تازہ ترینعلاقائی

سنجھورو:دل کے ارماں آنسؤ میں بہ گئے، پی پی کی مقامی قیادت میں اختلاف، میونسپل کمیٹی ہاتھ سے نکل گئی

سنجھورو(نامہ نگار)دل کے ارماں آنسؤ میں بہ گئے۔ پی پی کی مقامی قیادت میں اختلاف ، میونسپل کمیٹی سنجھورو ہاتھ سے نکل گئی۔ تفصیلات کے مطابق تین وارڈز پر مشتمل سنجھورو میونسپل کمیٹی میں بلدیاتی انتخابات میں پی پی نے دو نشست میں کامیابی حاصل کر کے میدان مار لیا تھا لیکن گزشتہ روز مقامی قیادت میں شدید اختلافات پیدا ہونے اور مخصوص نششتوں کی تقسیم میں ہم آہنگی نہ ہونے پرمیونسپل کمیٹی سنجھورو میں ڈرامائی تبدیلی رو نما ہو گئی اور وارڈ نمبر 01سے پی پی کے ٹکٹ پر کامیابی ہونے والے امیدوار شیر محمد شیخ نے پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے مخالف جماعت مسلم لیگ فنکشنل سے اتحاد کر لیا اور مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ فنکشنل کے امیدواروں کی حمایت کر دی جس کی وجہ سے پی پی پی کی جانب سے مخصوص نشستوں پر اپنے امیدوار وں کے فارم جمع نہ کرا سکی ۔ میونسپل کمیٹی سنجھورو کی موجودہ صورت حال کی وجہ سے اب پی پی میونسپل کمیٹی کی چئیرمین شپ سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے اور مسلم لیگ فنکشنل کی جیت یقینی ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ فنکشنل کے زرائع کے مطابق اگر مخصوص نشستوں پر ان کے امیدواروں کے فارم بحال رہتے ہیں تو پی پی سے بغاوت کر کے مسلم لیگ فنکشنل کی حمایت کرنے والے امیدوار شیر محمد شیخ کو میونسپل کمیٹی کا چیئر مین نامزد کیا جائے گا ۔بصورت دیگر شیر محمد شیخ اپنی نشست سے مستعفی ہو کر مسلم لیگ فنکشنل کے پلیٹ فارم سے دوبارہ الیکشن لڑکر کامیابی حاصل کریں گے۔اس ڈرامائی صورت حال کے بعد پی پی پی کے مقامی حلقوں میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے اور مزید اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ واضع رہے کہ گزشتہ روز بلاول ہاؤس کراچی میں ضلع سانگھڑ کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں سنجھورو میونسپل کمیٹی میں چئیر مین کے بارے میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے جس کے بعد پی پی پی کے امیدوار شیر محمد شیخ نے پارٹی سے بغاوت کر کے مسلم لیگ فنکشنل کے مخصوص نشستتوں پر نامزد امیدواروں کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا۔شیر محمد شیخ کے اس فیصلے کے بعد میونسپل کمیٹی سنجھورو میں پی پی پی کی پوزیشن انتہائی کمزور ہو گئی ہے اور آئندہ ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ فنکشنل کی جیت یقینی ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  بلوکی اور گردو نواح کے سینکڑوں غریب کسانوں کا بلوکی پل کو بند کر کے کئی گھنٹے تک احتجاج کیا ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker