تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو اور گردونواح میں کھاد کی بلیک مارکیٹنگ

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو اور گردونواح میں کھاد کی بلیک مارکیٹنگ اور عدم دست یابی نے کاشت کاروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔انتظامیہ قیمتیں کنٹرول کرنے اور بلیک مارکیٹنگ روکنے میں ناکام۔تفصیلات کے مطابق بھائی پھیرو اور گردونواح میں کھاد کی بلیک مارکیٹنگ اور عدم دست یابی نے کاشت کاروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔انتظامیہ قیمتیں کنٹرول کرنے اور بلیک مارکیٹنگ روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ علاقے بھر میں کھاد کی بلیک مارکیٹنگ اور عدم دست یابی سے کاشت کار پریشان ہیں۔ ایک طرف ڈی اے پی کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 8800 روپے فی بوری اور یوریا کی فی بوری قیمت 2200 روپے تک پہنچ چکی ہے مگر دوسری طرف کاشت کاروں کو اضافی ادائیگی کے باوجود کھاد حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور کھاد ڈیلر کھاد سٹاک کرکے من مانے ریٹ وصول کر رہے ہیں۔کسان بورڈ ضلع قصور کے رہنما زین العابدین اور نائب صدر سردار امجد مختار ڈوگراور سمیت دیگر درجنوں کسانوں نے ضلع قصور،اورتحصیل پتوکی میں کھاد کی بے لگام قیمتوں اور عدم دستیابی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے کہا کہ کھادوں کی موجودہ صورت حال کی وجہ سے گندم کی پیداوار شدید متا اثر ہوگی اور اگلے سال قحط سالی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پورے ضلع قصور اور بالخصوص سرائے مغل اور گردونواح میں کھاد کی دست یابی کو یقینی بنائے اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ بلیک مارکیٹ مافیا کے خلاف موثر حکمت عملی ترتیب دیں اور ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جو کہ ناصرف کاشت کاروں کو لوٹ رہے ہیں بلکہ حکومت کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ انہوں نے ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کی بے حسی اور کسانوں کی بجائے ڈیلروں کو خوش کرنے کی پالیسی کی شدید مزمت کی۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button