ثقافت کاآئینہ دار ہے جسے اسلامی تہذیبوں کے تناظر میں تحریر کیا گیا ہے جو کہ شاہدہ خان کے قلم کاشاہکار ہے۔ عاصم شہزاد کا مضمون حضرت بابا سجاول ؒ ایک عمدہ تحریر ہے جس میں حضرت بابا سجاولؒ کے حالاتِ زندگی عرق ریزی سے مرتب کئے گئے ہیں۔ مخدوم سید معین الحق جھونسوی کی تحقیق کاترجمہ علامہ ڈاکٹر ساحل شہسرامی الیگ نے کیا ہے۔جو اعوان علوی قبیلے کے سلسلے میں نئی معلومات فراہم کرتا ہے۔ محمد آصف کا مضمون’’ مری‘‘ سیاحوں کے لئے ایک یادگار حیثیت کا حامل ہے۔ رنگارنگ تصویروں سے مزین رسالہ ’’شعوب ‘‘اپنے صوری اور معنوی اعتبار سے بے پناہ کشش کا حامل ہے۔ مستقیم غوری صاحب کا مضمون’’ سخن کاساحر محبت کا شاعر آحمد فراز‘‘ ہر دل عزیز عوامی شاعر احمد فراز کی زندگی کے بارے میں جامع معلومات فراہم کرتا ہے۔ انتخاب کلام سے مستقیم غوری کے ادبی ذوق کا اندازہ ہوتا ہے۔ شاکر کنڈان کا مضمون ’’ایک اٹا ہوا فقرہ‘‘ صنفِ انشائیہ کے قریب ہے جس کا پیرائیہ اظہار ادبی استعارات اور علامات سے مزین کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر وحید قریشی کی کتاب ’’شبلی کی حیاتِ معاشقہ ‘‘میں ان کے عطیہ فیضی سے عشق کی تمام تفصیلات جذیات سمیت موجود ہیں ۔خصوصاََ شبلی کی عشقیہ غزلیں لائقِ توجہ ہیں، جن میں عطیہ فیضی کا نام بھی استعمال کیا گیا ہے۔ حیرت ہے کہ شاکر کنڈان نے یہ کتاب ابھی تک نہیں پڑھی اور ان کا دیا گیا حوالہ تاریخی اعتبار سے ساقط قرار پاتا ہے۔ میرا جی کا میراثین سے عشق ہر خاص و عام میں مشہور ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ انہوں نے ثناء اللہ ڈار سے میرا جی کا سفر کیسے طے کیا۔ شاکر کنڈان اس ذکر کو سرے سے ہی غائب کر گئے۔ واضح ہو کہ میرا جی کی شاعری پر اسرار اور ماؤرائی ہے جس میں فرائیڈ کے تحلیلِ نفسی کے نظریئے کے تحت تمام جذبوں اور سوچوں کا آئینہ دار جنس کا جذبہ ہے۔ رومان اور عشق سے ان کاعلاقہ نہیں بنتا۔ میرا جی نے دیو مالائی طلسماتی داستانوی رموز و آلائم کے ذریعے اپنے مافی الضمیر کو صدیوں اور زمانوں کے تسلسل میں بیان کیا ہے۔
    بانو قدسیہ کا افسانہ’’ نیتِ شوق‘‘ کافی عرصے کے بعد پڑھنے کو ملا ہے۔ جس میں انہوں نے نسوانیت کی نفسیاتی جہتوں کو خوب صورت طریقے سے سمویا ہے۔ رئیس فروغ ایک معروف شاعر ہیں جن کی غزل پڑھنے سے اختر انصاری اکبر آبادی کے رسالہ’’ نئی قدریں‘‘ میں چھپنے والا ایک مضمون یاد آ گیا جس مین ان کے خوبصورت اشعار کا حوالہ دیا گیا تھا۔
    ؔ میر بھی ایک باپ تھا اچھا سا ایک باپ
    وہ جس جگہہ پہنچ کے مرا تھا وہیں ہوں میں
    معلوم ہوتا ہے کہ رئیس فروغ نے فنی ارتقا کے مراحل سے گذر کر غزل کو جدید تر آہنگ سے ہم آہنگ کر لیا ہے۔ ان کا ایک شعر دیکھئے : ۔
    رات بہت ہوا چلی اور شجر بہت ڈرے
    میں بھی ذرا ذرا ڈرا پھر مجھے نیند آ گئی
    ساقی فاروقی اپنی نغمہ نگاری کیوجہ سے معروف ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی غزل پڑھ کر اندازا ہوا کہ وہ اس میدان مین بھی کسی سے پیچھے نہیں۔
    اس گھر کے مقدر میں تباہی نہ لکھی ہو
    وہ جس نے خیال اپنے مکین کا نہیں رکھا
    شاہد ہ حسن ایک منجھی ہوئی صاحبِ اسلوب اور منفرد شاعرہ ہیں۔ ان کی غزل سہل ممتنہ کے قریب ہے اور پختگی کلام کو ظاہر کرتی ہے۔وہ انسانی فطرت کا قریب سے مطالعہ کرتی ہیں اور ان کی اس غزل میں مناظرِ فطرت سے اخذو اکتساب کاعمل ملتا ہے۔
    غلام رسول قلندری لائبریرین کا مضمون ’’مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری ‘‘ اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔
    ملک محبت حسین اعوان ایک مایہ ناز محقق اور بصیرت افرروز دانش ور ہیں جنہوں نے اعوان قبیلہ کی تاریخ پرمبسوط کام کیا ہے، جو ان کی عرق ریزی اور شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہے ۔ ان کی تاریخی کتب اندرون و بیرون ملک ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ان کا فکری وژن اور دانش’’ شعوب‘‘ کے ہر ہر لفظ سے ٹپک ٹپک پڑتی ہے۔ ان کا مرتبہ یہ رسالہ بیک وقت عوام اور خواص دونوں کے لئے بے پناہ اہمیت کا حامل ہے۔’’ شعوب‘‘ میں جہاں عامتہ الناس کے لئے معلوماتی تحریریں ملتی ہیں وہاں اہل علم و دانش کے لئے بھی وقیع سرمایہ موجود ہے۔’’ شعوب‘‘ نے گوشہء ادب ،گوشہ تصوف، تاریخ، سیاحت، روزمرہ زندگی کے مسائل ، اساتذہ کے کلام سے انتخاب، تاریخ الانساب اور بالخصوص اعوان کاری سے متعلق معلومات کے شعبے ملک محبت حسین اعوان کے بلند پایہ علمی ذوق کے آئینہ دار ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ’’ شعوب‘‘ میں شامل مضامین کی تعداد زیادہ کی جائے اور اگر ممکن ہو تو اس کے صفحات میں بھی اضافہ کیا جائے ،کیونکہ آجکل کے دور میں قاری ایسے ہی پر از معلومات اور دلچسپ رسالے کو پڑھنے کا خواہش مند ہے۔’’ شعوب‘‘ ایک ایسا شمارہ ہے کہ جو ہر ذوق اور مزاج کے قاری کے لئے تسکینِ طبع کاباعث بنتا ہے۔ فکریاتِ اقبال پر بھی قلم اٹھایا جائے۔ تاریخ پاکستان کے اہم کرداروں کو بھی سامنے لانے کی ضرورت ہے اور بالخصوص اسلامی تعلیمات سے متعلق بھی گوشے کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ ’’شعوب‘‘ میں شامل ادبیات کا حصہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ لہذا اس کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔ معلوم پڑتاہے کہ مرتبین کا ادبی ذوق و شوق عصری ادبی منظر نامے سے پیوستہ ہے۔ میری دعا ہے کہ ’’شعوب‘‘ خوب سے خوب تر ہو اور اپنے اسلوب میں ہمیشہ سب کو مرغوب ہو ۔ یہ رسالہ ہر کسی کو مطلوب ہو۔
    نیک تمناؤں کے ساتھ خدا حافظ محمد عارف پروفیسر (ٹیکسلا)

    Back to Conversion Tool
    Linux VPS | Dedicated Servers | Urdu Home