تازہ ترینعلاقائی

والدین کاروکاری کر کے قتل کرناچاہتے ہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ پریمی جوڑے کی سنجھورومیں پریس کانفرنس

سنجھورو(سٹی رپورٹر) تفصیلات کے مطابق سنجھورو کے رہائشی محمد ارشد نے اپنی بیوی مسمات شاہ جہاں کے ہمراہ نیشنل پریس کلب سنجھورو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ اس نے مسمات شاہ جہاں جو کہ رتوڈیرو لاڑکانہ کی رہائشی ہے سے اُس کی مرضی سے شریعت محمدی کے مطابق شادی کی ہے۔ لیکن جس وقت مسمات شاہ جہاں کے والدین کواس بات کا علم ہوا توانھوں نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے مجھے سنجھورو سے بغیر کسی کیس داخل کئے گرفتار کرا کر لاڑکانہ لے گئے اور مجھے وہاں پر ایک ہفتہ تک حبس بے جا میں رکھنے اور تشدد کرنے کے بعد بے قصور قرار دے کر رہا کر دیا کیونکہ میری بیوی مسمات شاہ جہان نے سول جج سانگھڑ کی کورٹ میں پیش ہو کے اصل نکاح نامہ پیش کر دیا تھا جس کی اطلاع کورٹ اور میرے ورثاء کی جانب سے لا ڑکانہ SSP کو دی گئی تھی جس کے بعد مجھے رہائی نصیب ہوئی۔مسمات شاہ جہاں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب اس کو اپنے شوہر کی گرفتاری کا علم ہوا تو اس نے اپنے آپ کو سنجھورو پولیس کے حوالے کر دیا اور پولیس نے مجھے سیشن کورٹ سانگھڑ میں پیش کر دیا۔ جہاں پر میں نے اپنا اصل نکاح نامہ پیش کیااور میں نے سول اینڈ فیملی جج سنجھورو کواستدعا کی کہ جب تک میرا شوہر واپس گھر نہیں آ جاتا اس وقت تک دارلامان بھیجا جائے کیو نکہ مجھے اپنے والدین سے جان کا خطرہ تھا ۔لہذٰہ عدالت نے مجھے دارالامان بھیج دیا۔چند دن کے بعد میرے والدین نے سول جج سنجھورو کی عدالتمیں درخواست دائر کی کہ مسمات شاہ جہاں کو اس کے شوہر کی واپسی تک ان کے حوالے کیا جائے جس پر عدالت نے5لاکھ کی ضمانت کی عوض اس شرط پر کے جب اس کا شوہر واپس گھر آ جائے گا تو مسمات شاہ جہاں کو شوہر کے حوالے کر دیا جائے گا۔لیکن اب جبکہ پولیس نے میرے شوہر کو بے قصور قرار دیتے ہوئے رہا کر دیا ہے،میرے والدین نے مجھے میرے شوہر کے حوالے کرنے کے بجائے مجھ پر تشدد کر کے اور دباؤ ڈال کر زبر دستی عدالت میں خلع کا وعوٰہ دائر کرایا ہے لیکن میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ا س لئے گزشتہ دنوں میں موقع پا کر خود ہی اپنے شوہر کے پاس سنجھورو پہنچ گئی ہوں۔میں عاقل اور بالغ ہوں اور میں نے محمد ارشد سے اپنی رضا خوشی سے شرعیت کے مطابق نکاح کیا ہے اور محمد ارشد نے کوئی زبردستی نہیں کی ہے میں اپنے شوہر کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کر رہی ہوں جبکہ میں اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہوں۔لہذٰہ میرا یہ بیان ریکارڈ کا حصہ سمجھا جائے اور اگر مجھے اور میرے شوہر محمد ارشد کو مستقبل میں کوئی نقصان جانی یامالی ہو تو اس کے زمہ دار میرے والدین و رشتہ دار ہوں گے۔
محمد ارشد اور مسمات شاہ جہان نے صدر پاکستان ،وزیر اعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان ، وفاقی وزیر داخلہ و وزیر داخلہ سندھ، گورنر سندھ،وزیر اعلیٰ سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مدد کی اپیل کی ہے اور درخواست کی ہے کہ ان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور کاروکاری کا شکار ہونے سے بچایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  پشین:پولیس لائن میں زوردارکاربم دھماکہ‘تین افرادزخمی‘عوام میں خوف وہراس پھیل گیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker