امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

نظام تعلیم

قارئین محترم ،آنکھ کتنی بھی خوبصورت ہو اگر آنکھ میں اللہ کا نور نہیں تو اندھی ہے کچھ دیکھ نہیں سکتی ایسی آنکھ جس کے چہرے پر سجی ہو وہ اسے آئنیے میں دیکھ بھی نہیں سکتا ایسی آنکھ دنیا کے لیے تو خوبصورت ترین ہو سکتی لیکن صاحب آنکھ کے لیے ایسی آنکھ دنیا کی بدصورت ترین ہے ٹھیک اسی طرح اگر ہماری زندگیوں میں قرآنی تعلیمات نہیں اور ہم شریعت محمدی ؐپر عمل پیرا نہیں تو ہم خوبصور ت باتوں سے صرف اپنے آپ کو جھوٹی تسلی ہی دے سکتے ہیں حقیقت یہ ہے کے ہم اندھیرے میں ہیں ۔ان کفر کے اندھیروں سے نکلنے کے لیے ہمیں اپنی زندگیوں میں قرآنی احکامات کو لازم کرنا ہوگا اورہر قسم کی مدد صرف اللہ تعالیٰ سے مانگنی ہو گی۔ اور مغربی طرزتعلیم کو چھوڑ کر اپنے سکول اور مدرسوں میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دینا ہوگا،موجودہ تعلیمی نظام کے ساتھ مسلم تہذیب و تمدن کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔مسلمانوں کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کو اچھے طریقے سے سیکھیں اور اپنے بچوں کی پرورش بھی اسی انداز سے کریں جو ہمیں اسلام سیکھاتا ہے۔ کیونکہ آج معاشرہ جس تیزی کیساتھ بدل رہا ہے اس نے ملت اسلامیہ کومختلف قسم کے مسائل سے دوچار کردیا ہے،مسلم معاشرے میں آئے دن ایسی چیزیں داخل ہورہی ہیں،جواسلامی معاشرت کے خلاف ہیں،اورمسلمانوں کے تشخص پرکاری ضرب لگا رہی ہیں،خاص طورسے مغربی تہذیب کی چکا چونداب مسلم نوجوانوں اورمسلم لڑکیوں کوبھی متاثرکرنے لگی ہے،اسی لئے مسلمانوں کی نئی نسل اپنے اندازولباس سے جدید تہذیب سے مرعوب ہوتی نظرآرہی ہے،نئی نسل کا مغربی تہذیب سے اس قدرمتاثرہونا اور اپنی وضع قطع کوبالائے طاق رکھ کرغیروں کا لباس اوران کے طورطریقوں کواختیارکرنا مسلم معاشرہ کے مستقبل کے لئے انتہائی خطرناک بات ہے،دوسری طرف مسلمانوں کی نئی نسل دینی واخلاقی تربیت سے محروم ہونے اوراسلامی تعلیمات سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ان خیالات اور افکار سے متاثرہوتی جارہی ہے۔جواسلام سے متصادم ہیں،اوراسلام میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔نئی نسل کے اس طرح کے اسلام مخالف خیالات سے ہم آہنگ ہونے کی متعددوجوہات ہیں جن میں سے ایک وجہ تویہ ہے کہ وہ اسلامی تہذیب ومعاشرت کا عام طورسے مشاہدہ نہیں کرپاتے ،جب بچے صبح کوٹی وی آن کرتے ہیں تواس پر ایسے کلچرکا مشاہدہ کرتے ہیں،جوعریاں تہذیب کا عکاس ہوتا ہے،اور مسلم تہذیب کا کوئی تصور اس میں موجود نہیں ہوتا،جب بچے اسکول جاتے ہیں تووہاں بھی وہ ایسا ہی کلچر دیکھتے ہیں،جس میں مسلم معاشرت نام کی بھی نہیں پائی جاتی،بلکہ اس کلچرمیں مغربیت اور عریانیت کے نظارے لمحہ بہ لمحہ نظرآتے ہیں،اس لئے ان بچوں پر آہستہ آہستہ وہی اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں،مسلمانوں کے پاس تعلیم کے خاطر خواہ ادارے نہ ہونے کی وجہ سے اب مسلم والدین اپنے بچوں کوایسے سکولوں میں بھیجنے کیلئے آمادہ ہوتے جارہے ہیں،جن پر عیسائی مشینری یا دیگر نظریات رکھنے والے افراد کا اثرورسوخ ہے،ان سکولوں میں مذہب ،اخلاقیات اورروحانیت کا دور دورتک نام ونشان نہیں ہوتا،ہاں عریاں تہذیب وکلچرکوفروغ دینے والی بہت سی چیزیں وہاں ضرورپائی جاتی ہیں،ان اداروں میں لڑکوں اور لڑکیوں کومخلوط تعلیم دی جاتی ہے جو معاشرے کی تباہی کا باعث ہے،جاری ہے

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:تیز رفتارموٹر ویگن کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوارنوجوان ہلاک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker