تازہ ترینعلاقائی

پشین: پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ے زیر اہتمام ریلی اور جلسہ عام

downloadپشین (ملک سعد اللہ جان ترین ) پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ے زیر اہتمام تعلیم کے فروغ ،ناخواندگی کے خاتمے ،سرکاری تعلیمی اداروں وتعلیمی نظام کی بحالی اور مفت لازمی تعلیم کے آئینی حق کو یقینی بنانے کیلئے جاری تعلیمی مہم کے سلسلے میں گزشتہ روز پشین شہر میں عظیم الشان ریلی نکالی گئی اور جلسہ عام کا انعقاد ہوا ۔ جس کی صدارت آرگنائزیشن کے مرکزی سیکرٹری اول احمد جان نے کی ۔جلسہ عام میں طلباء طالبات بچوں نوجوانوں اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ جس سے احمد جان پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری سردار مصطفیٰ خان ترین ،عیسیٰ روشان ،سید شراف آغا اور پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زونل سیکرٹری کبیر افغان ،نصیر ننگیال ،حسام الدین ،ناجیہ پانیزئی ،اباسین روشان ،عقیلہ پشتنہ ،آسیہ بازئی اور ولولہ خان نے خطاب کیا۔ مقررین نے تعلیم وتربیت کے اہمیت وضرورت اور کسی بھی قوم ومعاشرے کی ترقی میں اس کی بنیادی رول کا ذکر کرتے ہوئے صوبے اور جنوبی پشتونخوا میں تعلیمی زبوں حالی ،سرکاری تعلیمی اداروں کی تباہ حالی ،حکومت ومحکمہ تعلیم کی جانب سے تعلیمی اداروں کی نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کے خاتمے ،میرٹ پامالی ،نقل کے ناسور ،کرپشن اور فرسودہ نصاب تعلیم کی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سیاسی جمہوری قوتوں کی جدوجہد وقربانیوں کے نتیجے میں 18ویں آئینی ترمیم میں ناخواندگی کے خاتمے کیلئے تعلیم مفت اور لازمی ہوکر اس کی فراہمی کو ریاست اور حکومت کی آئینی ذمہ داری قرار دی گئی ہے اور تعلیم کو صوبوں کے حوالے کرکے تمام تعلیمی سہولیات ومواقع فراہم کرنے اور والدین کو اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کرنے کا پابند بنانے کیلئے قانون سازی کرنے کو صوبے کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے ۔ لیکن پشتون بلوچ دوقومی صوبے کے حکومت نے آئین کے آرٹیکل 25-Aکے تحت مفت لازمی تعلیم کیلئے قانون سازی کرنے کے بجائے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران تعلیم جیسے اہم شعبے کو مکمل نظر انداز کرکے عوامی خزانے کے کھربوں روپے میں تعلیم کے فروغ اور ناخواندگی کے خاتمے کیلئے ترجیح بنیادوں پر فنڈز مختص کرنے اور مفت ولازمی تعلیم کو یقینی بنانے کیلئے قانون سازی کرنے کے بجائے اس خطیر رقم کو کرپشن وکمیشن پر مبنی منصوبوں کے نام پر ہڑپ کیا ۔ اور اسی طرح محکمہ تعلیم کو اقرباء پروری سفارش میرٹ پامالی کا محکمہ بنا کر اسے مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا اور پہلے سے موجود چیک اینڈ بیلنس اور نگرانی کے نظام کا خاتمہ کرکے عوام کا اعتماد سرکاری تعلیمی اداروں سے ختم کیا۔ جس سے ہر سال کے بجٹ میں تعلیم کیلئے مختص رقم سے تعلیمی شرح ومعیار کو بڑھانے کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکے ۔ اور تعلیمی معیار مزید پستی وتباہی کا شکار ہوا ۔ مقررین نے کہاکہ استعماری وآمرانہ ریاستی پالیسیوں اور جاگیردرانہ و رجعتی طرز حکمرانی میں عوام دوسرے حقوق کی طرح تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم ہوتے ہیں ۔کسی بھی ریاست کی پالیسی سیاسی صورتحال اور طرز حکمرانی وہاں کے اقوام وعوام اور معاشرے پر اثر اندا زہے ۔ برابری ،جمہوریت ،سماجی انصاف ،امن وترقی کی علمبردار اور ترقی پسند جمہوری روشن فکر سیاسی قوتوں پر مشتمل عوام کی جمہوری اقتدار اور منتخب حکومتوں میں تعلیم جیسے اہم شعبے کو اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اور دنیا کے جن اقوام اور معاشروں نے علم کے میدان میں ترقی کرکے ناخواندگی کو ختم کیا ہے ۔ انہوں نے ترقی پسند وجمہوری سیاسی قوتوں کی اقتدار اور حکمرانی قائم کرکے تعلیم کے حصول کو ممکن بنایا ہے۔ لہٰذا ہمارے عوام نے ان مسلمہ اصولوں پر کاربند ہوکر جمہوری وترقی پسند اور روشن فکر سیاسی قوتوں کی جمہوری اقتدار کو قائم کرنا ہوگا۔ اور استعماری وآمرانہ اور رجعتی وتعلیم دشمن قوتوں کا راستہ روکنا ہوگا۔ مقررین نے استاد کے مقدس پیشے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل اور طلباء کی تعلیم وتربیت کرنے کی بنیاد پر اس پیشے کو انتہائی اہمیت وتقدس کا مقام حاصل ہے اور ہمارے عوام نے ہر وقت اساتذہ کا احترام کیا ہے لیکن یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ صوبے میں اساتذہ کے صفوں میں ایسے افراد شامل ہیں جنھوں نے اپنی فرائض اور مقدس پیشے کا کوئی بھی لحاظ نہیں رکھا ہے ۔اور نہ ہی سکولوں وکالجز میں اپنی مکمل حاضریوں اور تعلیم معیار کی بلندی کیلئے ذمہ داریوں کو پورا کیا ہے یہی وجہ ہے کہ سرکاری سکولوں وکالجز کا تعلیمی معیار تباہ ہوچکا ہے۔جس کے تباہ کن اثرات ہمارے معاشرے اور نوجوان نسل پر مرتب ہورہے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ ضلع پشین کی گنجان آبادی میں بہت ہی کم علاقوں میں عوا م کو تعلیمی مواقع حاصل ہے۔ اکثر دیہاتوں اور کلیوں میں آج بھی گرلز وبوائز مڈل سکول تک نہیں ۔ اور جن علاقوں میں سکولز قائم ہے ان میں تعلیمی سرگرمیاں اور معیار نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اور یہی حال کالجز کا ہے جس میں لیکچررز وپروفیسرز کی کمی اور دیگر تعلیمی سہولیات کی عدم فراہمی سمیت ٹرانسپورٹ کا مسئلہ درپیش ہے ۔ جس کی وجہ سے ضلع پشین میں ناخواندگی کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ جاری ہے۔ اور بچے بچیوں اور نوجوان نسل کی بھاری اکثریت تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہے ۔ مقررین نے کہا کہ ضلع پشین میں ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد رقم ایم پی اے فنڈز کے نام پر عوامی خزانے سے جاری ہوئے ہیں۔ اور اسی طرح تعلیمی اداروں کی مرمت اور وائٹ واش کیلئے کروڑوں روپے جاری ہوئے ہیں۔ لیکن یہ تمام رقم کرپشن وکمیشن کی نظر ہوئے ہیں۔ اور ضلع پشین کے تعلیمی اداروں میں ماضی میں موجود محدود سہولیات بھی ختم ہوچکی ہے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ اپنی آئینی قانونی ذمہ داریوں کو پوری کرتے ہوئے ضلع پشین میں تمام تعلیمی اداروں کو فعال بنائیں ۔اور اساتذہ وطلباء کی مکمل حاضریوں کو یقینی بناکر تعلیمی اداروں کی نگرانی اور چیک اینڈبیلنس کے نظام کو بحال کیا جائے اور انتظامیہ بالخصوص محکمہ تعلیم کے افیسران اور اساتذہ کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل کریں۔ اور آئین کے آرٹیکل 25-Aکے تحت ضلع بھر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرکے بچوں بچیوں کو سکولوں میں داخل کرانے کیلئے حکومتی وانتظامی سطح پر مہم چلائی جائے۔ اورہر بچے کا سکول میں داخلے ۔ ہر استاد کو کلاس میں حاضری کو یقینی بنانے اور جدید وٹیکنیکل تعلیمی اداروں کی قیام کیلئے ترجیح بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں جائیں۔

یہ بھی پڑھیں  محرم الحرام کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker