تازہ ترینکالممحمداعظم عظیم اعظم

نیوز لیکس نوٹیفیکشن اور فوج کادرست ردِعمل. !!

ٓ ایسا لگتا ہے کہ جیسے وزیراعظم نوازشریف کی قسمت میں لیکس کے معاملے لکھ دیئے گئے ہیںاَب اِسی کو ہی دیکھ لیں کہ ابھی نوازشریف پاناما لیکس سے ٹھیک طرح سے نکلنے بھی نہ پا ئے تھے کہ ڈان (نیوز) لیکس کے معاملے نے سر اُٹھایا اور پھر جب سے ابھی تک وزیراعظم نوازشریف پاناما لیکس کے بعد ڈان لیکس کے گرداب میں غوطہ زن ہیں۔
 اگرچہ یہ ٹھیک ہے کہ دونوں ہی لیکس اپنی اہمیت اور نوعیت کے لحاظ سے اپنی جگہہ مُلکی مسائل اور بحران و سلامتی اور بقاءو سا لمیت کے لئے خطرات و مشکلات اور پریشانیوں کا باعث ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت دونوں ہی معاملات کو اداروں کے ٹکراو کے بغیر درست انداز سے سُلجھا نے اور اِن کا دیدپاحل نکالنے میں اَب تک اُس انداز سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی ہے جیسا کہ دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک کے کرتادھرتا اپنے ایسے معاملات کے حل کے لئے کوئی درمیانی راہ اختیار کرتے ہیں اور اپنے ایسے اور شاید اِس سے بھی کہیںزیادہ سنگین معاملات کا آپس میںمل بیٹھ کر حل کرلیا کرتے ہیں ۔
گزشتہ دِنوں وزیراعظم نوازشریف نے نیوزلیکس کے لئے قا ئم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی رپورٹ کی سفارشات کی منظوری دی اور جس کے بعد اِن کے ایماپر وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن کے دستخط سے ایک مبہم نوٹیفیکیشن جاری کیاگیا جس کے مطابق مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی سے خارجہ امورکاپورٹ فولیو واپس اور پریس انفارمیشن آفیسر راو ¿ تحسین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عہدے سے ہٹادیا گیا اوراسٹیبلمنٹ ڈویژن بھیج کرذمہ دار متعلقہ وزارتوںاور ڈویژنز کے خلاف بھی ضابطہ کارکے تحت کارروائی کا حکم دیاگیاجبکہ اِسی نوٹیفیکیشن میں سابق وزیراطلاعات پرویز رشید کو کلین چٹ دی گئی اور اے پی این ایس کو بھی یہ عندیہ دیاگیاکہ قومی سلامتی کے حوالے سے خبریں صحافتی اقدار کو پیشِ نظررکھ کر شائع کی جا ئیں خبر ہے کہ اِس نوٹیفیکیشن کے جاری ہونے کے فوراََ بعدپاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفورنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپرنوٹیفیکیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ” تحقیقاتی رپورٹ پرحکومتی نوٹیفیکیشن انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق ہے اور نہ ہی مکمل،اِسے مستردکرتے ہیںفوج خود تحقیقات کرنے پر سنجیدگی سے غورکررہی ہے“ جس کے جواب میں حکومت سمیت بعض حکومتی حمایت یافتہ جماعتوں کے سربراہان کا بھی ایسا موقف سا منے آیا کہ اگر کچھ تھا تو جیسے فو ج کو اِس معاملے کو اپنے تحفظات کے ساتھ اِس طرح سامنے نہیں لانا چا ہئے تھا جیسا کہ فو ج کی طرف سے لایا گیاہے۔
  جس پرراقم الحرف کو سخت حیرانگی ہوئی اور سیاستدانوں کے اِس رویئے کو غیرمناسب قراردیا اِس موقع پر حکومت اور حکومتی حمایت یافتہ جماعتوں کے سربراہان ایک لمحے کو یہ سوچ لیں کہ فوج اگر یہ نہ کرتی تو پھر اور کیا کرتی ؟؟فوری اور بروقت اپنے ردِ عمل کا فوج کے پاس اِس سے اچھا اور پا ئیدار ذریعہ اور کوئی نہیں تھافوج کی جا نب سے جیسا درِ عمل آیا ہے ایسے نوٹیفیکیشن پر اِس سے اچھا درِ عمل اور کوئی ذریعہ مناسب ثابت نہیں ہوسکتاتھا۔
تب ہی جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی پشاور کے جلسےِ عام میں واہ شگاف انداز سے کہا کہ ” ڈان لیکس کے معاملے پر متعلقہ ادارے کی شکایت جا ئز تھی“جس وقت مولانا فضل الرحمن یہ بیان ریکارڈ کرارہے تھے عین اُسی وقت یہ خبر بھی آئی کہ ”لاہور جا تی امرارائیونڈ میں چیدہ چیدہ حکومتی بڑے عالمِ فکر و اضطراب میں سرجوڑکر بیٹھنے پر مجبو رہوئے اور وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت ہونے والے اپنی نوعیت کے اِس اہم ترین اجلاس میں شہباز شریف، چوہدری نثارعلی خان ، اسحاق ڈار، فواد حسن اور حکومت اور ن لیگ کی پارٹی کے دیگر وزراءاور سینیئر اراکین اور اِدھر اُدھر کے کارکنان بھی شریک تھے جس میں یہ فیصلہ کیا گیاکہ محاذ آرائی کی سیاست پر یقین نہیں، نیوز لیکس نوٹیفیکیشن پر فوج کے تمام تحفظات اور غلط فہمیوں کوختم کرتے ہوئے سفارشات پر مزید نوٹیفیکیشن جا ری کئے جا ئیںگے،اور مزید یہ کہ اجلاس میں نیوزلیکس سمیت دیگر لیکس سے متعلق تمام پہلوو ¿ں کا باریک بینی سے جائزہ اور تجزیہ بھی کیا گیااور آئندہ کے لئے حکومتی حکمتِ عملی وضع کی گئی “ تو یہ چاہئے تھا کہ نیوزلیکس کے معاملے پر یہ نوبت ہی نہ آتی اور اندر ہی اندر افہام و تفہیم سے سارامعاملہ حل ہوجاتا مگر حکومت کی جا نب سے ایسا نہیںکیا گیاجیسا کہ کیا جا نا تھا۔
آج اِس منظر اور پس منظر میں یہ نقطہ سب کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ حکومت پاناما لیکس کی طرح ڈان لیکس کے معاملے میں بھی پہلے ہی روز سے غیرسنجیدہ رہی ہے اور جب بھی نیوز لیکس کے بارے میں حکومت اور حکومتی ذرائع سے اصل حقائق دریافت کرنے کی کو شش کی گئی تو حکومتی ذرائع اِدھر اُدھر کی ہانک کر کنی کٹا کر چلتے بنتے اگر 6اکتوبر2016ءکو مُلک کے ایک انگریزی اخبار میں سول اور عسکری قیادت کے ہونے والے اپنی نوعیت کے اہم ترین اجلاس میں مُلکی امور سے متعلق کئے جا نے والے بہت سے انتہائی اہم و حساس نوعیت کے فیصلوں اور اقدامات سے متعلق من وعن خبر کی اشاعت کے بعدسنگین ہوتے معاملے پر حکومت واقعی سنجیدہ ہوتی اور خبر کے شا ئع ہونے کے ساتھ عسکری قیادت کے تحفظات کا حکومت کو سنجیدگی سے احساس ہوتا اور حکومت اِسی بنیا د پر ڈان لیکس کے حقیقی ذمہ داروں (اپنے چہیتوں اور پیاروں بالخصوص مریم نواز،اسحاق ڈار ،چوہدری نثار علی خان اور دیگر کی تفریق کئے بغیر حکومت اَبھی جنہیں بچا نے کی کوشش کررہی ہے ) کے خلاف سخت ایکشن لے لیتی تو یہ معاملہ کبھی بھی طول نہ پکڑتااوراتنا سنگین نہیں ہوتا جتنا کہ آج حکومت نے خود پاناما لیکس کی طرح نیو ز لیکس کو دیدہ دانستہ غیرسنجیدہ اور سنگین بنا دیاہے۔
یہ بات تو حقیقت ہے کہ آج مُلک میں جتنے بھی لیکس ہیں اِن میں کہیں نہ کہیں سے وزیراعظم نوازشریف کومن ہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے موجودہ صورت ِحال میں نوازشریف کی تمام سیاست اور اقتدار کا دارومدار لیکس سے ہی شروع ہوتا ہے اوراِسی پر ہی ختم ہوگا الغرض یہ کہ انتخابات سے ایک سال قبل لیکس اور وزیراعظم نوازشریف لازم وملزوم ہیں یا یوں کہہ لیںکہ موجودہ حالات میں نہ لیکس کو نوازشریف سے الگ کیا جا سکتاہے اور اَب نہ ہی نوازشریف کی جان لیکس سے چھوٹ سکتی ہے اور مزید یہ کہ کیا قوم اِس گمان میں رہے کہ موجود تمام لیکس سمیت آئندہ بھی جتنے ظاہر وباطن لیکس نمودار ہوں گے اُن کے بھی اِدھر اُدھر سے تمام کے ڈانڈے نوازشریف ہی سے جا ملیں گے۔
بہرحال ، اِس سے بھی کسی کو کوئی انکار نہیں ہے کہ آج جس طرح پاناما اور ڈان لیکس کا معاملہ سنگینی سے دوچار ہے اِن کی سنگینی کے پسِ پردہ ایک نوازشریف کی ہی ذاتِ خاص متحرک اور پوشیدہ ہے،ویسے بھی پامانا لیکس وائر ل کی سنگینی کا پتہ لگانے کے لئے معاملہ جے آئی ٹی کی لیبارٹری میں پہنچ چکا ہے جلد ہی لگ پتہ جا ئے گا کہ پاناما لیکس کا نہ چھٹنے والا یہ دلکش و دلفریب انفیکش نوازشریف اینڈفیملی کو، کو کب اور کہاں سے لگاتھا اور یہ خاموشی سے اِس وائر ل سے کب اور کیسے مبتلاہوئے تھے؟؟ اور اِس کا اصل علاج کیا ہے بس انتظار کیجئے گا اُس رپورٹ کا جو جے آئی ٹی تمام طریقوں سے ٹیسٹوں کے بعد تیار کرکے پانچ اعلیٰ ججز کی خدمت میں پیش کرے گی اور پھر جب پانچوں کا جیسا بھی فیصلہ سامنے آئے گا تو پھر قوم اور دنیا کو خود لگ معلوم جا ئے گا کہ پاناما وائر نوازشریف کے لئے کیا تھا ؟اور آئندہ کے لئے کیا اور کیسے احتیاطی تدابیر اختیار کی جا ئیں کہ جو نہ صرف نوازشریف اور فیملی اینڈ کو ہی کو نہیں بلکہ مُلک پاکستان کے کسی بھی خاص و عام شخص کو اپنی لپیٹ میں نہ لے بس قوم تھوڑا سا مزید انتظار کرلے پھر جس کے سر میں جتنے بھی بال ہیں خود سامنے آجا ئیںگے اور اَب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے عنقریب ڈان لیکس کے انفیکشن کی آگاہی اور معلومات کا پتہ لگا نے کے لئے بھی بہت جلد کسی اور اچھی والی جے آئی ٹی کی خدمات حاصل کی جا ئیں گیں۔
آج اتنا تو ہے کہ وزیراعظم نوازشریف ڈان لیکس کے معاملے پر بھی ہیچر میچر کا مظاہرہ کررہے ہیں اور اپنی جگر گوشہ بیٹی مریم نواز جنہیں یہ آئندہ وزیراعظم پاکستان بنانے کا ارادہ کر چکے ہیں اور سوتے جاتے اور پل پل یہی خواب دیکھتے رہتے ہیں کہ مریم نواز مُلک کی وزیراعظم بن جا ئیں تو اِن کے سیاسی کیریئر مکمل ہو جا ئے گا اپنے اِسی خواب کی تعبیر کی تلاش میں سرگرداں نوازشریف اِنہیں(مریم نواز کو) بچا نے کی کوششوں میں لگے پڑے ہیں اور بنیادی طور پر ایک یہی وجہ ہے کہ اپنے اِسی عزم و ارادے کے خاطر نوازشریف نے نیوز لیکس پر سب سے پہلے پرویز رشید کی قربانی دی جو ایک خاص ادارے کو قبول نہ ہوئی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈان لیکس کا معاملہ سنگین سے سنگین ہوتا چلاگیاجبکہ وزیراعظم نوازشریف اور اِن کے اردگرد گِدھ کی طرح اردگرد منڈلاتے سیاسی حواری اِنہیں یہ تسلی دیتے رہے کہ پرویزرشید کی بلی چڑھا کر اِن سب کی جان بخشی ہوگئی ہے جبکہ ایسا کچھ نہیںتھا جیسا کہ سب سیاسی چالباز نوازشریف کو خوش فہمی میں مبتلاکئے ہوئے تھے پھر29اپریل 2017ءکو کیا ہوا یہ بھی سب نے خود دیکھ لیا ، وزیراعظم کے سیاسی پینترے بازوں اپنے گروپ لیڈر کو ایک ٹیسٹنگ پوائنٹ یہ دیاکہ یہ بھی کر لے دیکھ لیں اور پھر ایک ایسا نوٹیفکیشن جاری کرادیاگیاجو آدھاتیتراور آدھا بٹیرتھا یعنی یہ کہیں سے نوٹیفکیشن تو کہیںسے وزیراعظم کا آرڈر معلوم دیتاتھا ایک ایسا پرچہ جاری کیا گیاجس میں مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے بیچا رے (دو بکروں) فاطمی اور راو تحسین کو( نیوزلیکس کا صدقہ دینے کے لئے )یکذمبشِ قلم خراج تحسین پیش کرتے ہوئے قربان کردیاگیا ممکن ہے کہ آنے والے دِنوں میں نیوزلیکس کا معاملہ اُس وقت اور زیادہ سنگین صورت اختیار کرجا ئے جب راو ¿تحسین اپنی برطرفی کو عدالت میں چیلنچ کریںگے جیسی کہ راو ¿تحسین کے بارے میں خبریہ آرہی ہے کہ ” پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سابق پی آئی او راو ¿تحسین نے اپنی برطرفی کو عدالت میںچلینج کرنے کا واہ شگاف انداز سے اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ مجھے عہدے سے ہٹایاجا نا حکومت کا استحقاق ہے مگر جس کمیشن کی رپورٹ پر ہٹایاگیاہے اِس کو عدالت میں چیلنج کروں گامیںکسی ایسے عمل کا حصہ نہیں جس سے حب الوطنی یا پیشہ وارانہ اہلیت پر حرف آئے،بتایاجائے کہ فیصلہ کیسے اور کس بنیاد پر کیا گیا، کمیٹی میں کوئی ایسا شخص نہیںتھا جس کا میڈیا سے تعلق ہو“ اَب دیکھتے ہیں کہ اگر راو ¿تحسین اپنی برطرفی کا معاملہ عدالت میں چیلنج کرتے ہیںتو اِس سے نیو زلیکس کے معاملے میں اور کتنی سنگینی پیدا ہوتی ہے بہرکیف ، جیسے جیسے وقت گزرتا جا ئے گا نیو ز لیکس اور پانا ما لیکس کا معاملہ مزید سنگین سے سنگین ہوتا جا ئے گا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker