پاکستانتازہ ترین

ایک غیرملکی کو سیاسی نظام تلپٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، چیف جسٹس افتخار

Chief-Justice-Of-Pakistanاسلام آباد(بیوروچیف) پاکستانی عدالت عظمی کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو سے متعلق طاہرالقادری کی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ مسٹر قادری آپ نے درخواست 184 تھری کے تحت دی جو کو وارنٹو میں آتی ہے اور کو وارنٹو ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، آپ کو کہیں اور جانا پڑے گا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نےطاہر القادری کی درخواست کی سماعت کی۔ قبل ازیں طاہرالقادری نے سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی دہری شہریت کے حوالے سے طلب کردہ  جواب اور حق دعویٰ عدالت میں  جمع کرایا۔ دوران سماعت چیف جسٹس اور دیگر جج صاحبان کا طاہرالقادری سے مکالمہ ہوا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ اچانک پاکستان آئے، پہلے جلسہ کیا،پھر دھرنا دیا، آخر یہ ماجرہ کیا ہے؟ ۔آپ ایک آئینی ادارے کو کام کرنے سے رکوانا چاہتے ہیں اور ایسا نہیں ہوسکتا۔ افتخار چوہدری نے ریمارکس دیے کہ آپ دسمبر میں پاکستان آئے ہیں اور فروری میں الیکشن کمیشن تحلیل کرنے کی بات کر رہے ہیں،کسی کے ارادے پر مارشل لا نہیں لگ سکتا،ہم نے اس کا راستہ روک دیا ہے۔ چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک غیرملکی کو سیاسی نظام تلپٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، آرٹیکل 184کے تحت آپ کی پٹیشن قابل سماعت نہیں لگتی۔ افتخار چوہدری نےریمارکس دیے کہ آپ شیخ الاسلام ہیں لیکن حلف ملکہ کی وفاداری کا اٹھایا ہوا ہے، ہمیں ملکی سیاسی امورپرآپ کی مداخلت پرتشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے تحفظات کا اظہار اس لیے کررہے ہیں کہ آپ نے آئینی ادارے پر حملہ کیا۔ چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے سوال کیا کہ پاکستان آنےکے لیےکون سا پاسپورٹ استعمال کیا جواب میں طاہر القادری نے کہا کہ کینیڈا سے پاکستان آنے کے لیے پاکستانی جب کہ جانے کے لیے کینیڈا کا پاسپورٹ استعمال کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 90 ممالک میں دینی تعلیم دینے جاتا ہوں کینیڈین پاسپورٹ کے باعث ویزے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس موقع پر جسٹس گلزار نے کہا کہ آپ نے کینیڈا میں کسی آئینی ادارے کو چیلنج کیا ہے،کیا ایسے شخص کو آئینی اداروں میں مداخلت کی اجازت دیں جس کی وفاداری منقسم ہے۔ طاہر القادری نے مؤقف اختیار کیا کہ میں تو پاکستانی شہری ہوں اور کسی بھی وقت کینیڈین شہریت چھوڑ سکتا ہوں،الیکشن کمیشن کی تشکیل میں 20ویں ترمیم کی خلاف ورزی کی گئی۔ عدالت نے کیس کی سماعت کل یعنی بدھ تک ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker