پاکستانتازہ ترین

دھرنےکےباعث مقدمات غیرضروری طورپرالتواءکاشکارہوتےرہے،چیف جسٹس آف پاکستان

اسلام آباد(بیوروچیف)چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ کسی بھی ادارے کو اُس کی مقررہ حدود سے تجاوزکی اجازت نہیں، عدلیہ کی کوشش ہے کہ ایسا حکم دے جس سے غیر قانونی اقدامات کی تصحیح ہو ۔نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی نے کہا کہ تقسیمِ اختیارات کا اصول جمہوریت کی بنیاد ہے جو اداروں کےمابین توازن کو یقنی بناتاہے۔ ایسا جمہوری ڈھانچہ بنایاجائےجس میں اقتدارعوام کےمنتخب نمائندوں کے ذریعے چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تشریح کے مطابق جمہوریت،رواداری،معاشرتی عدل کےاصولوں پرعمل کیاجائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمات کےفیصلےمیں تاخیرسب سےزیادہ تکلیف دہ بات ہے،غریب اورنادارطبقےکوحصولِ انصاف کیلیےطویل انتظارکرناپڑتاہے،کوشش کریں گےکہ مقدمات کافوری اوربروقت فیصلہ کیاجائے۔دھرنےکےباعث مقدمات غیرضروری طورپرالتواءکاشکارہوتےرہے، کئی ماہ تک وکلاءاورسائلین کوعدالت پہنچنےمیں دشواری ہوئی۔ان کا مزید کہنا تھاکہ عوامی اہمیت کےسبب آئینی ترامیم کےمقدمےمیں فل کورٹ بنائی گئی ، جس سے دیگر مقدمات کی سماعت پراثرپڑا، چیف جسٹس نے بار ایسوسی ایشنز پر زور دیا کہ وہ نظامِ انصاف کااہم حصہ ہونےکی حیثیت سےاپنا مثبت کردار ادا کرے

یہ بھی پڑھیں  کرپٹ حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کیلیے اسلامی انقلاب کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں، حافظ نزیراحمد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker