تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائیٹیوں میں واپڈا کا کروڑوں روپے کے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو۔با اثر افراد کی درجنوں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائیٹیوں میں واپڈا نے کروڑوں روپے کے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کرکے بجلی کی غیر قانونی لائینیں بچھا دیں۔ایف آئی اے کے حکم پر واپڈا نے اپنی کرپشن چھپانے کیلیے غریبوں کی ایک بستی کے کنکشن کاٹ کر اندھیروں میں دھکیل دیا۔مکینوں نے محکمہ واپڈا اور مالکان کی ملی بھگت کے خلاف واپڈا ہاؤس اور اسمبلی ہاؤس کے باہر احتجاج کی دھمکی دے دی۔چیف جسٹس سے غیر قانونی سوسائیٹیوں کی اربوں کی کرپشن کی تحقیقات کا مطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق بھائی پھیرو اصگر ٹاؤن کے درجنوں مکینوں نے محکمہ ایف آئی اے اور نیب کو ایک تحریری ڈرخواست دی ہے ۔درخواست کی کاپیاں صحافیوں میں تقسیم کی گئیں۔اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ بھائی پھیرو اور گردونواح میں با اثر افراد نے درجنوں غیر قانونی ہاؤسنگ بنائیں اور ان میں محکمہ واپڈانے حکومتی وسائل کا بے دریغ استعمال کرکے کروڑوں روپیہ پانی کی طرح بہا دیا۔بعد میں ایک شہری کی درخواست پر ایل ڈی اے،محکمہ ایف آئی اے اور پھر محکمہ نیب نے بتیس کے قریب غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں تو محکمہ واپڈا نے چھ ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کی بجلی کی تنصیبات منقطع کر دیں اور واپڈا کی تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات کے بعد محکمہ ایف آئی اے میں ایک مقدمہ بھی درج کر لیا مگر بعد میں کئی سوسائیٹیوں کی بجلی بحال کر دی گئی مگر اصغر ٹاؤں میں اب بھی بجلی بند ہے۔اس سوسائیٹی کے مکینوں نے واپڈا کے امتیازی سلوک کے بارے کئی بار محکمہ واپڈا کے افسران سے رابطہ کیا مگر اب تک اصغر ٹاؤن کی بجلی بحال نہیں کی گئی، عوام بجلی سے محروم ہیں مگر کالونی مالکان پلاٹوں کے پیسے بٹورکر رفو چکرہو چکے ہیں۔با اثر پراپرٹی ڈیلر آزاد۔عوام کو پتھر کے دو رمیں دھکیل دیا گیا۔
شہریوں افضل،طارق،عارف ،حسن سمیت درجنوں افراد کے دستخط ہیں۔اس درخواست میں اصغر تاؤن کے مکینوں نے کہا ہے کہ اس ٹاؤن کے مالکان نے اپنے اشتہارات میں لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے سبزباغ دکھا رکھے تھے جس کی وجہ سے لوگوں نے یہاں پلاٹ خریدے اور اپنی جمع پونجی خرچ کرکے گھر تعمیر کر لیے۔شروع شروع میں ٹاؤن مالکان نے عوام کو ایک تھری فیز میٹر سے عارضی طور پر بجلی دستیاب کردی اور قانونی طور پر بجلی کے کنکشن کی منظوری لے کر دینے کا وعدہ کیا۔اب جب کہ تمام پلاٹ تعمیر ہو چکے ہیں تو ٹاؤن کے بیوپاری عوام کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگا کر غائب ہو چکے ہیں جبکہ تھری فیز میٹر کی بجلی بھی کاٹ دی گئی ہے۔ سادہ لوح عوام اس ٹاؤن کے مالکان کے پیچھے دھکے کھاتی پھر رہی ہے لیکن وہ ان کی بات سننے کو تیار نہیں۔گزشتہ تین ماہ سے یہاں کے رہائشی دور دراز کے علاقوں سے پانی کی چند بوندیں اکٹھی کرکے اپنے مفلوج نظام زندگی کو چلانے کی ناکام سعی کر رہے ہیں۔ بجلی کی عدم دستیابی سے ہر چھوٹا بڑا بری طرح متاثر ہے، بچے اپنے پڑھائی برقرار نہیں رکھ سکتے، نمازی پانی نہ ہونے کی وجہ سے وضو نہیں کر سکتے۔ عوام کو پھر سے پتھر کے دور میں دھکیل دیا گیا ہے۔ دیے اور موم بتیوں پر انحصار کیا جانے لگا۔دوسری جانب ٹاؤن مالکان کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ اصغر ٹاؤن کی مجبور اور دکھی عوام نے محکمہ ایف آئی اے اور نیب سے سوال کیا ہے کہ بھائی پھیرو کی سینکڑوں ہاؤسنگ سوسائیٹیا ں غیر قانونی قرار دی جا چکی ہیں مگر محکمہ واپدا نے انکی بجلی کیوں نہیں کاٹی؟ان مکینوں نے کہاہے یا تو تمام غیر قانونی سوسائیٹیوں کی بجلی منقظع کی جائے یا پھر ان کی سوسائیٹی کی بھی بجلی بحال کی جائے۔ان مکینوں نے کہا ہے محکمہ واپڈا کے کرپٹ اہلکار وں نے درجنوں غیر قانونی سوسائیٹیوں کے کنکشن نہ کاٹ کر اور صرف ایک سوسائیٹی کے کنکشن کاٹ کر دھاندلی کی انتہا کر رکھی ہے ان مکینوں نے نیب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محکمہ واپڈا اور سوسائیٹی مالکان کی زیادتیوں کا غیر جانبدارانہ نوٹس لے اور صرف اصغر تاؤن کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے والے واپڈا اہلکاران اور مالکان کے خلاف سخت کاروائی کرے۔ان مکینوں نے دھمکی دی کہ اگر انکی بجلی چالو نہ کی گئی تو وہ ایف آئی اے کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ان مکینوں نے چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ بھائی پھیرو کی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائیٹیوں میں اربوں روپیکے گھپلوں کا از خود نوٹس لیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker