پاکستانتازہ ترین

وزیراعظم تودورکی بات گیلانی رکن اسمبلی بھی نہیں رہے،چوہدری نثار

اسلام آباد (بیوروچیف)  قوم اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ ہمیوسف رضاگیلانی کووزیراعظم تسلیم ہی نہیں کرتے، ہمارے احتجاج کے باعث قومی اسمبلی میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی،قومی اسمبلی میں بدھ کوآج سے زیادہ احتجاج کیاجائیگا،ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم تودورکی بات یوسف رضاگیلانی رکن قومی اسمبلی بھی نہیں رہے،اسمعاملے پرالیکشن کمیشن کے پاس جارہے ہیں،کیونکہ الیکشن کمیشن کسی بھی رکن کی اہلیت کافیصلہ کرسکتاہے اور اگر ہمارے خلاف کوئی الزام ہے توعدالت سے رجوع کیاجائے۔ان کا کہنا تھاکہگیلانی صاحب کہتے ہیں کہ انھیں صرف اسپیکرہٹاسکتاہے،عدالتی فیصلے کے نتیجے میں گیلانی وزیراعظم نہیں رہے اس وقت وہ مجرم ہیں۔ کیونکہ انہوں نے فیصلے کیخلاف اپیل کی اورنہ انھیں اسٹے ملا،عدلیہ فیصلہ دے چکی ہے،ہم عوام کی مددسے اس پرعملدرآمدممکن بنائینگے، ان کا کہنا تھا کہ سزایافتہ وزیراعظم کے خط کاجواب نہیں دیں گے،چیف الیکشن کمشنرکے تقررپروزیراعظم کے خط کی کوئی حیثیت نہیں،ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ60ملین ڈالرزکی واپسی کاہے،60ملین ڈالرزکی واپسی کیلئیاسمبلی کے اندراورباہراحتجاج کرینگے۔ان کا کہنا تھا کہ،نورا کشتی اس وقت عمران خان اورحکومت کے درمیان ہے۔وزیراعظم نے اپنے بیان میں عمران خان اورجاویدہاشمی کی تعریف کی۔ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کوٹیکسلا میں احتجاجی جلسہ ہوگا،جس سے نوازشریف خطاب کرینگے۔

یہ بھی پڑھیں  آئندہ عام انتخابات کیلئے ضابطہ اخلاق کی منظوری

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. سزا ہونے سے پہلے وزیر اعظم نے تمسخرانہ انداز میں بہت کچھ فرمایا۔۔۔ایک موقعے پر جلسے سے خطاب کرتے ہوۓ کہا۔۔۔وہ مجھے چپڑاسی سمجھتے ہیں۔۔۔اسی طرح انہوں نے سزا کے بعد سب سے پہلے جو بات کہی وہ تھی کہ سزا نا مناسب تھی۔۔۔بعد میں جناب وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوۓ فرمایا کہ آخری فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔ سپیکر سے مخاطب ہوتے ہوۓ انہوں نے فرمایا۔۔۔وہ آپ کے دفتر کو ڈاکخانہ سمجھتے ہیں۔۔۔ہماری دانست میں وزیر اعظم صاحب نے انتہایٔ بے دریغی کے ساتھ چپڑاسی کی توہین کی ہے کیونکہ ہمیں تو بتایا جاتا ہے کہ جھاڑو کش کے قریب سے گزر ہو تو منہ پر روما مت رکھو بلکہ سانس روک کر گذرو تاکہ جھاڑو دینے والے کی عزت نفسس پر زد نہ آۓ۔ رہی بات پارلیمنٹ اور ڈاکخانے والی تو آیٔین میں صاف لکھا ہے کہ سپیکر کی طرف سے الیکشن کمیشن میں ریفرنس جاۓگا اور اگر تیس دن میں ایسا ریفرنس نہیں جاتا تو وہ خود بخود الیکشن کمیشن میں دایٔر تصور ہوگا۔ اب اس میں پارلیمنٹ کا فیصلہ کہاں سے آگیا۔۔۔دُنیا سپیکر کی اس ذمّہ داری کے بارے میں پہلی بار سُن رہی ہے جس میں سپیکر کا کام سُپریم کورٹ کے دیٔے گۓ فیصلوں کا جایزہ لینا اور اُن پر مزید فیصلہ کرنا بھی شامل ہے۔ وزیر قانون نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوۓ عدالتی کر روایٔ کے خوب لتّے لیۓ ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اسکے اثرات کیا ہونگے۔۔۔اس طرح تو اگر ہر فرد اور ادارہ خود اپنی عدالت لگا کر فیصلے دے گا تو پھر ہوگا کیا۔۔ وہی جسکے لیۓ کہا جاتا ہے۔۔۔جوتیوں میں دال بٹنا۔۔۔ مزید پڑھنے کیلیۓ

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker