پاکستانتازہ ترین

فوجی عدالتوں کا قیام، حکومت نے اپوزیشن کا مطالبہ مان لیا

اسلام آباد(بیوروچیف) حکومت نے دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت کی غرض سے فوجی عدالتوں کے قیام کیلئے آئین میں ترمیم نہ کرنے سے متعلق اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے اور اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں کا دائرہ کار بڑھانے کیلئے صرف آرمی ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کے مابین اس بات پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے کہ فوجی عدالتیں آئینی ترمیم کی بجائے آرمی قوانین میں ترمیم کے ذریعے قائم کی جائیں گی۔ اس ضمن میں قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹی کی طرف سے طے شدہ نکات کے مطابق آرمی ایکٹ میں تبدیلی کے بعد دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت کرنے کا ختیار ملٹری کورٹس کو منتقل کر دیا جائے گا اور یہ عدالتیں آئندہ دوسال تک کے عرصے کیلئے ایسے مقدمات کی تیز تر سماعت کر کے سزائیں بھی دے سکیں گی۔اس اتفاق رائے کے بعد دہشتگردوں کے مقدمات کی سماعت کیلئے کوئی عدالتیں قائم کرنے کیلئے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کی بجائے آرمی کے متعلقہ قانون میں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کے قیام کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں۔ واضح رہے پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی طرف سے آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں قائم کرنے کی مخالفت کا اعلان کیا گیا تھا

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اوکاڑہ کے بیلف نے سی آئی اے پولیس کی حراست سے دو بے گناہ محنت کش نوجوانوں کوبرآمد کرلیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker