پاکستانتازہ ترین

گزشتہ چار سالوں میں1166 ارب کے نئے کرنسی نوٹ چھاپے گئے

اسلام آباد ﴿بیورو چیف﴾قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران1166 ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ چھاپے گئے ہیں ،اوورسیز پاکستانیوں نے تین سالوں میں 37.65 ارب امریکی ڈالرز کا غیر ملکی زرمبادلہ پاکستان بھیجا جبکہ سیلاب اور امن وامان کے بڑھتے ہوئے اخراجات جی ڈی پی کے4.7 فیصد خسارے کا اندازہ لگایا گیا ہے ۔جمعہ کے قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی وقفے سوالات کے دستاویزات میں وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے اراکین اسمبلی کے سوالات کے تحریری جواب میں کہا ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں کرنسی نوٹوں کی طباعت پر افراد زر براہ راست متاثر نہیں کرتی ہے اور گردشی کرنسی میں اضافے کی ذریعے جب رقم کی فراہمی میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے تو افراط زر کا دبائو کا سامنا ہوتا ہے اور پرانے نوٹوں کی تبدیلی کے لئے بھی کرنسی نوٹوں کی طباعت کی ضرورت ہوتی ہے جس سے گردشی نوٹوں میں اضافے نہیں ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے افراط زر پر قابو پانے کیلئے درست مالیتی پالیسی کے ذریعے مارچ 2012 ئ میں افراط زر10.8 فیصد تک محدود کیا گیا ہے اور مالیاتی انضباط کو بھی برقرار رکھا گیا ہے جبکہ اخراجات کے محتاط انتظام کے ذریعے سادگی کے انتظامات اور انتظامی طریقہ عمل سے اخراجات محدود رکھے جارہے ہیں ۔وزیر خزانہ نے تحریری جواب میں مزید کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں 5 روپے کے 7 ہزار 6 ملین روپے ،10 روپے کے27 ہزار 150 ملین روپے ،20 روپے کے 14 ہزار4 سو40 ملین روپے ،50 روپے کے 30 ہزار ملین روپے ۔100 روپے کے92 ہزار 500 ملین روپے ۔500 روپے کے 2 لاکھ16 ہزار500 ملین روپے ،1000 روپے کے6 لاکھ76 ہزار ملین روپے جبکہ 5000 روپے کے ایک لاکھ 2 ہزار 500 ملین روپے کے نئے کرنسی نوٹ چھاپے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کی شرح ایک جیسی ہیں اور گاڑیوں کی درآمد پر مختلف شرحوں پر ڈیوٹیاں وصول کی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران مالیاتی خسارے کو کم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔بجٹ 2011-12 ئ میں خسارے کا ہدف جی ڈی پی کا4 فیصد مقرر کیا گیا تھا لیکن حالیہ سیلابوں اور ملک میں امن وامان کی صورت حال پر بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے جی ڈی پی کے 4.7 فیصد خسارے کا اندازہ لگایا گیا ہے اور غیر میزانیہ اخراجات سے پرہیز کرنے کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں اور محاصم اکٹھے کرنے اور اخراجات کی ماہانہ نگرانی کی جارہی ہے انہوں نے بتایا کہ یو این ڈی پی کے اعدادو شمار کے مطابق سال 2011 کی بابت پاکستان میں معمول سے کم انسانی ترقی کی کٹیگری میں 145 ویں نمبرپر ہے جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان غربت مکائو فنڈز ،فیملی ہیلتھ پروگرام،پولیو کا خاتمہ سمیت دیگر پیکیجز کے ذریعے غریبوں اور بے یارومددگار طبقات کو نقد امداد جیسے پروگرام شروع کئے گئے ہیں تا کہ انسانی ترقی کے عشاریوں کو بہتر بنایا جا سکے انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ضرورت کی بنیاد پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مارکیٹ سے متعلق بنائے گئے ٹریژری بلوں کے ذریعے سے بینک سے قرضہ لیتی ہے اور گزشتہ چار سالوں کے دوران سال 2007-08 ئ میں 688.7 ،2008-09 ئ میں ایک سو14 ملین روپے ،2009-10 ئ میں 41.9 ملین روپے کا قرضہ لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  عوام کوچاہیے وہ آئندہ الیکشن میںاچھی شہرت والےافراد کو منتخب کریں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker