تازہ ترینعلاقائی

’’میں سلام پیش کرتا ہوں ان شہدا کو جنہوں نے وطن عزیز کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا:لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات

ٹیکسلا( ڈاکٹر سید صابر علی سے )چیئرمین پی او ایف بورڈ لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات نے کہا ہے کہ ’’میں سلام پیش کرتا ہوں ان شہدا کو جنہوں نے وطن عزیز اور اس ادارے کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوئے۔ان شہداء کی قربانی کو ہم کبھی نہیں بھلا سکتے اور پی او ایف کی تاریخ میں ان شہداء کی لازوال قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہارنے پی او ایف شہدا کی آٹھویں برسی کی پُر وقار تقریب کے موقع پر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے درمیان کچھ ملک دشمن عناصر بھیس بدل کرچھپے ہوئے ہیں ان عناصر کو بے نقاب کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج ان ملک دشمن عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے پُر عزم ہے اور ارضِ پاکستان کو ان ناپاک عناصر سے جلد پاک کر دیا جائے گا۔ اس سے پہلے چیئرمین پی او ایف بورڈ نے یادگارشہدا پر پھول چڑھائے اور ڈی ایس جی کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ یاد رہے کہ 21اگست 2008کو پی او ایف کے گیٹس پر دو خود کش دھماکوں میں 71ملازمین نے جام شہادت نوش کیا اور 196ملازمین زخمی ہوئے تھے۔ان شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پی او ایف میں ہر سال 21اگست کوخصوصی دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا جا تا ہے۔ امسال بھی ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔قبل ازیں کرنل محمد حسیب اعظم ڈپٹی ڈائریکٹر فیلڈ ایڈمن نے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ چیئرمین پی او ایف بورڈ کی ہدایت و رہنمائی میں قائم ہونے والا شہدا سیل ایک شفاف نظام کے تحت شہدا کے لواحقین کو ہر ممکن مالی مدد و معاونت فراہم کر رہا ہے اور پی او ایف انتظامیہ شہداء کے لواحقین کے مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ اس موقع پر شہدا کے لواحقین کے علاوہ سینئر سول و فوجی افسران اور پی او ایف ملازمین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ چیئرمین پی او ایف بورڈ نے شہدا کے لواحقین کی فرداََ فرداََ خیریت دریافت کی ، ان کے مسائل سنے اور موقع پر ہی ان کے مسائل کے حل کے احکامات جاری کئے۔ چیئرمین پی او ایف بورڈ نے شہدا کے لواحقین کو یقین دلایا کہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے کیے گئے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:عالمی شہرت یافتہ قوال نصرت فتح علی خان کی برسی کے موقع پر انھیں خراج عقیدت پیش کیا گیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker