شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / چوہدری نثار کی پھنکار اور زعیم قادری کی للکار

چوہدری نثار کی پھنکار اور زعیم قادری کی للکار

لندن میں شہباز شریف کی ٹیکسی پر آمد، ڈرائیورسے ریزگاری کی وصولی اور بھاگ کر سڑک کراس کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے دو روز بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ رہنماء،کارکن اور سابق ترجمان پنجاب حکومت زعیم قادری نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران حمزہ شریف اور شہباز شریف کو یوں للکارا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی نہ آج تک کبھی کسی مسلم لیگی نے اس حکمران خاندان کے خلاف سخت ترین زبان استعمال کی ،زعیم قادری نے پانامہ لیکس پیپرز،کرپشن مقدمات،نواز شریف کی نا اہلی سمیت کوئی ایسا ایک بھی نا زیبا موضوع نہیں جہاں انہوں نے ہر فورم پر اپنی جماعت کا دفاع نہ کیا ہو،وہ ڈٹے رہے ہر جگہ ڈٹے رہے اکثر ٹی وی شوز میں وہ جذباتی ہوجاتے پھر اچانک انہیں کیا ہو گیا ؟ان کی برداشت ایک دم جواب کیوں دے گئی؟ جوتے پالش کرنے کی کوئی بات کیوں کی؟ کیا جماعت میں جوتے تک پالش کرائے جاتے ہیں ؟ان سے قبل چکری کے باسی چوہدری نثار علی خان بظاہر پارٹی سے اپنی راہیں جدا کر چکے تھے مسلم لیگ (ن) کے اس بانی کی کلاس قومی اسمبلی میں چوہدری اعتزاز احسن نے لی تب انہوں نے پریس کانفرنس میں سب چٹا کٹھا کھولنے کا علان کیا تو مسلم لیگ (ن) میں کھلبلی مچ گئی، ابھی اقتدار کے مزے لوٹنے تھے ،دوسرا کئی پیدا کردہ بحران پھن پھیلائے سامنے کھڑے تھے بڑے قد کاٹھ کے مالک کو یہ بے عزتی سہنا پڑی،بعد میں ڈان لیکس، نا اہلی،پارٹی صدارت کا خاتمہ،حلف نامہ میں ختم نبوت کے حوالے سے تبدیلی پر چوہدری نثاراپنے حکمرانوں کو سمجھاتے ،ڈراتے اور پھنکارتے تو نظر آئے مگر کسی حتمی فیصلے کی قوت ان میں پیدا نہ ہو سکی حالانکہ پرویز رشید اکثر انہیں چٹکی کاٹتے ، اکسانے کی کوشش کرتے رہتے ،متعدد بار چوہدری نثارکا صحافیوں کو بلاوا آیا مگر کوئی پوشیدہ قوت ان کی زبان کو سلب کر لیتی،تب چوہدری نثار صرف یہی کہتے کہ میاں صاحب اداروں سے ٹکرانا ٹھیک نہیں،ان کی یہ نصیحت سن سن کر کسی اور پر اثر ہوا یا نہیں البتہ صحافیوں کے ضرور کان پک گئے،کسی نہ کسی طورنام نہاد جمہوری دور اپنے اختتام کو پہنچا الیکشن کی گہما گہمی شروع ہو گئی تب تک ان کی جماعت کے کسی بڑے نے انہیں منہ تک نہ لگایا تو انہیں احساس ہوا کہ یوں تو ان کی رہی سہی عزت بھی جاتی نظر آ رہی ہے پھر انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا انہیں کسی پارٹی کے ٹکٹ کی ضروت نہیں وقت آنے پر وہ عوام کو سب کچھ بتائیں گے،چوہدری نثار نے الیکشن مہم کے پہلے جلسے (چکری )میں حسب معمول پھر پنڈورا بکس کھولنے سے معذرت کی اس بار ان کے آگے کلثوم نواز کی بیماری کی دیوار کھڑی تھی،بلاشبہ کلثوم نواز کے بارے عوام کے دلوں میں نرم گوشہ موجود اور وہ ان کے لئے دعا گو ہیں مگر قرائن بتاتے ہیں کہ ان کی بیماری کو بھی سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ممکن ہے مبصرین کا یہ اندازہ غلط نکلے،چوہدری نثار پتھر چاٹ کے انتخابی مہم کے لئے نکلے تو انہوں نے صرف نواز شریف پر اپنا قرض اور مریم کی قیادت قبول نہ کرنے کا بتایا ،ابھی انہوں نے مزیدکچھ کہنا تھا مگر قومی سطع پر اپنی سیاسی حیثیت کے مطابق وہ بہت تا خیر کر چکے تھے سیاست میں ٹائمنگ کا بہت عمل دخل ہے گو اپنے انتخابی حلقوں میں کامیابی ان کے قدم چوم سکتی ہے مگر بڑی حد تک وہ قومی سطع پر اپنی سیاسی حیثیت کھو بیٹھے ہیں یہی وجہ ہے کہ اب اپنے حلقوں میں بھی عوام کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں،(الراقم یہاں تک لکھ چکا تو ٹی وی سکرین پر چوہدری نثار علی خان کا بجھا بجھا سا چہرہ نظر آیا )،زعیم قادری کی پریس کانفرنس کے دوسرے روز چوہدری نثار ایک بار صحافیوں کولے بیٹھے اور وضاحتیں شروع کر دیں کہ میں نے پارٹی سے بغاوت نہیں کی میرا اختلاف نواز شریف کے حق میں ہے،میں سینٹ الیکشن ،شیخ مجیب الرحمان کو محب وطن کہنے اور ممبئی حملوں وغیرہ پر بھی کچھ نہ بولا،اس موقع پر ان کی باڈی لینگوئج ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ،وہ بجھے بجھے اور پریشان پریشان سے لگ رہے تھے،ان کی یہ پریس کانفرنس بھی ماضی کی طرح نہ صرف بے معنی تھی بلکہ مزید پھیکی بھی تھی، وہی باتیں،وہی کہانی،وہی داستان ہیر رانجھا، وہی کہاوتیں،وہی مصلحتیں جو بار بار سوالات کے بھی تبدیل نہ ہوئیں انہوں نے ماضی کی باتوں کو مس رپورٹنگ قرار دیتے ہوئے کہا میں نے وہ نہیں کہا تھا جو مجھ سے منسوب کیا گیا،چوہدری نثار علی خان کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ کوئی آ کے انہیں سینے سے لگا لے مگر ایسا شاید نہیں ہو گا کیونکہ ان کی ڈیمانڈ میاں نواز شریف ہے اور وہ آئیں گے نہیں مبینہ طور پر نواز شریف کو یہ بآور کر ادیا گیا ہے کہ ماضی میں پرویز مشرف کو چوہدری نثار اور ان کے بھائی نے ہی ان کے سر پر سوار کیا تھااس کے علاوہ میاں نواز شریف اس ذہنیت کے مالک ہیں جو کسی طور اختلاف برداشت کرنے کا حوصلہ ہی نہیں رکھتے،یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان کی اس پریس کانفرنس سے قبل مریم اورنگ زیب نے پریس کانفرنس میں بتا دیا تھا کہ چوہدری نثار ہمارے ہی ہیں امید ہے جلد ان کی ناراضگی ختم ہو جائے گی، چوہدری نثار علی خان کو میاں شہباز شریف کا دوست سمجھا جاتا ہے اور وہ ہیں بھی،اس وقت مسلم لیگ (ن) میں اختلاف کرنے والی دوسری شخصیت زعیم قادری کا تعلق بظاہر پنجاب حکومت سے تھا مگر وہ دلی طور پر میاں نواز شریف کے زیادہ قریب ہیں یا تھے، یہی وجہ بنی کہ انہوں نے شہباز شریف اور حمزہ شریف کو ہی للکارا،چند افراد ہی جانتے ہوں گے کہ ترجمان پنجاب حکومت بننے سے پہلے زعیم قادری اور میاں شہباز شریف کے درمیان نجی اختلافات پیدا ہو ئے جو حدوں کو چھونے لگے اسی بنا پر وہ کئی ماہ تک منظر عام سے غائب رہے پھر نواز شریف کی مداخلت پر زعیم قادری نے نہ ختم ہونے والے اختلافات کو ختم کر ادیاتھا،خیال کیا جا رہا ہے کہ چوہدری نثار علی خان کے عمل کا یہ رد عمل تھا یہی وجہ بنی کہ پھنکار پھنکار سے آگے نہ بڑھ سکی اور ایک ہی للکار نے ان کی پھنکار کو بھی بڑی حد تک جھاگ میں بدل دیاکیونکہ محض دو دن قبل کی گئی تقریر اور اس پریس کانفرنس میں کی گئی باتوں میں کھلا تضاد تھا،ایسے تضادات پاکستانی قوم کی تقدیر میں لکھنے والے الگ مخلوق کا روپ دھار چکے ہیں انہوں نے مل کر(سبھی سیاسی جماعتوں نے) کاغذات نامزدگی میں سے کئی ذاتی معلومات کو حذف کر دیا تھا مگر سپریم کورٹ کے حکم پردیئے جانے والے بیان حلفی سے واضح ہوا کہ یہ سب تو ارب پتی ہیں،ان کے کاروبار،جائدادیں،اولادیں بیرون ملک ہیں ،کمال تو یہ ہے کہ توہین عدالت کیس بھگتنے والے احسن اقبال بھی عدالت میں کہتے ہیں کہ وہ بہت کچھ بیرون ملک چھوڑ کر پاکستان آئے تھے ۔حکومت کرنے ؟

error: Content is Protected!!