پاکستان

توہین عدالت کیس: وزیراعظم گیلانی حاضری سے مستثنیٰ‌

اسلام آباد(ڈیسک نیوز)این آر او کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدر آمد نہ کرنے پر وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت نوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسنکو جواب داخل کرانے کیلئے یکم فروری تک مہلت دیدی ہے۔ وزیراعظم کو حاضری سے مستثنیٰ‌ قرار دیدیا گیا ہے.وزیراعظم کو توہین عدالت کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ وزیراعظم نے پہلے خود دلائل دیے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں‌الزام میں آیا باقی لوگ عدلیہ کے احترام میں‌ آئے ہیں .مورخ لکھے گا کہ میں عدالت میں پیش ہوتا رہا .انہوں‌نے کہا کہ میں بھی پانچ چھ سال جیل میں‌ رہا . عدالتی عمل سے اچھی طرح آگاہ ہوں .آج تک کسی جج نے میرے خلاف شکایت نہیں کی . آئین کا احترام کرتے ہیں ہم نے ہی آئین کو بحال کیا. دنیا بھر میں‌ صدر ,وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو استثننیٰ حاصل ہوتا ہے . ہم عدالتی فیصلوں‌ پر عمل کرتے ہیں لیکن آئینی روح کے مطابق کرتے ہیں . وزیراعظم کے دلائل مکمل ہوئے تو جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ہم وزیراعظم کے عدالت میں‌ پیش ہونے کی ستائش کرتے ہیں .جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آج تاریخی دن ہے کہ حکومتی سربراہ عدالتی احترام میں سپریم کورٹ پیش ہوا.وزیراعظم کے وکيل اعتزاز احسن نے دلائل ديتے ہوئے اين آر او عمل درآمد کيس پر سيکرٹری قانون کی بھيجی گئی سمری کے حوالے سے کہا کہ وہ يہاں وزير اعظم کے دفاع کے لیے موجود ہيں اور سيکرٹری قانون کے دفاع سے ان کا کوئی تعلق نہيں. انہوں نے موقف اختيار کيا کہ صدر زرداری جب تک صدر ہیں آئين کے آرٹيکل 248 کے تحت سوئز حکام کو خط نہيں لکھا جاسکتا . انہوں نے مزيد کہا کہ صدر کے عہدہ چھوڑنے کے بعد انکے خلاف سپريم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد ہو سکے گا. سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن کو کہا کہ آپ ہمیں آئین کے آرٹیکل 248 پر مطمئن کردیں تو یہ معاملہ ختم ہوجائے گا .اس موقع پر جسٹس کھوسہ نے ريمارکس ديے کہ اگر کسی کو استثنیٰ حاصل ہے تو بنچ کو آگاہ کيا جانا چاہيے. جسٹس سرمد نے استفسار کيا کہ اگر عدالت ثابت کردے کہ صدر کو استثنیٰ حاصل نہيں تو کيا پھر خط لکھ ديا جائے گا؟ جسٹس ناصر الملک نے اس موقع پر ريمارکس ديے کہ يہ ابتدائی سماعت ہے ۔ کسی پر فرد جرم عائد نہيں کی جارہی ۔ اعتزاز احسن نے عدالت سے سخاوت کا مظاہرہ کرنے اور ريکارڈ کو پڑھنے کے لیے ايک مہينے کی مہلت طلب کی جس پر عدالت نے اعتزاز احسن کو يکم فروری کو جواب داخل کرنے کا حکم ديتے ہوئے سماعت يکم فروری تک ملتوی کر دی اور وزيراعظم کو کيس ميں حاضری سے استثنیٰ دے ديا گيا۔ قبل ازیں چودھری شجاعت، اسفند یار ولی ، وفاقی وزرا ، وزیراعلیٰ‌ سندھ قائم علی شاہ، وزیر قانون مولا بخش چانڈیو، گورنر لطیف کھوسہ، قمر زمان کائرہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں.

یہ بھی پڑھیں  نامزدوزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف سولہ سال بعدبطوروزیراعظم پاکستان حلف اٹھائیں گے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker