تازہ ترینکالم

سیاست اور صحافت تو عبادت ہے مگر

numan(گزشتہ سے پیوستہ )دنیائے کا ئنات کی ایڈ منسٹریشن کے شہنشاہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کُرتہ کے بارے بھری مجلس میں عوام ہی میں سے ایک شخص اگر یہ پوچھ سکتا ہے کہ جو کپڑا آپ رضی اللہ تعالی ٰ عنہ کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصے کا بیت المال میں سے ملا ہے اُس کپڑے سے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کرتہ تیار نہیں ہو سکتا تھا یہ کُرتہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیسے تیار کرایا ہے ؟تو اِس موقع پر مُرادِ رسول ﷺ نے انتقامی لہجہ نہیں اپنایا اور اپنے کسی ’’کمانڈر ‘‘ کو حکم نامہ جاری نہیں کیا کہ اِس شخص کو اُٹھا کر امیر المومنین کے سامنے بولنے کا ’’مزہ ‘‘ چکھا دو؟بلکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت ہی اطمینان اور خوش دلی سے سوال کرنے والے کی تسلی اور تشفی کی اور فر مایا کہ ’’ جو کپڑا میرے بیٹے کو بھی ملا تھا اُس نے اپنے حصے کا کپڑا مجھے دے دیا ہے اور میں نے اپنا اور بیٹے کا کپڑا ملا کر کُرتہ تیار کیا ہے ا،س اطمینان بخش جواب سے وہ شخص مطمئن ہو گیا !کیا ہماری عوام میں وہ جذبہ اور ہمت ہے کہ وہ ’’عوامی نمائندگان‘‘سے پوچھ سکے کہ جب آپ پہلی مرتبہ الیکشن
جیتے تھے تو آپ کے پاس ٹوٹی پھوٹی سائیکل بھی نہیں تھی اور آج آپ ’’لینڈ کروزرز ‘‘ اور ’’پیجارو گروپ ‘‘ میں شمار ہوتے ہیں اور آپ کے پاس چند گز زمین ہوتی تھی مگر آج آپ ہزاروں مربع اراضی کے اکلوتے وارث اور کرتا دھرتا ہیں ؟لوگوں کے ذہن زرخیز ہیں مگر سیاسی جماعتوں نے برادریوں میں جو ٹاؤٹ پال رکھے ہیں اُن کے ذہن بنجر اور سوچیں کھردری ہیں اُن کے پیشِ نظر نظریہ یا مقصد کوئی اہمیت نہیں رکھتا چند ٹکے ہی اُن کا مطمع نظر ہوتے ہیں جن کی خاطر وہ اپنا ایمان اور ضمیر تک اِ ن سیاسی لٹیروں اور فصلی بٹیروں کے پاس گروی رکھ دیتے ہیں اور اِنہی کے اشاروں پر بندروں کی طرح ناچتے رہتے ہیں اور پھر جب الیکشن کا موسم آتا ہے تو یہی ٹاؤٹس اپنے ’’سیاسی گروں ‘‘ کے حُب الوطنی کی یوں قسمیں کھاتے ہیں جیسے بیت المال کا پیسہ ہمارے نمائندگان ’’بیتِ مال ‘‘ یعنی گھر کا مال سمجھ کر کھاتے ہیں اور ڈکار تک بھی نہیں لیتے، جا پانیوں نے جنگ عظیم دوم کے بعد یہ فارمولہ عام کیا تھا کہ ’’گھر بناؤ کچا اور کاروبار کرو پکا ‘‘ مگر آج ہمارے سیاستدان گھر بھی پکا اور کاروبار بھی ’’پکا ‘‘ کرنے کی فکر میں سرگرداں رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ہم سب لوگ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کے مقروض ہیں، کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبد العزیزؓ کا سیب کھانے کو جی چاہا آپ کے رشتہ داروں میں سے کسی عزیز نے ہدیہ کے طور پر آپ کے پاس سیب بھیج دیا ، آپؓ نے اس سیب کی بہت تعریف کی کہ اس
کی خوشبو بہت اچھی ہے اور رنگ بھی خوب ہے پھر آپؓ نے غلام سے کہا کہ جس شخص نے یہ سیب بھیجا ہے اس سے میرا شکریہ اور سلام کہنا اور کہنا کہ آپ کا ہدیہ بہت اچھا ہے اور سیب واپس کیا ہے کسی نے عرض کیا کہ اے میر المومنینؓ یہ ہدیہ بھیجنے والا تو آپؓ کا برادر عم زاد ہے اور وہ آپؓ کے اہل بیت سے ہے نیز یہ کہ رسولِ رحمت ﷺ بھی ہدیہ قبول فر مایا کرتے تھے یہ سن کر آپؓ نے فرمایا تم پر حیف ہے !ہدیہ تو رسولِ رحمت ﷺ کے لیے ہدیہ تھایہ تو ہمارے لیے رشوت ہے ‘‘آج پورے باغ کے باغ تک ڈکار لیے جاتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے
’’راہنمایانِ قوم ‘‘ اپنی جماعت اور لیڈر سے مخلص نہیں ہیں وہ غریب عوام کے ساتھ کتنا مخلص ہوں گے ؟ آج اگر اِدھر ہیں توکل اُدھر ! یہ فصلی بٹیرے اور نقلی لٹیرے آج اگر اس شاخ پر تو کل اُس شاخ پر کنووں کی طرح کائیں کائیں کرتے نظر آئیں گے اور ’’ہر گھوٹ کی بُوا‘‘ والا کردار اس خوبصورتی کے ساتھ نبھاتے ہیں کہ کشور حسیں کی ’’باشعور ‘‘عوام کو ادراک ہی نہیں ہوتا کہ جو اپنی قیادت کے ساتھ مخلص اور وفادار نہیں ہے وہ ہمارے ساتھ کس طرح وفادار اور ہمارا ہمدرد ہو سکتا ہے ؟ ہمیں پھر الیکشن میں ذات ،برادری اور تعلقات نبھانے کے لیے تمام تر اصول ، ضابطے اور قوانین نظر انداز کرنے پڑتے ہیں دیانتداری ، اصول پرستی ، حُب الوطنی اور کردار کو ہم لوگ یکسر بھلا دیتے ہیں جس کا خمیازہ بعد میں ہمیں بھگتنا پڑتا ہے اور ہم پر وہ لوگ مسلط کر دیے جاتے ہیں یا ہو جاتے ہیں جن کی امانت، دیانت ، شرافت ، صداقت اور حُب الوطنی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ آنے والا وقت یہ سب چیزیں اُس وقت آشکار کر دیتا ہے اور جب اخبارات کے
صفحات اور ٹیلی ویژن کی سکرین پر پھیلی اُن کی ’’حُب الوطنی ‘‘اور ’’امانت و دیانت ‘‘ کی لیڈ سٹوریاں پڑھنے اور سُننے کو نصیب ہوتی ہیں توسب کچا چٹھا کھل کر سامنے آجاتا ہے آئندہ الیکشن میں اگر عوام نے پھر وہی لوٹ کھسوٹ کے ماہرین کا انتخاب کیا اور اُنہی لو گوں کو منتخب کیا جنہوں نے ملک و قوم کو غیروں کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے تو پھر یہ انٹر نیشنل لُٹیرے بچا کھچا ملک بھی کھا جائیں گے اور ڈکار بھی نہیں لیں گے آئندہ الیکشن میں اگر امیدوار کے لیے ’’امانت ‘‘و ’’دیانت ‘‘یعنی آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ ہی کے معیار کو لازم قرار دیا جائے تو آئندہ اسمبلی کردار کے کھرے اور نیتوں کے اُجلے لوگوں کا ایک ایسا مرکز ہوگی جہاں سے ملک و قوم کی اصلاح و فلاح کے فیصلے ہوا کریں گے اور بجائے واشنگٹن کے مفادات کے خالصتاََ عوامی مفادات کے لیے سوچ بچار ہو گی ایسا ہو نا نا ممکن تو نہیں ہے مگر مشکل ضرور ہے ، اس موقع پرعوام کو بھی کچھ شعور اور احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گااور ذات برادری کے سے نکل کر امیدوار کے کردار و افکار کو مدِ نظر رکھنا ہو گا اب بھی اگر عوام نے شعورحاصل نہ کیا تو پھر رہے نام اللہ کاnote

یہ بھی پڑھیں  منشیات ایک لعنت

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker