تازہ ترینکالمملک ساجد اعوان

نوکری نہ سہی رکشہ سہی

sajid awanگرمی اتنی زیادہ تھی کہ برداشت نہیں ہورہا تھا اور پنکھے کی ہوا بھی گرم تھی میں نے سوچا کہ کیا کروں رات کے نو بج رہے تھے اور جمعتہ المبارک کا دن تھا میں نے سوچا کہ ایئر کولر لے لیتے ہیں کیونکہ اے سی لگوانا اور پھر اسکا بل دینا ہمارے بس کی بات نہیں میں نے موٹر سائیکل نکالی اور ایئر کولر کی تلاش میں نکل پڑا پہلے سوچا کہ پلاسٹک کا کولر لے لیتاہوں پھر ایک دوست نے مشورہ دیا کہ لاہوری کولر لو کم از کم ہوا تو ٹھنڈی آئے گی صرف دوکانیں کھلی تھیں کیونکہ ٹائم بھی کافی ہوگیا تھا پہلی دوکان پر گیا تو اس نے قیمت نہ نہ دینے والی بتائی میں اگلی دوکان پر گیا تو وہاں میری ملاقات شفیق سے ہوئی جو کہ کولر بھی بنارہاتھا اور ساتھ ساتھ رکشہ بھی چلاتاہے مجھے شفیق پڑھا لکھا لگا میری شفیق سے بات ہوگئی اس نے کہاکہ بھائی آپ گھرجائیں کولر آپ کے گھرآجائے گا شفیق نے میرا موبائل نمبر لیا اور میں گھر واپس آگیا ٹھیک آدھے گھنٹے بعد شفیق کولر لے کر آگیا میں نے پوچھا بھائی آپ یہ کام کب سے کررہے ہیں تو شفیق میرے پاس بیٹھ گیا اور اسکی آنکھوں میں آنسو نکل آئے کہنے لگا بھائی میں نے 1992ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا ہے اور مجھے ایک دفعہ کراچی سے 10لاکھ روپے انعام بھی ملا اسکے بعد میں دوبئی چلا گیا وہاں پر بھی کام نہ چل سکا پھر میں پاکستان واپس آگیا نوکری ڈھونڈتارہا کوئی نوکری نہ مل سکی میرے پاس ایک لاکھ روپے تھے میں نے رکشہ لے لیا اور لوگ بڑی بدتمیزی سے پیش آتے ہیں وہ یہی سمجھتے ہیں کہ میں ان پڑھ ہوں لیکن میں نے کبھی کسی کا بُرا نہیں سوچا میری تین بیٹیاں ہیں محنت مزدوری کرتاہوں کولر بھی بناتاہوں اورخودلوگوں کے گھرچھوڑ کرآتاہوں شفیق نے سلام کیا اور چلا گیا مجھے شفیق کا گفتگوکرنا اور ڈیل کرنا اتنا اچھا لگا کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں تھے جس کا میں جواب دے سکا۔ ہمارے ملک میں نہ جانے اس طرح کے کئی نوجوان دھکے کھا رہے ہیں ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کو ہمیشہ دبا دیاجاتاہے ہمارے حکومتی عہدیداران صرف اور صرف پالیسیاں بناتے ہیں یا نوٹس لیتے ہیں لیکن آج تک کوئی عمل ہوتا نظر نہیں آیا ہر جگہ پر غریب آدمی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے اس کا سوائے اللہ کے کوئی نہیں ہے بڑے بڑے کرپشن کرنے والے تو عیاشیوں کی زندگیاں گزارتے ہیں لیکن غریب کا بچہ اگر پڑھ بھی جاتاہے تو وہ زیادہ تر ملوں میں دھکے کھاتاہے یا پھر رکشہ چلا کر اپنا اور گھروالوں کا پیٹ پالتاہے ابھی تو بات ہورہی تھی ایک پڑھے لکھے کی جو رکشہ چلاتاہے ساتھ ساتھ عوام کافی پریشان ہے حکومت نے ٹیکس لگا کر ضرورت کی ہر چیز مہنگی کردی غریب آدمی محنت کرتاہے چند روپے کماتاہے یا تو وہ بجلی کے بل دیتاہے یا پھر ایک ٹائم کی روٹی نصیب ہوتی ہے جو بھی حکومت آتی ہے اس نے عوام کا جینا حرام کیاہے حکومت کو چاہیئے کہ مہنگائی کم کرے تاکہ عوام خوشحال ہو اور ہر طرف سکون وسلامتی ہو اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو اچھے روزگار مہیا کئے جائیں تاکہ شفیق جیسے لوگ رکشہ چلانے کی بجائے کسی آفس میں بیٹھ کر کام کرسکیں۔
اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو

یہ بھی پڑھیں  ڈرون حملے کےملزم پکڑنے کیلئے’’پٹھان پولیس‘‘واشنگٹن میں چھاپہ مارے، راناثناءاللہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker