تازہ ترینعلاقائی

پھولنگر:مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت اور کرپشن میں اضافہ تبدیلی سرکار کے تحفے ہیں،شوکت چدھڑ

بھائی پھیرو(نامہ نگار) بھائی پھیرو۔زرعی مداخل تیل،بجلی،کھاد اور کیڑے مار ادویات کی ہوش ربا مہنگائی کی وجہ سے گندم کی پیداوار تیس فی صد کم ہو گئی۔مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت اور کرپشن میں اضافہ تبدیلی سرکار کے تحفے ہیں۔سابقہ حکومت کی ناکام زرعی اور معاشی پالیسیوں کو صحیح ٹریک پر ڈالنے کیلیے موجودہ حکومت ہنگامی اقدامات اٹھائے-ان خیالات کا اظہار یہاں جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر میاں محمد اسلم اور جے آئی کسان بورڈ پاکستان کے صدر چوہدری شوکت علی چدھڑ نے کسان بورڈ کے مرکزی اور صوبائی عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے کیا۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم اور مرکزی صدر کسان بورڈ چوہدری شوکت علی چدھڑ نے اپنے اپنے خطاب میں کہا کہ سابقہ تبدیلی حکومت کی غلط زرعی پالیسیوں، زرعی مداخل تیل،بجلی،کھاد اور کیڑے مار ادویات کی ہوش ربا مہنگائی کی وجہ سے اس سال گندم کی پیداوار تیس فی صد کم ہو گئی ہے اور ملک قحط سالی کے دھانے پر پہنچ گیا ہے جبکہ ملک کے کسان کنگال ہو چکے ہیں۔مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت اور کرپشن میں اضافہ تبدیلی سرکار کے تحفے ہیں اور زراعت تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے۔سابقہ حکمرانوں نے عوام کے مسائل میں اضافے اور مہنگائی کے سواکچھ نہیں دیا۔پی ٹی آئی کے دور حکومت میں زرعی مداخل کی بڑھتی قیمتوں اور کھاد کی کمیابی کی وجہ سے اس سال گندم سمیت زرعی اجناس کی پیداوار انتہائی کم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ملک کے کئی اداروں میں 205ارب روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف تبدیلی سرکار کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پٹرولیم، ٹیلی کام، این ایچ اے، پی ڈبلیو ڈی سٹیٹ آفس اور اوگرا میں ذمہ داران کا تعین ہونا چاہیے۔ مہنگی ایل این جی خریداری سے ایک ارب 65کروڑ 97لاکھ روپے اور کم سیلز ٹیکس سے پونے 19کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ کسان بورڈ کے شوکت چدھڑ نے اس حوالے سے مزیدکہا کہ جماعت اسلامی پاکستان نے کسان برادری سمیت تمام طبقہ زندگی کے عوامی مسائل پر آواز اٹھانے پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا حکومتی اعداد و شمار کے خلاف مہنگائی کے طوفان نے ہر پاکستانی کو متاثر کیا ہے۔ عوام کی زندگی روز بروز مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جارہی ہے۔ مٹھی بھر اشرافیہ نے پاکستان کا جو حشر نشر کیا ہے، اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔انہوں نے موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سب سے پہلے زرعی پالیسی بنانے کیلیے ملک بھر کی کسان تنظیموں کا اجلاس بلائے اور فوری طور پر کسانوں کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے وگرنہ ملک بھر کی زراعت دم توڑ جائے گی اور ملک میں قحط سالی کا راج ہو گا۔کسان بورڈ کے صدر نے اعلان کیا کہ وہ کسانوں کے مسائل کے حل کیلیے جلد ہی موجودہ حکمرانوں کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرکے انہیں کسانوں کے مسائل سے آگاہ کریں گے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!