تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

موجود دور کے نوجوان

اللہ تعالیٰ نے انسان کو لاتعداد نعمتوں سے نوازا ہے ۔اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شمار انسان کے بس میں نہیں ۔انہیں نعمتوں میں سے ایک نعمت تندرستی اور حسن و جوانی ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہے ۔جہاں اللہ پاک نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ۔وہاں کچھ ڈیوٹیاں بھی لگائی ہیں ۔ اللہ کریم نے قرآن پاک میں فرمایا ، میں نے جنوں و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ، کیا ہم اتنی نعمتوں کے تصرف کے باوجود اللہ کی طرف سے لگائی ہوئی ڈیوٹی پوری کر رہے ہیں ؟ نوجوان جن کو کسی بھی معاشرے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔اور عر صہ شبا ب ہی وہ مثا لی و قت حیا ت ہو تا ہے۔ جب انسا ن میں کچھ انو کھا اور نا ممکن کر گزر نے کا جذ بہ جو بن پہ ہو تا ہے۔ زند گی کے آ غا ز و انجا م یعنی بچپن اور بڑھا پے میں کچھ غیر معمو لی کر نا تو کجا انسان کے اپنے وجو د کا انحصار دوسر وں پر ہو تاہے۔ وہ طفو لیت میں والدین کے سا یہ شفقت تلے جبکہ پیر ا نہ سا لی میں اولاد کے رحم و کر م پر تکیہ کیے ہو تاہے۔ یقینا جوانی، زند گی کا اہم تر ین اور گراں ما یہ دور ہے۔ روزِحسا ب ، جہا ں دنیوی زندگی با رے با لعمو م پو چھا جا ئے گا وہیں بیتی جو ا نی کے متعلق با لحصو ص با ز پر س ہو گی۔ اگر یہ عر صہ احکا م الٰہی کی بجا آ وری میں گز را ہو گا تو اللہ ما لک یو م حسا ب محشر کی کڑی دھو پ میں ایسے شخص کو اپنے عر ش عظیم کا سا یہ نصیب فر ما ئے گا ۔ اسی طر ح زنگین اور دل لکش جو ا نی میں برا ئی کا مو قع اور بھر پو ر طا قت ہو نے کے با و جو د اگر کو ئی محبت یو سفی کے سا تھ اپنے رب کے رنگ میں رنگا برا ئی سے اجتنا ب کر تا ہے۔ اور لذت گنا ہ پر محبت الٰہی کو تر جیح دینا ہے تو وہ اللہ کے مقر بین میں شا مل ہو جا تاہے۔
در جو ا نی تو بہ کر دن شیو ا ئے پیغمبر ی بلا شبہ دور حا ضر ما دی آ سا ئشو ں اور فر ا وا نیو ں کا دور ہے۔ آج کا انسان ما ضی کے شا ہو ں سے کہیں بڑھ کر ما دی وسا ئل اور ایجا دات سے لطف اندو ذ اور محفو ظ ہو رہا ہے۔ لیکن جدید ایجا دات میں سے مو با ئل کمپنیوں نے جس طرح ہما ری بیر و نی فضا کو شعا ع ریزی کے سا تھ الجھا رکھا ہے و یسے ہی ہما ری معا شر تی زندگی کو مکد ر کر رکھا ہے۔ ہما ری مصر و فیا ت ، فر صتیں، معمو لا ت ، تفریحا ت غر صیکہ ہما ری انفرا دی اور اجتما عی معا شر ت میں مو با ئل فو ن ڈراما نی تبدیلیاں لانے کا با عث بنا ہے۔ اس کے فو ا ئد کے سا تھ سا تھ، اس کے نا منا سب استعما ل سے بہت سی برا ئیوں معا شر ے میں عو د کر آ ئی ہیں۔ جن سے میں نو جوا ن طبقہ سب سے زیا دہ متا ثر ہو ا ہے۔ یہ حقیقت بھی فر ا مو ش نہیں کی جا سکتی کہ دو سر ے تر قی یا فتہ مما لک کی نسبت ، ہما ری عوا م مو با ئل پر زیا دہ ریجھی ہو ئی ہے۔ مقا م حیر ت ہے کہ ایک بمشکل نو جو ان کے پا س بھی ، مختلف احبا ب نو آ شنا سے ان کے نیٹ و رک کے مطا بق جی بھر کر بلا ضرورت لمبی با ت کر نے کے لیے ،نوجوانوں کی جیبوں میں کئی کئی سمیں موجود ہیں ۔آج کے دور میں ایک نوجوان کے پاس اتنے کپڑے نہیں ہوتے جتنی سمیں ہوتیں ہیں ۔مختلف کمپنیز کی سمیں جن پر مخصوص پیکجز لگے ہوتے ہیں ۔اور ان سموں اور پیکجز کے معاشرتی اور جسمانی بے شمار نقصان ہوتے ہیں ۔زیادہ لمبی بات موبائل پر سماعت اور دماغ و اعصاب پر انتہائی برے اثرات مرتب کرتیں ہیں ۔یادداشت ضعفِ اعصاب نظر کی کمزوری قوت سماعت کی کمزوری کے ساتھ ساتھ برین ٹیومر کے بھی خطرات ہیں ۔ذاتی مشاہدہ میں یہ بات آ چکی ہے ۔کہ موبائل پر لمبی بات کرنے والے حضرات میں چڑچڑا پن آ جاتا ہے ۔شعاعوں اور ویبریٹ کی وجہ سے درد سر متلی اور ہائی بلڈ پریشر کی شکائیت بھی آنے لگی ہیں ۔
جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ بے شمار معاشرتی برائیاں بھی جنم لے رہی ہیں ۔جن سے معاشرے کا امن برباد ہو رہا ہے ۔دشمنیاں بڑھ رہی ہیں ۔ایک نوجوان اپنے کام پر لگا ہوا ہوتا ہے ۔محنت مزدوری دوکان کاروبار یا آفس میں جوہی مس کال آتی ہے ۔یہ جوان اپنی تمام ڈیوٹیاں بھول جاتا ہے پھر اس کو ایک ہی ڈیوٹی یاد رہتی ہے کہ اب جب تک اس موبائل میں جان ہے میں اس کی جان نہیں چھوڑوں گا ۔خواہ میری اپنی جان نکل ہی کیوں نا جائے ۔جب تک موبائل کی بیٹری یا بیلنس ساتھ دیتا رہے ۔اس وقت تک نہ کھانے کا ہوش نہ پینے کا ۔نہ وقت کا پتہ حتیٰ کہ دنیا و مافیا سے بے خبر اپنی دُھن میں یہ جوان مگن ہے ۔یہ تو ہو گیا کاروبار کا نقصان ۔جب کسی آفسیر یا بڑے کو پتہ چلتا ہے تو پھر جھوٹ شروع ہو جاتے ہیں ۔بہانے بنانا شروع کر دیتے ہیں ۔
جبکہ اللہ پاک کی طرف سے لگائی گئی ڈیوٹی بھول گے کہ اللہ پاک نے انسان کی پیدائش کا مقصد کیا بیان فرمایا ہے ۔،،صرف عبادت،، سوچ تو ذہن میں آتی ہے کہ سارا دن عبادت جبکہ انسان کی کئی اور ضروریات بھی ہیں ۔اگر اللہ تعالیٰ اور پیارے پیغمبرö کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی گزاری جائے انسان کا ہر جائز فعل عبادت بن جائے گا ۔سنت کے مطابق بازار میں چلنا سنت کے مطابق کھانا پینا پہننا سونا جاگنا کاروبار کرنا حتیٰ کہ ایک ایک سانس جو سنت کے مطابق لی وہ عبادت بن جائے گی ۔مگر افسوس کہ ٹی وی سی ڈی کی جگہ اب موبائل سنبھال رہیں ہیں ۔
آج سے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میرے ایک دوست نے بتایا کہ میں نے اپنے بیٹے کو قرآن پاک حفظ کرنے کے لیے ایک مدرسے میں داخل کروایا دیا ہے ۔تقریباََ ایک سال بعد دوبارہ ملاقات ہوئی میں ان کے ڈرائینگ روم میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس کا وہی بیٹا آگیا ۔ بڑے پیار سے اسے بلایا اور کہا کہ بیٹا تھوڑا سا اپنا سبق تو سناو جب اس نے اپنا سبق سنایا تو میرے پاوں تلے سے زمین ہل گئی میرے ذہن میں تھا کہ ایک سال میں کافی حفظ کر لیا ہو گا ۔ مگر بچے نے کیا سنانا شروع کیا ،،،چھنوں کی آنکھ میں ایک نشہ ہے،،،میں محو حیرت بنا اس کی طرف دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں اس کا ابو آگیا استفسار پر اس کے والد محترم نے کہا کہ مدرسہ گھر سے دور تھا چار گلیاں کراس کر کے جانا پڑتا تھا اکیلا جاتا تھا ہمیں ڈر لگتا تھا اب صرف یہ مین روڈ کراس کرتا ہے سامنے سکول ہے وہاں بہت اچھی پڑھائی ہوتی ہے میں نے کہا کہ پڑھائی تو واقع بہت اچھی ہے اس میں تو کوئی شک نہیں بے حیائی کا کوئی اڈہ ہے ۔انتہائی رنجیدہ دل ہو کر وہاں سے اٹھ کر آگے۔اقبال کے کچھ اشعار یاد آگے
گونگی ہوگی آج زباں کہتے کہتے ، ہچکچا گیا میں خود کو مسلماں کہتے کہتے

یہ بھی پڑھیں  نئی موبائل سم نادرا سے تصدیق کے بعد جاری ہوگی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker