تازہ ترینفن فنکار

بےمثال اورلازوال سیکٹروں دھنوں کےمالک نوشادعلی کی یادیں آج بھی تازہ

لاہور : برصغیرکی فلموں میں میوزک کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ فلم انڈسٹری میں یوں تو کئی نام مشہور ہوئے لیکن نوشاد علی اپنی لازوال دھنوں کی وجہ سے موسيقاراعظم قرار پائے۔  نوشاد علی کے گيتوں کو سن کر موسیقار نوشاد کے لازوال فن کی ايک جھلک سامنے آتی ہے۔ 25 دسمبر 1919ء کو لکھنومیں پیدا ہونے والے نوشاد علی کو دلوں کو چھولينے والی دھنیں تشکیل دینے میں کمال حاصل تھا۔1940میں فلم پریم نگر سے بطور موسیقار اپنے کيرئيرکا آغاز کرنے والے نوشاد نے تمام کیرئر میں ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار تخلیق کیے۔ چھ دہائیوں میں پھیلے اپنے فلمی سفر میں نوشاد نے کل 67 فلموں کیلئے کئی یادگار دھنیں تخلیق کیں جن میں لتا منگیشکر، محمد رفیع ، میڈم نور جہاں اور مکیش جیسے گلوکاروں نے نوشاد صاحب کے بنائے گانے گا کر نام کمایا۔ رتن، مغل اعظم ، گنگا جمنا، دل لگی، بیجو باورا، انداز، امر اور آن جیسی فلموں میں دل کو موہ لینے والی موسیقی تیار کرنے والے نوشاد علی کا کمپوز کيا ہوا ہر گانا اپنا جدا رنگ رکھتا ہے۔ نوشاد کے فن کے اعتراف میں انہیں کئي اعزازات  سے بھی نوازا گیا۔ 86 برس کی عمر میں بے پناہ یادگار نغمے شائقین کی نظر کرکے نوشاد خالق حقیقی سے جاملے۔

یہ بھی پڑھیں  ہم نے گزرے سال 2015 میں کیا کھویا ؟۔۔۔کیا پایا؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker