تازہ ترینعلاقائی

قصور:آزادی صحافت پرحملہ، صحافیوں پر دہشتگردی کی فعات کے تحت مقدمہ درج

قصور(بیورورپورٹ)آزادی صحافت پر حملہ، صحافیوں پر دہشتگردی کی فعات کے تحت مقدمہ درج ضلع بھر کی صحافتی تنظمیوں ،تاجر یونینز اور سیول سوسائٹی کا پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا فروز پور روڈ بلاک ، ڈسٹرکٹ ہسپتال کے باہر ٹریفک بند ،شدید نعرے بازی،تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر وسیم اکرم بھٹی کو ڈسٹر کٹ ہسپتال قصور کے ایم ایس ڈاکٹر جاوید اشرف نے اپنے ساتھوں کے ہمراہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا سینئر صحافیوں کی مدخلت پر حبس بے جاں میں رکھے ہو ئے صحافی کو بازیاب کروایاتھا اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو اندراج مقدمہ کیلئے درخواست دی تھی لیکن ضلعی انتظامیہ نے جانب داری کامظاہر ہ کر تے ہو ئے صدر پریس کلب ڈاکٹرسلیم الرحمن، صدریونین آف جرنلسٹس عطاء محمدقصوری، صدرالیکٹرونک میڈیا محمداجمل شاد،گروپ لیڈر حاجی شریف سمیت 40صحافیوں کے خلاف دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروادیا ہے واضح رہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے قصور کے صحافی ڈاکٹرز کی مبینہ کرپشن اور غیر ذمہ داری کی وجہ سے حلاکتوں کی خبروں کو شائع کر رہے تھے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے صحافیوں کو مختلف حیلے بہانوں سے وارننگ دی جاتی رہی کہ وہ اپنی روش کو ترک کردے کیونکہ ہم کاغذات میں ڈسٹر کٹ ہسپتال قصور کو وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے اچھا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن قصور کے صحافیوں نے ذمہ داری نہ چھوڑی اور ہسپتال کی کرپشن کو اجاگر کر تے رہے جس کی بناہ پر ڈی سی او قصور کے حکم پر ایم ایس ڈاکٹر جاوید اشرف کی مدیت رات گئے جھوٹا مقدمہ درج کر دیا گیا جھوٹے مقدمے کے خلاف ضلع بھر کی صحافتی تنظیموں ،تاجر یونینز اور سیول سوسائٹی نے پریس کلب قصور کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا اس موقع پر پریس کلب قصور کے عہدیدران ،تاجر تنظیموں کے صدور اور سیول سوسائٹی کے نمایاں اراکین نے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ آزادی صحافت پرقدغن کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اوراس موقع پر مشترکہ طورپر قرارداد منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ صحافیوں پر درج مقدمہ فوری طورپر خارج کیا جا ئے اور ڈسٹر کٹ ہسپتال قصور میں تعینات ایم ایس ڈاکٹر جاوید اشرف کو معطل کرکے صاف اور شفاف انکوائری کرواکر ذمہ دران کو سخت سزا دی جائے ، بعد ازیں مقامی پولیس ڈی ایس پی صدر سرکل مرزا عارف رشید و دیگر کی مداخلت اور انصاف کی یقین دھانی پر صحافی منتشر ہوگئے ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button