تازہ ترینعلاقائی

ٹیکسلا: این جی او کی مبینہ کرپشن کے حوالے سے خبروں کی اشاعت ذمہ داران حواس باختہ ہو گئے

ٹیکسلا(ڈاکٹر سید صابر علی / نا مہ نگار)این جی او کی مبینہ کرپشن کے حوالے سے خبروں کی اشاعت ذمہ داران حواس باختہ ہو گئے ،میڈیا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا،غنڈہ گرد عناصر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے مقامی صحافیوں کو عتاب کا نشانہ بنایا گیا خواتین کا صحافیوں کے دفاتر پر دھاوا،این جی او کو کیوں بدنام کیا یہ تو اچھے لوگ ہیں ،متاثرہ خواتین کے حوالے سے خبر کیوں لگائی ،خواتین نے دفتروں میں گھس کر توڑ پھوڑ شروع کر دی،دوکان میں موجود نقدی اور قیمتی اشیاء غائب،تاجروں کی بروقت مداخلت خواتین رفوچکر ہو گئیں ،صحافتی تنظیم ٹیکسلا واہ یونین آف جرنلسٹس کی واقعہ کی پرزور مذمت ،پریس کلب ٹیکسلا /واہ نے بھی واقعہ کو کھلی دہشت گردی قرار دے دیا ،ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کاروائی کا مطالبہ متاثرہ صحافیوں نے قانونی کاروائی کے لئے ڈی ایس پی ٹیکسلا واہ سرکل کو تحریری درخواست دے دی،واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف فوری ایکشن نا لیا گیا تو ملک گیر احتجاج ریکارڈ کروائیں گے ،صحافی برادری واہ کینٹ /ٹیکسلا کا پولیس کو الٹی میٹم، غنڈہ گردی کے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی این جی او سے متاثرہ افراد پھٹ پڑے میڈیا کو این جی او کے کالے کرتوتوں سے آگاہ کیا ، متاثرین کا غریب اور بیوہ خواتین کی داد رسی اور حق اور سچ کی آواز بلند کرنے میڈیا کو خراج تحسین ، مظلوم اور بے کس افراد کو انصاف دلانے میں میڈیا نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ،اب بھی شنوائی نہ ہوئی تو پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کریں گے متاثرین ،مبینہ لوٹ مار پر مبنی خبروں کے تراشے فوٹو اسٹیٹ کروا کے آبادی میں تقسیم کر تے رہے۔تفصیلات کے مطابق سرائے کالا چوک ٹیکسلا میں گلوبل پیس فاؤنڈیشن کی جانب سے سیلاب زدگان کی امداد کے لئے کیمپ لگایا گیا 9ستمبر کی صبح وہ مرد و خواتین افراد جن سے مذکور ہ این جی او نے راشن دینے کے نام پر رقم وصول کی جبکہ ان افراد کی تصاویر اور دیگر کوائف حاصل کئے مگر ان لوگوں کو کئی عرصہ سے راشن تقسیم نہ کیا گیا متاثرین اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے ٹیکسلا چوک میں لگائے گئے امدادی کیمپ میں پہنچ گئے جن میں کثیر تعداد خواتین کی تھی جن کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ ہوا ہے ہمیں ہماری رقم واپس کی جائے خواتین کے احتجاج کی خبر جنگل کی آگ کی طرح شہر بھر میں پھیل گئی میڈیا سے وابستہ افراد ٹیکسلا چوک پہنچ گئے اور متاثرہ خواتین کا موقف لیا 10ستمبر کو متاثرین کے موقف کے حوالے سے مختلف قومی اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں غریب خواتین پر مشتمل متاثرین کثیر تعداد ٹیکسلا چوک میں لگائے این جی او کے کیمپ میں پہنچ گئے کیمپ میں موجود افراد کو خبریں دکھا کر اپنی برہمی کا اظہار کیا جس پر کیمپ میں بیٹھے افراد نے یہ کہہ کر خواتین کو ٹال دیا کہ ہم تو خود دیہاڑی پر کام کر رہے ہیں ذمہ داران یہاں موجود نہیں آپ کوہسار کالونی ان کے دفتر میں جاؤ ادھر یہ امر قابل ذکر ہے کہ 10ستمبر کو چند افراد ٹیکسلا چوک میں مقامی صحافی ملک عامرثاقب کی دکان عبداللہ آئل پر آگئے جنہوں نے خبروں کی اشاعت پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور میڈیا سے وابستہ افراد کو نشانہ تنقید بنایا علاوہ ازیں قتل سمیت سخت سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں یہی افراد جو کہ اس ٹیم میں سرکردہ رول ادا کر رہے ہیں کے ایماء پر 11ستمبر دن 11بجے صحافی ملک عامر ثاقب کی دوکان پر دھاوا بول دیا جبکہ اسی دوران ٹیکسلا کے سینئیرمقامی صحافی ملک جاوید اختر کے دفتر واقع فیصل شہید روڈ پر بھی مذکورہ خواتین نے ہلہ بولا ،اور گالم گلوچ کیں جن میں 20سے 25خواتین شامل تھیں ان میں مہوش نامی خاتون تھی جو انہیں لیڈ کر رہی تھی خواتین نے گالم گلوچ کیا اور معاملے کو بھڑکانے کی کوشش کی گئی جبکہ متعدد خواتین دوکان کے اند ر گھس آئیں اور نقدی سمیت قیمتی سامان غائب کر دیا صحافیوں کے دفاتر میں خواتین کی یلغار کا منصوبہ ایک سازش کے تحت تیار گیا تھا جن میں متاثرہ خواتین کی بجائے کرائے پر حاصل کی ہوئی خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی شور شرابے پر گردو نواح کے دوکاندار اکٹھا ہو گئے جنہوں نے خواتین کو وہاں سے ہٹایا ان میں سے متعدد خواتین کو جب کہا گیا کہ تمہارے خلاف قانونی کاروائی ہو سکتی ہے تو انہوں نے واقعہ سے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے اصل پول کھول دیا کہ ہمیں تو یہاں آنے کے پیسے دیے گئے ہیں ہمیں نہیں معلوم کہ اصل معاملہ کیا ہے ادھر مذکورہ غنڈہ گردی کی خبر پر کئی متاثرہ افراد صحافیوں کے دفتر پہنچ گئے اور میڈیا کو حقائق سے آگاہ کیا ڈھوک سیدو کے صداقت راجہ کا کہنا تھا کہ میڈیا نے حقائق پر مبنی خبریں لگائیں دھاوا بولنے والی خواتین متاثرہ نہیں بلکہ کرائے پر منگوائی گئی تھیں ان کا کہنا تھا کہ ڈھوک سیدو میں 25سے زائد افراد ایسے موجود ہیں جن سے راشن کے نام پر مذکورہ این جی او نے رقم بٹوری،ملک آباد کے میر زمان کا کہنا تھا کہ ان کے گھر کی خواتین کو بھی جھانسہ دے کر راشن کے نام پر پیسے وصول کیے گئے ،محلہ ٹیکسلا گلی نمر 8کے رہائشی جاوید خان بھی پھٹ پڑے ہمارے گھر کی خواتین سے بھی پیسے وصول کیے گئے جبکہ 6ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی نہ راشن دیا نہ پیسے واپس کیے ،جمیل آباد کے رہائشی ماما جاوید خان کا کہنا تھا کہ میں گلی نمبر 18میں رہتا ہوں میری بہن ،بھانجی اور محلے کی دیگر خواتین سے راشن کے نام پر پیسے لیے گئے جن کی رسیدیں ہمارے پاس موجود ہیں ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے ہماری پردہ دار خواتین کی تصویریں بھی اتاری ہیں لیکن تاحال ہمیں راشن نہیں دیا گیا ،پنڈ گوندل کے عبد البصیر کا کہنا تھا
کہ ہمارے خاندان کی 9خواتین سے راشن کے نام پر پیسے لیے گئے اور مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں متاثرہ افراد کا کہنا تھا کہ میڈیا نے اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے ہماری جہاں ضرورت پڑے ہم حاضر ہیں،مبینہ غنڈہ گردی پر صحافتی تنظیمیں حرکت میں آ گئیں اور اپنا بھر پور احتجاج ریکارڈ کروایا جبکہ اس ضمن میں واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی کے لئے ڈی ایس پی ٹیکسلا سرکل ملک ارشاد کو تحریری درخواست بھی دے دی گئی ٹیکسلا واہ یونین آف جرنلسٹس کے صدر سید رضوان حیدر نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مذکورہ واقعہ کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیااور اس امر کا اظہار کیا کہ جب تک واقعہ میں ملوث افراد اور ان کی سرپرستی کرنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے میڈیا کے ساتھ بد سلوکی اور مبینہ غندہ گردی کے واقعہ پر ٹیکسلاواہ کینٹ پریس کلب کے صدر سید مشتاق نقوی نے بھی بھرپور مذمت کرتے ہوئے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ سچ کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا صحافی معاشرے کی آنکھ ہوتے ہیں معاشرتی برائیوں کے سد باب کے لئے میڈیا نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا انہوں نے صحافی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ۔ ٹیکسلا کی وکلاء وکلاء برادری کے طاہر محمود راجہ ایڈووکیٹ، چوہدری مدبر ایڈووکیٹ، ملک نعمان اسلم ایڈووکیٹ، قیسڑ رشید شفقت ایزدی راجپوت ایڈووکیٹ نے بھی واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جبکہ متاثرین کو مفت قانونی امداد کے علاوہ صحافیوں کو قانونی مدد فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ،

یہ بھی پڑھیں  توڑدو بت

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker