تازہ ترینعلاقائی

قانون سب کے لئے ایک ہے معاشرے کہ کسی بھی فردکوقانون شکنی کی اجازت نہیں۔ایس ایس پی بارکھان

بارکھان(نامہ نگار)ایس ایس پی بارکھا ن امین شاہ بخاری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سی ایم بلوچستان کی ہدایت پر بارکھان،و رکنی میں تین روز کے لئے غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر عبدالحق کی سربراہی میں کیا گیا ۔جس میں کل 4 گاڑیاں و 13موٹر سائکل پکڑے گئے۔گزشتہ شب ایس ایچ او تھانہ رفیق احمد ہمراہ پولیس پارٹی نے گریڈ اسٹیشن بارکھان کے ساتھ ناقہ لگایا ہوا تھا تو اسی اثناء میں ایک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا، گاڑی نہ رکی تو پولیس نے گاڑی کا تعاقب کیا پولیس پارٹی پہنچی تو گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز کے پرنسپل محمد نسیم اس گاڑی میں سوار تھے ۔جب ان سے گاڑی کے کاغذات طلب کئے گئے تو پرنسپل صاحب برہم ہو گئے اور ایس ایچ او کے ساتھ بدتمیزی پہ اتر آئے۔کاغذات کا بارہا پونچھنے پر کاغذات نہ دکھائے اور گاڑی کو لاک کر کے گھر چلے گئے۔پولیس اہلکار گاڑی کو دھکا لگا کر پو لیس تھانہ بارکھان لے آئے۔پولیس ایس ایچ اوتھانہ بارکھان نے گاڑی پر 550کا کیس بنا دیا۔گاڑی پر ایف آئی آر ہونے کے بعد پرنسپل نے طلباء اور شہر کے لوگوں کو اکسانا شروع کردیا اور پولیس تھانہ کے باہر رات کو احتجاج کروا دیا۔احتجاج کی سربراہی پرنسپل کے قریبی رشتہ دار کررہے تھے۔جس پر ہم نے پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج نسیم خان بارکھا ن کے خلاف زیر دفعہ 186,189,504,506 کے تحت مقدمہ درج کر دیا۔تو صبح ہوتے ہی پرنسپل ڈگری کالج بارکھان کے کہنے پراور اسکے بھائی اور چند قریبی رشتہ داروں کی سربراہی میں طلباء اور کچھ شرپسند عناصر پولیس کے خلاف پولیس تھانہ بارکھان کے سامنے نارہ بازی شروع کردی اور بارکھان سبی روڈ بلاک کر دیااور مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ پرنسپل دگری کالج بارکھان کے خلاف درج ایف آئی آر کو واپس لیا جائے اور ایس ایچ او رفیقْ احمد کو پرنسپل کے ساتھ بدتمیزی کرنے پرمعطل کیا جائے۔توایس ایس پی بارکھان کی ہدایت پر ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر عبدالحق بلوچ مظاہرین سے مذاکرات کرنے کے لئے آئے 2گھنٹے کی کوشش کے بعد مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ڈی ایس پی نے طلباء سے مظاہرہ ختم کرنے کی گزارش کی جس پر طلباء اور مظاہرین جزباتی ہو ئے اور ڈی ایس پی کے ساتھ بدتمیزی شروع کردی پھر پولیس پارٹی نہ موقع پر پہنچ کر مطاہرین پر لاٹھی چارج شروع کردیا اور مظاہرین اور پولیس کے درمیاں ہاتھا پائی ہوئی اور پولیس نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جس میں چند افراد کو گرفتار کر لیا گیا اور چند مظاہرین کو گرفتار کرنے کے لئے مختلف جگہوں پر چھاپے مارے گئے۔مظاہرین کی گرفتاری کے بعدپولیس اور مظاہرین کے درمیان ایک دفعہ پھر مذاکرات شروع ہوئے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد تمام گرفتار مظاہرین کو رہا کر دیا گیا۔ایس ایس پی بارکھان نے مزید کہا قانون سب کے لئے ایک ہے معاشرے کہ کسی فرد کو قانون شکنی کی اجازت نہیں۔ ضلع بارکھان میں پولیس کی رٹ قائم ہو چکی ہے اور چند شر پسند عناصر اس رٹ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لہذا میں بارکھان کی عوام سے اپیل کرتا ہو کہ وہ ان لوگوں کے جھانسوں میں نہ آئے ۔پولیس عوام کی خدمت اور تحافظ کے لئے ہے۔ہمیں اعلیٰ حکام سے احکامات ملتے ہیں تو ہم ان پر عمل کرتے ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان قائم رہے

یہ بھی پڑھیں  جھنگ:منڈی شاہ جیونہ میں گدھوں کا گوشت فروخت کرنے والے میاں بیوی آلات سمیت گرفتار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker